بینکاک میں ورلڈ بینک گروپ اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے 2026 کے سالانہ اجلاسوں کے دوران سعودی عرب کا بیان انٹرنیشنل مانیٹری اینڈ فنانشل کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ بیان سعودی سینٹرل بینک (ایس ای ایم اے) کے گورنر ایمن السیاری نے پیش کیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ موقع 19 اکتوبر 2026 کو تھا اور مقام بینکاک، تھائی لینڈ تھا۔ ایس پی اے کے مطابق السیاری نے آئی ایم ایف سی کے سامنے سعودی عرب کا موقف رکھا۔
الساری نے کہا کہ سعودی عرب آئی ایم ایف سی کی چیئرمین شپ میں ایک سال کی توسیع کا خیرمقدم کرتا ہے تاکہ مکالمہ برقرار رہے، نقطہ نظر میں پل بنایا جائے اور رکنیت کے درمیان اتفاق رائے کو سہارا دیا جائے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ درعیہ گائیڈنگ پرنسپلز آئی ایم ایف کی گورننس اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
کیا یہ اصول صرف اعلان تک محدود رہیں گے یا عملی پیش رفت کی راہ ہموار کریں گے؟ السیاری کے مطابق اب ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ رفتار برقرار رکھی جائے اور ان اصولوں کو مسلسل مکالمے اور اتفاق رائے کی تعمیر کے ذریعے عملی پیش رفت میں بدلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی مقصد ایسے نتائج حاصل کرنا ہے جو وسیع پیمانے پر قابل قبول ہوں، رکنیت میں نمائندگی کو مضبوط کریں اور ایک مضبوط، مناسب وسائل والے اور کوٹہ پر مبنی آئی ایم ایف کو برقرار رکھیں۔
الساری نے کہا: “ہم منیجنگ ڈائریکٹر کے گلوبل پالیسی ایجنڈا کی مجموعی سمت اور قابل اعتماد پالیسیوں، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور بین الاقوامی تعاون پر اس کے زور کا خیرمقدم کرتے ہیں۔” ان کے مطابق فوری ترجیح اس وقت کی بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال میں استحکام کا تحفظ ہے، اور ایسے پالیسی ردعمل سے گریز کرنا ہے جو درمیانی مدت کی ترقی کو کمزور کریں یا بفرز کو مزید ختم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یکے بعد دیگرے آنے والے جھٹکوں کے بڑھتے ہوئے مختلف اثرات اس بات کی اہمیت کو تقویت دیتے ہیں کہ پالیسی مشورہ ارکان کے حالات، ان کے خطرات اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مدنظر رکھے۔ ان کے مطابق بڑے جائزوں کی تکمیل کے بعد آئی ایم ایف کے پاس یہ اہم موقع ہے کہ وہ ادارہ جاتی اصلاحات کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنے والی رکنیت کے لیے زیادہ مؤثر معاونت میں بدلے۔
کیا آئی ایم ایف اپنی اصلاحات کو حقیقی مدد میں بدل پائے گا؟ السیاری نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع عالمی نقطہ نظر پر وزن ڈال رہا ہے، ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی ایک مشکل عالمی ماحول سے گزر رہی تھی، جس کی خصوصیات زیادہ غیر یقینی صورتحال، بلند قرض اور محدود پالیسی گنجائش ہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق السیاری نے آئی ایم ایف سی کے سامنے سعودی عرب کا بیان پیش کیا، جس میں انہوں نے آئی ایم ایف کی گورننس اصلاحات، درعیہ گائیڈنگ پرنسپلز، اور منیجنگ ڈائریکٹر کے گلوبل پالیسی ایجنڈا پر سعودی عرب کا موقف واضح کیا۔ انہوں نے رکنیت کے درمیان نمائندگی کو مضبوط بنانے اور کوٹہ پر مبنی آئی ایم ایف کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سی کی چیئرمین شپ میں ایک سال کی توسیع مکالمے کو برقرار رکھنے، نقطہ نظر میں پل بنانے اور رکنیت کے درمیان اتفاق رائے کو سہارا دینے کے لیے ہے۔ ان کے مطابق درعیہ گائیڈنگ پرنسپلز آئی ایم ایف کی گورننس اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
