ایشیائی اسٹاک مارکیٹ میں آج گراوٹ دیکھی گئی، جس میں جمہوریہ کوریا اور جاپان کے حصص میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ سیمی کنڈکٹر شیئرز پر دباؤ کی وجہ گزشتہ سیشن کے منافع کے بعد منافع خوری کا عمل رہا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 اگست 2026 کو بیان کیا، MSCI Asia Pacific ex-Japan Index میں 0.7 فیصد کی کمی آئی، جبکہ کوریا کے KOSPI Index میں 4 فیصد سے زائد اور جاپان کے Nikkei 225 Index میں 1.2 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
سرمایہ کار اب SoftBank Group کے منافع کے نتائج اور کل جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رول رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ شرح سود کے تناظر اور ٹیکنالوجی اسٹاکس میں سرمایہ کاری کے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
ایشیائی مارکیٹوں میں گراوٹ کی کیا وجہ تھی؟ ایشیائی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کی بنیادی وجہ سیمی کنڈکٹر شیئرز پر دباؤ تھا، جو گزشتہ سیشن کے منافع کے بعد منافع خوری کی وجہ سے پیدا ہوا۔ اس کے نتیجے میں جمہوریہ کوریا اور جاپان کی مارکیٹوں میں کمی دیکھی گئی۔
کون سے انڈیکس کتنی فیصد گرے؟ MSCI Asia Pacific ex-Japan Index میں 0.7 فیصد کی کمی ہوئی، جبکہ کوریا کا KOSPI Index 4 فیصد سے زیادہ اور جاپان کا Nikkei 225 Index 1.2 فیصد تک گر گیا۔ ایس پی اے نے ان اعداد و شمار کی تصدیق کی ہے۔
سرمایہ کار کن رپورٹس کا انتظار کر رہے ہیں؟ سرمایہ کار SoftBank Group کے منافع کے نتائج اور امریکی نان فارم پے رول رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان رپورٹس سے شرح سود کے تناظر اور ٹیکنالوجی اسٹاکس میں سرمایہ کاری کے ممکنہ اثرات کا پتہ چلے گا۔