Tuesday, October 20, 2026
معیشت

سعودی ریف نے 48.2 ملین ریال کے پانچ شہد اور مکھی پالن منصوبے ریف نیشنل فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیے

سعودی ریف نے 48.2 ملین ریال کے پانچ شہد اور مکھی پالن منصوبے ریف نیشنل فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیے

سعودی عرب میں مکھی پالن اور شہد کی پیداوار کے شعبے کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم انتظامی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت پانچ ترقیاتی منصوبے ریف نیشنل فاؤنڈیشن کے حوالے کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کی مالیت 48.2 ملین سعودی ریال سے زائد بتائی گئی ہے۔ یہ منصوبے ملک کے کئی علاقوں میں اپنے آغاز سے قبل فاؤنڈیشن کے سپرد کیے گئے، تاکہ مقامی سطح پر شہد اور مکھیوں سے حاصل ہونے والی دیگر مصنوعات کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 19 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ پانچ منصوبے سسٹین ایبل ایگریکلچرل رورل ڈیولپمنٹ پروگرام، جسے سعودی ریف کے نام سے جانا جاتا ہے، نے ریف نیشنل فاؤنڈیشن کے حوالے کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد مکھیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا، مکھی پالن کرنے والوں کی معاونت کرنا اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق غذائی تحفظ میں حصہ ڈالنا ہے۔

ریف نیشنل فاؤنڈیشن ان منصوبوں کو اپنے کام کے دائرے میں چلائے گی۔ ادارے کی کوششوں کا مرکز مکھی پالن اور شہد کی پیداوار کے شعبے کی ترقی، مکھی پالن کرنے والوں کی کارکردگی میں بہتری اور دیہی برادریوں کو بااختیار بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسے اقدامات اور پروگرام ترتیب دیے جائیں گے جو پیداوار سے جڑے افراد اور خاندانوں کی مدد کریں اور ان کی صلاحیتوں کو مضبوط کریں۔

سعودی ریف کے ترجمان ماجد البریکان نے کہا کہ مکھی پالن اور شہد کی پیداوار ان اہم شعبوں میں شامل ہیں جنہیں پروگرام ترقی دینا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے چھوٹے پیمانے کے پیداوار کرنے والوں کی معاونت، ویلیو چینز کی ترقی، مکھی پالن کرنے والوں کو بااختیار بنانا، مقامی مصنوعات کے معیار میں بہتری اور مارکیٹنگ کے مواقع کی توسیع پر توجہ دی جاتی ہے۔

ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ منصوبوں کو ریف نیشنل فاؤنڈیشن کے حوالے کرنا اس شعبے کی ترقی اور غذائی تحفظ اور خود کفالت میں اس کے کردار کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکھی پالن اور شہد کی پیداوار میں سعودی عرب بھر میں ترقی کی نمایاں گنجائش موجود ہے، جسے پیداوار اور مارکیٹنگ کی صلاحیتوں میں بہتری کی کوششیں سہارا دیتی ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اپنی غذائی ضروریات میں خود کفالت کو ترجیح دے رہا ہے اور دیہی علاقوں کی معیشت کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔ مکھی پالن اور شہد کی پیداوار کو اس تناظر میں ایک اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف خوراک کی فراہمی سے جڑا شعبہ ہے بلکہ دیہی خاندانوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

سعودی ریف کا دائرہ کار دیہی اور زرعی ترقی سے جڑے منصوبوں پر محیط ہے، اور اس کی کوششیں چھوٹے پیداوار کرنے والوں کو نظام کے اندر شامل کرنے پر مرکوز رہتی ہیں۔ مکھی پالن کرنے والوں کی کارکردگی میں بہتری کا مطلب یہ ہے کہ پیداوار کے عمل کو زیادہ منظم بنایا جائے، جبکہ مقامی مصنوعات کے معیار میں بہتری سے صارفین تک بہتر مصنوعات پہنچانے کا راستہ کھلتا ہے۔

مارکیٹنگ کے مواقع کی توسیع اس شعبے کی ترقی کا ایک اور ستون ہے۔ اگر پیداوار بڑھے لیکن اسے مناسب منڈی نہ ملے تو اس کا فائدہ محدود رہتا ہے۔ اسی لیے پروگرام کی جانب سے مارکیٹنگ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ مقامی شہد اور مکھیوں سے حاصل ہونے والی دیگر مصنوعات کو وسیع تر خریداروں تک پہنچایا جا سکے۔