کیا رکن ممالک ان اصولوں کو عملی شکل دینے پر متفق ہو سکیں گے؟ السیاری نے کہا کہ ترجیح یہ ہے کہ رفتار برقرار رکھی جائے اور ان اصولوں کو مسلسل مکالمے اور اتفاق رائے کی تعمیر کے ذریعے عملی پیش رفت میں بدلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی مقصد ایسے نتائج حاصل کرنا ہے جو وسیع پیمانے پر قابل قبول ہوں اور رکنیت میں نمائندگی کو مضبوط کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ آئی ایم ایف کو مضبوط، مناسب وسائل والا اور کوٹہ پر مبنی رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر کے گلوبل پالیسی ایجنڈا کی مجموعی سمت قابل اعتماد پالیسیوں، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیتی ہے، اور سعودی عرب اس کا خیرمقدم کرتا ہے۔
کیا غیر یقینی صورتحال کے اس دور میں استحکام کو ترجیح دینا ممکن ہوگا؟ السیاری نے کہا کہ فوری ترجیح اس وقت کی بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال میں استحکام کا تحفظ ہے، اور ایسے پالیسی ردعمل سے گریز کرنا ہے جو درمیانی مدت کی ترقی کو کمزور کریں یا بفرز کو مزید ختم کریں۔
انہوں نے کہا کہ یکے بعد دیگرے آنے والے جھٹکوں کے بڑھتے ہوئے مختلف اثرات اس بات کی اہمیت کو تقویت دیتے ہیں کہ پالیسی مشورہ ارکان کے حالات، ان کے خطرات اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مدنظر رکھے۔ ان کے مطابق بڑے جائزوں کی تکمیل کے بعد آئی ایم ایف کے پاس یہ اہم موقع ہے کہ وہ ادارہ جاتی اصلاحات کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنے والی رکنیت کے لیے زیادہ مؤثر معاونت میں بدلے۔
الساری نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع عالمی نقطہ نظر پر وزن ڈال رہا ہے، ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی ایک مشکل عالمی ماحول سے گزر رہی تھی، جس کی خصوصیات زیادہ غیر یقینی صورتحال، بلند قرض اور محدود پالیسی گنجائش ہیں۔
کیا عالمی معیشت ان دباؤں کے باوجود استحکام برقرار رکھ سکتی ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق السیاری نے آئی ایم ایف سی کے سامنے سعودی عرب کا بیان پیش کیا، جس میں انہوں نے آئی ایم ایف کی گورننس اصلاحات، درعیہ گائیڈنگ پرنسپلز، اور منیجنگ ڈائریکٹر کے گلوبل پالیسی ایجنڈا پر سعودی عرب کا موقف واضح کیا۔
انہوں نے رکنیت کے درمیان نمائندگی کو مضبوط بنانے اور کوٹہ پر مبنی آئی ایم ایف کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف سی کی چیئرمین شپ میں ایک سال کی توسیع مکالمے کو برقرار رکھنے، نقطہ نظر میں پل بنانے اور رکنیت کے درمیان اتفاق رائے کو سہارا دینے کے لیے ہے۔
کیا آئی ایم ایف کی گورننس اصلاحات رکن ممالک کی نمائندگی کو بہتر بنا سکیں گی؟ السیاری نے کہا کہ درعیہ گائیڈنگ پرنسپلز آئی ایم ایف کی گورننس اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کرتے ہیں، اور اب ترجیح یہ ہے کہ رفتار برقرار رکھی جائے اور ان اصولوں کو مسلسل مکالمے اور اتفاق رائے کی تعمیر کے ذریعے عملی پیش رفت میں بدلا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اجتماعی مقصد ایسے نتائج حاصل کرنا ہے جو وسیع پیمانے پر قابل قبول ہوں اور رکنیت میں نمائندگی کو مضبوط کریں، جبکہ آئی ایم ایف کو مضبوط، مناسب وسائل والا اور کوٹہ پر مبنی رکھا جائے۔ ان کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر کے گلوبل پالیسی ایجنڈا کی مجموعی سمت قابل اعتماد پالیسیوں، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیتی ہے۔
کیا نجی شعبے کی قیادت میں ترقی عالمی معیشت کے لیے راستہ بن سکتی ہے؟ السیاری نے کہا کہ فوری ترجیح اس وقت کی بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال میں استحکام کا تحفظ ہے، اور ایسے پالیسی ردعمل سے گریز کرنا ہے جو درمیانی مدت کی ترقی کو کمزور کریں یا بفرز کو مزید ختم کریں۔
انہوں نے کہا کہ یکے بعد دیگرے آنے والے جھٹکوں کے بڑھتے ہوئے مختلف اثرات اس بات کی اہمیت کو تقویت دیتے ہیں کہ پالیسی مشورہ ارکان کے حالات، ان کے خطرات اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مدنظر رکھے۔ ان کے مطابق بڑے جائزوں کی تکمیل کے بعد آئی ایم ایف کے پاس یہ اہم موقع ہے کہ وہ ادارہ جاتی اصلاحات کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنے والی رکنیت کے لیے زیادہ مؤثر معاونت میں بدلے۔
