ریاض ریجن کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز، جو ریاض اکنامک فورم کے اعزازی صدر بھی ہیں، کل 12ویں ریاض اکنامک فورم کا افتتاح کریں گے۔ یہ افتتاح خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں اور ان کی جانب سے ہوگا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 11 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس موقع پر اعلیٰ حکام، ماہرین، ماہرین خصوصی اور سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندے موجود ہوں گے۔
فورم میں پانچ مطالعات پر بحث ہوگی جو ترجیحی اقتصادی اور ترقیاتی مسائل سے متعلق ہیں۔ ان مطالعات میں سے ایک مطالعہ زراعت میں اسمارٹ ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینے سے متعلق ہے، جس میں مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لا کر مملکت میں خوراک اور پانی کی سلامتی کو حاصل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ کیا یہ ٹیکنالوجیز مملکت کے زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز کا مؤثر حل فراہم کر سکتی ہیں؟
فورم ایک اور مطالعے کا جائزہ بھی لے گا جو مقامی افرادی قوت کے درمیان علم اور مہارت کی منتقلی اور مقامی بنانے کی حکمت عملیوں اور سعودی اداروں کی کارکردگی پر ان کے اثرات سے متعلق ہے۔ یہ مطالعہ علم اور مہارت کی منتقلی اور مقامی بنانے کے طریقہ کار کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ قومی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، پائیدار ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر میں معاونت اور کارکردگی کی افادیت کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ کیا اداروں میں علم کی منتقلی کے موجودہ ماڈلز کافی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں؟
ریاض اکنامک فورم نے اپنے آغاز 2003 سے لے کر اب تک ترجیحی اقتصادی اور ترقیاتی مسائل کو خصوصی مطالعات اور ماہرین، ماہرین تعلیم، فیصلہ سازوں اور نجی شعبے کے نمائندوں کی وسیع شرکت کے ذریعے مسلسل زیر بحث لایا ہے۔ کیا یہ تسلسل ہی فورم کی سب سے بڑی طاقت ہے؟
گزشتہ ایڈیشنز نے مختلف اقتصادی اور ترقیاتی مسائل سے متعلق سفارشات اور اقدامات پیش کیے ہیں۔ ان سفارشات نے ترقی سے متعلق فیصلوں کو معلومات فراہم کرنے میں مدد دی اور فورم کے اس کردار کو مضبوط کیا کہ وہ اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے تاکہ قومی معیشت کو متاثر کرنے والے مسائل پر بات چیت کی جا سکے اور فیصلہ سازی میں معاونت کی جا سکے۔ کیا فورم کی سفارشات عملی پالیسی سازی تک پہنچ پاتی ہیں؟
اس بار فورم کے ایجنڈے میں شامل پانچ مطالعات میں سے دو کا تذکرہ ایس پی اے کی رپورٹ میں واضح طور پر کیا گیا ہے، جبکہ باقی مطالعات کی تفصیلات اس رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔ کیا باقی مطالعات بھی اسی نوعیت کے ترجیحی مسائل سے متعلق ہوں گے؟
فورم کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مملکت متعدد شعبوں میں ترقیاتی اور اقتصادی اصلاحات کے عمل سے گزر رہی ہے۔ خوراک اور پانی کی سلامتی جیسے موضوعات پر توجہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مسائل قومی ترجیحات میں شامل ہیں۔ کیا زراعت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال مملکت کے لیے طویل المدتی حل فراہم کر سکتا ہے؟
اسی طرح علم اور مہارت کی منتقلی اور مقامی بنانے کا موضوع انسانی سرمائے کی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ سعودی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے قومی افرادی قوت کی صلاحیتوں میں اضافہ ایک اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا ادارہ جاتی سطح پر علم کے تحفظ کے لیے کوئی منظم فریم ورک موجود ہے؟
فورم میں اعلیٰ حکام کی شرکت اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ ان مطالعات کے نتائج کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ گزشتہ ایڈیشنز کی سفارشات نے ترقیاتی فیصلوں کو معلومات فراہم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ کیا اس بار بھی سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق فورم کا 12واں ایڈیشن کل منعقد ہوگا، تاہم رپورٹ میں فورم کے مقام، دورانیے یا شرکاء کی تعداد کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح پانچ مطالعات میں سے صرف دو کے موضوعات کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ باقی تین مطالعات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ کیا ان تفصیلات کا اعلان فورم کے دوران کیا جائے گا؟
ریاض اکنامک فورم کا تسلسل 2003 سے جاری ہے، اور ہر ایڈیشن میں ترجیحی اقتصادی اور ترقیاتی مسائل پر خصوصی مطالعات پیش کی جاتی رہی ہیں۔ اس طویل سفر میں فورم نے ماہرین، ماہرین تعلیم، فیصلہ سازوں اور نجی شعبے کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ کیا یہ کثیرالجہتی شرکت ہی فورم کے نتائج کو زیادہ قابل قبول بناتی ہے؟