غذائی تحفظ اور خود کفالت کا تعلق براہ راست اس بات سے ہے کہ کوئی ملک اپنی ضروریات کتنی حد تک خود پوری کر سکتا ہے۔ مکھیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی مقامی پیداوار میں اضافہ اس مقصد میں حصہ ڈالتا ہے۔ سعودی ریف کے مطابق ان منصوبوں کا یہی مقصد ہے، اور انہیں سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے۔

دیہی برادریوں کو بااختیار بنانے کا پہلو بھی اس پیش رفت میں نمایاں ہے۔ ریف نیشنل فاؤنڈیشن کے ذریعے ایسے پروگرام چلائے جائیں گے جو پیداوار کرنے والوں اور خاندانوں کی مدد کریں اور ان کی صلاحیتوں کو مضبوط کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکھی پالن کو صرف ایک روایتی مشغلہ سمجھنے کے بجائے ایک منظم معاشی سرگرمی کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔

پانچ منصوبوں کی مالیت 48.2 ملین سعودی ریال سے زائد ہے، اور یہ منصوبے ملک کے کئی علاقوں میں شروع کیے جائیں گے۔ ان کی منتقلی ریف نیشنل فاؤنڈیشن کو کی گئی ہے، جو انہیں چلانے اور ان سے متعلق شعبے کی ترقی کے کام کو آگے بڑھانے کی ذمہ دار ہوگی۔

ترجمان ماجد البریکان کے بیان کے مطابق، چھوٹے پیمانے کے پیداوار کرنے والوں کی معاونت اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے شعبے کو ترقی دی جاتی ہے۔ چھوٹے پیداوار کرنے والے اکثر محدود وسائل کے ساتھ کام کرتے ہیں، اور اگر انہیں معاونت فراہم کی جائے تو وہ اپنی پیداوار اور آمدنی دونوں میں بہتری لا سکتے ہیں۔

ویلیو چینز کی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ پیداوار سے لے کر فروخت تک کے تمام مراحل کو بہتر بنایا جائے۔ اس میں مکھیوں کی پرورش، شہد کی نکاسی، پروسیسنگ، پیکنگ اور مارکیٹ تک رسائی جیسے مراحل شامل ہو سکتے ہیں۔ جب ان مراحل میں بہتری آتی ہے تو پیداوار کرنے والے کو بہتر قیمت ملنے کے امکانات بڑھتے ہیں۔

مقامی مصنوعات کے معیار میں بہتری صارفین کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر مقامی شہد کا معیار بلند ہو تو اس کی مانگ بڑھتی ہے، اور اس سے مقامی پیداوار کو فروغ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پروگرام کی جانب سے معیار کو ترجیح دی جاتی ہے۔

سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں مکھی پالن کی گنجائش موجود ہے، اور رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں ترقی کی نمایاں صلاحیت ہے۔ اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے پیداوار اور مارکیٹنگ کی صلاحیتوں میں بہتری کی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے، اور یہی کوششیں اس پیش رفت کا مرکزی نکتہ ہیں۔

ریف نیشنل فاؤنڈیشن کو منصوبوں کی منتقلی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے پروگراموں اور اقدامات کے ذریعے شعبے کی ترقی کا کام جاری رکھے گی۔ اس کا دائرہ مکھی پالن کرنے والوں کی کارکردگی میں بہتری سے لے کر دیہی خاندانوں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے تک پھیلا ہوا ہے۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان منصوبوں کا آغاز کئی علاقوں میں ہونا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوشش صرف ایک مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر سطح پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس سے مختلف علاقوں کے مکھی پالن کرنے والوں کو یکساں طور پر فائدہ پہنچنے کے امکانات بڑھتے ہیں۔

غذائی تحفظ کے تناظر میں دیکھا جائے تو مکھیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی مقامی پیداوار میں اضافہ درآمدات پر انحصار کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعبے کو سعودی وژن 2030 کے اہداف سے جوڑا گیا ہے، جس میں خود کفالت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

ترجمان کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ منصوبوں کی منتقلی شعبے کی ترقی اور غذائی تحفظ میں اس کے کردار کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک قدم ہے۔ یہ بیان اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت چھوٹے پیداوار کرنے والوں کو نظام کا حصہ بنا کر مجموعی پیداوار بڑھائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان پانچ منصوبوں میں سے ہر ایک کس علاقے میں شروع ہوگا، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ان کی تکمیل کا شیڈول کیا ہے۔ اسی طرح یہ تفصیل بھی دستیاب نہیں کہ 48.2 ملین ریال کی رقم کن اجزاء پر مشتمل ہے یا اسے کس مدت میں خرچ کیا جائے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں سے کتنے مکھی پالن کرنے والے مستفید ہوں گے، نہ ہی متوقع پیداوار کا کوئی عدد فراہم کیا گیا۔ ان نکات کے بارے میں معلومات سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔

