Wednesday, October 14, 2026
معیشت

ریاض کے گورنر نے 12ویں ریاض اکنامک فورم کا افتتاح کیا

ریاض کے گورنر نے 12ویں ریاض اکنامک فورم کا افتتاح کیا

ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز نے 12ویں ریاض اکنامک فورم کا افتتاح کیا، جو 12 سے 14 اکتوبر 2026 تک ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں منعقد ہو رہا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، افتتاح خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں اور ان کی جانب سے کیا گیا۔

گورنر نے امید ظاہر کی کہ یہ ایڈیشن فورم کی کامیابیوں کو آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ اس کے مطالعات اور مباحثے عملی بصیرت فراہم کریں گے جو مملکت سعودی عرب کی تیز رفتار ترقیاتی اور اقتصادی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔

فورم فیصلہ سازی کی حمایت اور جامع ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ 2003 میں اپنے آغاز سے لے کر اب تک اس نے ایک مخصوص طریقہ کار قائم کیا ہے جو ہر ایڈیشن کے بعد بھی اس کے مسلسل اثر کو یقینی بناتا ہے۔

تقریب میں متعدد شہزادے، وزراء، حکام اور سعودی عرب میں تعینات سفیروں نے شرکت کی۔

کیا یہ فورم اپنے مطالعات اور مباحثوں کے ذریعے فیصلہ سازی میں حقیقی کردار ادا کر پاتا ہے؟ یہ سوال اس وقت زیادہ اہم ہو جاتا ہے جب مملکت تیز رفتار اقتصادی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔

فورم کا آغاز 2003 میں ہوا تھا۔ تب سے اب تک یہ اپنے طریقہ کار کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو ہر ایڈیشن کے اختتام کے بعد بھی اس کے اثر کو زندہ رکھتا ہے۔ یہی تسلسل اسے دیگر اقتصادی اجتماعات سے ممتاز کرتا ہے۔

کیا کوئی اقتصادی فورم اپنے ایڈیشن ختم ہونے کے بعد بھی اثر رکھ سکتا ہے؟ فورم کے منتظمین کے مطابق اس کا طریقہ کار یہی یقینی بناتا ہے۔

12ویں ایڈیشن کا انعقاد 12 سے 14 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا۔ یہ تین روزہ اجتماع ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں ہو رہا ہے، جہاں شہزادے، وزراء، حکام اور سفیر جمع ہوئے۔

گورنر ریاض نے افتتاح کے موقع پر فورم کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور امید ظاہر کی کہ اس ایڈیشن کے مطالعات اور مباحثے عملی بصیرت دیں گے۔ ان کا یہ بیان مملکت کی ترقیاتی اور اقتصادی تبدیلیوں کے تناظر میں سامنے آیا۔

کیا فورم کے مباحثے عملی بصیرت میں بدل پاتے ہیں؟ گورنر کی امید یہی ہے کہ اس ایڈیشن کے مطالعات اور مباحثے ایسی بصیرت فراہم کریں گے جو مملکت کی تبدیلیوں کے ساتھ چل سکیں۔

فورم کو فیصلہ سازی کی حمایت اور جامع ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا گیا ہے۔ یہ کردار اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب مملکت تیز رفتار ترقیاتی اور اقتصادی تبدیلیوں سے گزر رہی ہو۔

کیا فیصلہ سازی کو اقتصادی فورم سے تقویت مل سکتی ہے؟ فورم کا مقصد یہی ہے، اور اس کا تسلسل 2003 سے جاری ہے۔

افتتاح کی تقریب میں شہزادوں، وزراء، حکام اور سعودی عرب میں تعینات سفیروں کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ فورم کو وسیع سطح پر توجہ حاصل ہے۔ تاہم ایس پی اے کی رپورٹ میں شرکاء کی تعداد یا نام تفصیل سے نہیں دیے گئے۔

کیا سفیروں کی شرکت اقتصادی فورم کو بین الاقوامی رنگ دیتی ہے؟ رپورٹ کے مطابق تقریب میں سعودی عرب میں تعینات سفیر موجود تھے، مگر اس کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔

فورم کا 12واں ایڈیشن اپنے قائم شدہ طریقہ کار کے تحت جاری ہے۔ 2003 میں آغاز کے بعد سے فورم نے اپنے اثر کو ہر ایڈیشن کے بعد بھی برقرار رکھنے کا دعویٰ کیا ہے، اور یہی اس کی شناخت بن گیا ہے۔

کیا کوئی طریقہ کار اتنے سالوں تک اپنا اثر برقرار رکھ سکتا ہے؟ فورم کے مطابق اس کا مخصوص طریقہ کار یہی کرتا ہے۔

گورنر ریاض نے فورم کے ایڈیشن کو فورم کی کامیابیوں پر استوار کرنے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے مطالعات اور مباحثے عملی بصیرت فراہم کریں جو مملکت کی تیز رفتار تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔

کیا مطالعات اور مباحثے عملی بصیرت کا متبادل بن سکتے ہیں؟ گورنر کی امید کے مطابق یہ دونوں مل کر فورم کے مقصد کو پورا کرتے ہیں۔

فورم 12 سے 14 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا۔ اس کا مقام ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر ہے، اور اس کا افتتاح خادم حرمین شریفین کی سرپرستی میں ان کی جانب سے کیا گیا۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں فورم کے ایجنڈے، شرکاء کی تعداد، یا اس کے نتائج کی تفصیل نہیں دی گئی۔ یہی وہ پہلو ہیں جن پر مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

12ویں ریاض اکنامک فورم کا افتتاح کس نے کیا؟ ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز نے 12ویں ریاض اکنامک فورم کا افتتاح کیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ افتتاح خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں اور ان کی جانب سے کیا گیا۔ تقریب میں متعدد شہزادے، وزراء، حکام اور سعودی عرب میں تعینات سفیروں نے شرکت کی۔

فورم کہاں اور کب منعقد ہو رہا ہے؟ فورم 12 سے 14 اکتوبر 2026 تک ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں منعقد ہو رہا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ 12واں ایڈیشن ہے۔ افتتاح کی تقریب میں شہزادوں، وزراء، حکام اور سفیروں کی موجودگی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں ایجنڈے یا شرکاء کی تعداد کی تفصیل نہیں دی گئی۔

گورنر ریاض نے فورم کے بارے میں کیا امید ظاہر کی؟ گورنر ریاض نے امید ظاہر کی کہ یہ ایڈیشن فورم کی کامیابیوں کو آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ اس کے مطالعات اور مباحثے عملی بصیرت فراہم کریں گے جو مملکت سعودی عرب کی تیز رفتار ترقیاتی اور اقتصادی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ بیان افتتاح کے موقع پر سامنے آیا۔

فورم کا آغاز کب ہوا اور اس کا طریقہ کار کیا ہے؟ فورم کا آغاز 2003 میں ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق اس نے اپنے آغاز سے لے کر اب تک ایک مخصوص طریقہ کار قائم کیا ہے جو ہر ایڈیشن کے بعد بھی اس کے مسلسل اثر کو یقینی بناتا ہے۔ فورم کو فیصلہ سازی کی حمایت اور جامع ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا گیا ہے۔

فورم میں کون کون شریک ہوا؟ ایس پی اے کے مطابق افتتاح کی تقریب میں متعدد شہزادے، وزراء، حکام اور سعودی عرب میں تعینات سفیروں نے شرکت کی۔ رپورٹ میں شرکاء کے نام یا تعداد تفصیل سے نہیں دی گئی۔ فورم 12 سے 14 اکتوبر 2026 تک ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں جاری رہے گا۔

فورم کے مقاصد کیا بتائے گئے ہیں؟ فورم کو فیصلہ سازی کی حمایت اور جامع ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا گیا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق گورنر ریاض نے امید ظاہر کی کہ اس ایڈیشن کے مطالعات اور مباحثے عملی بصیرت فراہم کریں گے جو مملکت کی تیز رفتار ترقیاتی اور اقتصادی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ رپورٹ میں فورم کے نتائج کی تفصیل نہیں دی گئی۔