فورم کے زیر بحث مطالعات میں سے ایک کا تعلق زراعت میں اسمارٹ ٹیکنالوجیز کے استعمال سے ہے، جس کا مقصد خوراک اور پانی کی سلامتی کو حاصل کرنا ہے۔ اس مطالعے میں مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ کیا مملکت میں ان ٹیکنالوجیز کے استعمال کی راہ میں کوئی رکاوٹیں موجود ہیں؟
دوسرے مطالعے کا تعلق علم اور مہارت کی منتقلی اور مقامی بنانے کی حکمت عملیوں سے ہے، اور اس کے سعودی اداروں کی کارکردگی پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس مطالعے میں قومی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، پائیدار ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر میں معاونت اور کارکردگی کی افادیت کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا۔ کیا علم کی منتقلی کے لیے اداروں میں کوئی باقاعدہ نظام موجود ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق فورم کے افتتاح کی تقریب کل ہوگی، جس میں شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز بطور اعزازی صدر شرکت کریں گے۔ تقریب میں اعلیٰ حکام، ماہرین، ماہرین خصوصی اور سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندے موجود ہوں گے۔ کیا اس شرکت کی سطح فورم کے نتائج کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے؟
گزشتہ ایڈیشنز کی سفارشات اور اقدامات نے ترقی سے متعلق فیصلوں کو معلومات فراہم کرنے میں مدد دی ہے، جس سے فورم کے کردار کو تقویت ملی ہے۔ فورم کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو اسٹیک ہولڈرز کو جمع کرتا ہے تاکہ قومی معیشت کو متاثر کرنے والے مسائل پر بات چیت ہو سکے۔ کیا اس پلیٹ فارم کا اثر طویل المدتی پالیسی سازی پر بھی پڑتا ہے؟
رپورٹ میں فورم کے ایجنڈے کے باقی تین مطالعات، شرکاء کی تعداد، یا فورم کے دورانیے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسی طرح اس بات کا بھی ذکر نہیں کہ فورم کے اختتام پر کیا سفارشات پیش کی جائیں گی یا ان پر عمل درآمد کا کیا طریقہ کار ہوگا۔ کیا ان تفصیلات کے بغیر فورم کے نتائج کا جائزہ لینا ممکن ہے؟
12ویں ریاض اکنامک فورم کا افتتاح کون کریں گے اور کس کی سرپرستی میں ہوگا؟ ریاض ریجن کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز، جو فورم کے اعزازی صدر بھی ہیں، 12ویں ریاض اکنامک فورم کا افتتاح کریں گے۔ یہ افتتاح خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں اور ان کی جانب سے ہوگا۔ ایس پی اے کے مطابق تقریب میں اعلیٰ حکام، ماہرین، ماہرین خصوصی اور سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔
فورم میں کتنے مطالعات زیر بحث آئیں گے اور ان کا موضوع کیا ہے؟ فورم میں پانچ مطالعات زیر بحث آئیں گی جو ترجیحی اقتصادی اور ترقیاتی مسائل سے متعلق ہیں۔ ان میں ایک مطالعہ زراعت میں اسمارٹ ٹیکنالوجیز کے استعمال سے متعلق ہے، جس میں مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے خوراک اور پانی کی سلامتی حاصل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ دوسرا مطالعہ علم اور مہارت کی منتقلی اور مقامی بنانے کی حکمت عملیوں اور سعودی اداروں کی کارکردگی پر ان کے اثرات سے متعلق ہے۔
ریاض اکنامک فورم کا آغاز کب ہوا اور اس کا کردار کیا رہا ہے؟ ریاض اکنامک فورم کا آغاز 2003 میں ہوا اور تب سے یہ ترجیحی اقتصادی اور ترقیاتی مسائل کو خصوصی مطالعات اور ماہرین، ماہرین تعلیم، فیصلہ سازوں اور نجی شعبے کے نمائندوں کی وسیع شرکت کے ذریعے زیر بحث لاتا رہا ہے۔ گزشتہ ایڈیشنز کی سفارشات اور اقدامات نے ترقی سے متعلق فیصلوں کو معلومات فراہم کرنے میں مدد دی اور فورم کے کردار کو مضبوط کیا۔
علم اور مہارت کی منتقلی سے متعلق مطالعہ کن پہلوؤں کا جائزہ لے گا؟ یہ مطالعہ علم اور مہارت کی منتقلی اور مقامی بنانے کے طریقہ کار کا جائزہ لے گا۔ اس میں قومی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، پائیدار ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر میں معاونت اور کارکردگی کی افادیت کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ مطالعے کا مقصد سعودی اداروں کی کارکردگی پر ان عوامل کے اثرات کا تجزیہ کرنا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں کی گئیں؟ رپورٹ میں فورم کے مقام، دورانیے یا شرکاء کی تعداد کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح پانچ مطالعات میں سے صرف دو کے موضوعات کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ باقی تین مطالعات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ فورم کے اختتام پر پیش ہونے والی سفارشات یا ان پر عمل درآمد کے طریقہ کار کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