الساری نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع عالمی نقطہ نظر پر وزن ڈال رہا ہے، ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی ایک مشکل عالمی ماحول سے گزر رہی تھی، جس کی خصوصیات زیادہ غیر یقینی صورتحال، بلند قرض اور محدود پالیسی گنجائش ہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان بینکاک، تھائی لینڈ میں ورلڈ بینک گروپ اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے 2026 کے سالانہ اجلاسوں کے دوران پیش کیا گیا۔ رپورٹ میں السیاری کے بیان کے علاوہ دیگر تفصیلات، جیسے اجلاس کی کارروائی یا دیگر شرکاء کے بیانات، شامل نہیں ہیں۔
سعودی عرب کا بیان کس نے اور کہاں پیش کیا؟ سعودی سینٹرل بینک (ایس ای ایم اے) کے گورنر ایمن السیاری نے سعودی عرب کا بیان انٹرنیشنل مانیٹری اینڈ فنانشل کمیٹی (آئی ایم ایف سی) کے سامنے پیش کیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ موقع ورلڈ بینک گروپ اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے 2026 کے سالانہ اجلاسوں کا تھا، جو بینکاک، تھائی لینڈ میں منعقد ہوئے۔ بیان 19 اکتوبر 2026 کو پیش کیا گیا۔
آئی ایم ایف سی کی چیئرمین شپ میں توسیع پر سعودی عرب کا موقف کیا تھا؟ الساری نے کہا کہ سعودی عرب آئی ایم ایف سی کی چیئرمین شپ میں ایک سال کی توسیع کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس توسیع کا مقصد مکالمہ برقرار رکھنا، نقطہ نظر میں پل بنانا اور رکنیت کے درمیان اتفاق رائے کو سہارا دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درعیہ گائیڈنگ پرنسپلز آئی ایم ایف کی گورننس اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
درعیہ گائیڈنگ پرنسپلز کا ذکر کیوں کیا گیا؟ الساری کے مطابق درعیہ گائیڈنگ پرنسپلز آئی ایم ایف کی گورننس اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ رفتار برقرار رکھی جائے اور ان اصولوں کو مسلسل مکالمے اور اتفاق رائے کی تعمیر کے ذریعے عملی پیش رفت میں بدلا جائے۔ ان کے مطابق اجتماعی مقصد ایسے نتائج حاصل کرنا ہے جو وسیع پیمانے پر قابل قبول ہوں اور رکنیت میں نمائندگی کو مضبوط کریں۔
عالمی پالیسی ایجنڈا پر سعودی عرب نے کیا کہا؟ الساری نے کہا کہ سعودی عرب منیجنگ ڈائریکٹر کے گلوبل پالیسی ایجنڈا کی مجموعی سمت اور قابل اعتماد پالیسیوں، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور بین الاقوامی تعاون پر اس کے زور کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ان کے مطابق فوری ترجیح اس وقت کی بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال میں استحکام کا تحفظ ہے، اور ایسے پالیسی ردعمل سے گریز کرنا ہے جو درمیانی مدت کی ترقی کو کمزور کریں یا بفرز کو مزید ختم کریں۔
مشرق وسطیٰ کے تنازع کے عالمی معیشت پر اثرات کے بارے میں کیا کہا گیا؟ الساری نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع عالمی نقطہ نظر پر وزن ڈال رہا ہے، ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی ایک مشکل عالمی ماحول سے گزر رہی تھی۔ ان کے مطابق اس ماحول کی خصوصیات زیادہ غیر یقینی صورتحال، بلند قرض اور محدود پالیسی گنجائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یکے بعد دیگرے آنے والے جھٹکوں کے بڑھتے ہوئے مختلف اثرات پالیسی مشورے کی اہمیت کو تقویت دیتے ہیں۔
آئی ایم ایف کی اصلاحات کے حوالے سے السیاری نے کیا موقع بتایا؟ الساری کے مطابق بڑے جائزوں کی تکمیل کے بعد آئی ایم ایف کے پاس یہ اہم موقع ہے کہ وہ ادارہ جاتی اصلاحات کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنے والی رکنیت کے لیے زیادہ مؤثر معاونت میں بدلے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی مشورے کو ارکان کے حالات، ان کے خطرات اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کو مضبوط، مناسب وسائل والا اور کوٹہ پر مبنی رکھنے پر زور دیا۔