اس پیش رفت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سعودی عرب میں مکھی پالن اور شہد کی پیداوار کو ایک منظم شعبے کے طور پر آگے بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ چھوٹے پیداوار کرنے والوں کی معاونت، ویلیو چینز کی ترقی اور مارکیٹنگ کے مواقع کی توسیع وہ بنیادی ستون ہیں جن پر یہ کوششیں استوار ہیں۔

ریف نیشنل فاؤنڈیشن کے ذریعے ان منصوبوں کا چلایا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شعبے کی ترقی کے لیے ادارہ جاتی سطح پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف پیداوار کو منظم بنانے میں مدد ملے گی بلکہ دیہی برادریوں کو بااختیار بنانے کے مقصد کو بھی تقویت ملے گی۔

مجموعی طور پر یہ پانچ منصوبے، جن کی مالیت 48.2 ملین سعودی ریال سے زائد ہے، مکھی پالن اور شہد کی پیداوار کے شعبے میں ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد مقامی پیداوار بڑھانا، مکھی پالن کرنے والوں کی معاونت کرنا اور غذائی تحفظ میں حصہ ڈالنا ہے، جبکہ انہیں سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے۔

سعودی ریف نے کون سے منصوبے حوالے کیے ہیں؟ سعودی ریف نے مکھی پالن اور شہد کی پیداوار سے متعلق پانچ ترقیاتی منصوبے ریف نیشنل فاؤنڈیشن کے حوالے کیے ہیں۔ ان منصوبوں کی مالیت 48.2 ملین سعودی ریال سے زائد بتائی گئی ہے۔ یہ منصوبے ملک کے کئی علاقوں میں اپنے آغاز سے قبل فاؤنڈیشن کے سپرد کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان کا مقصد مکھیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا اور مکھی پالن کرنے والوں کی معاونت کرنا ہے۔

ان منصوبوں کا مقصد کیا بیان کیا گیا ہے؟ رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد مکھیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی مقامی پیداوار بڑھانا، مکھی پالن کرنے والوں کی معاونت کرنا اور غذائی تحفظ میں حصہ ڈالنا ہے۔ یہ مقاصد سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق قرار دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ شعبے کی ترقی، مکھی پالن کرنے والوں کی کارکردگی میں بہتری اور دیہی برادریوں کو بااختیار بنانے کا پہلو بھی شامل ہے۔

منصوبوں کو کون چلائے گا اور کیسے؟ ریف نیشنل فاؤنڈیشن ان منصوبوں کو اپنے کام کے دائرے میں چلائے گی۔ ادارے کی کوششوں کا مرکز مکھی پالن اور شہد کی پیداوار کے شعبے کی ترقی، مکھی پالن کرنے والوں کی کارکردگی میں بہتری اور دیہی برادریوں کو بااختیار بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسے پروگرام اور اقدامات ترتیب دیے جائیں گے جو پیداوار سے جڑے افراد اور خاندانوں کی مدد کریں اور ان کی صلاحیتوں کو مضبوط کریں۔

سعودی ریف کے ترجمان نے کیا کہا؟ سعودی ریف کے ترجمان ماجد البریکان نے کہا کہ مکھی پالن اور شہد کی پیداوار ان اہم شعبوں میں شامل ہیں جنہیں پروگرام ترقی دینا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے چھوٹے پیمانے کے پیداوار کرنے والوں کی معاونت، ویلیو چینز کی ترقی، مکھی پالن کرنے والوں کو بااختیار بنانا، مقامی مصنوعات کے معیار میں بہتری اور مارکیٹنگ کے مواقع کی توسیع پر توجہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے منصوبوں کی منتقلی کو شعبے کی ترقی کی سمت میں ایک قدم قرار دیا۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پانچ منصوبوں میں سے ہر ایک کس علاقے میں شروع ہوگا، نہ ہی تکمیل کا شیڈول بتایا گیا۔ اسی طرح یہ تفصیل بھی دستیاب نہیں کہ 48.2 ملین ریال کی رقم کن اجزاء پر مشتمل ہے یا کس مدت میں خرچ کی جائے گی۔ کتنے مکھی پالن کرنے والے مستفید ہوں گے اور متوقع پیداوار کیا ہوگی، اس بارے میں بھی کوئی عدد فراہم نہیں کیا گیا۔