بحرین نے سعودی عرب میں مشترکہ دفاع کے لیے مکہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اگست 2026 کو بیان کیا، اس دستاویز پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ترکی کے صدر رجب طیب ارطغرل اور پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دستخط کیے۔
بحرین کی وزارت خارجہ نے تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں، فوجی تجربے اور خطے کی سلامتی و استحکام میں ان کے کردار کو سراہا ہے۔ وزارت نے اس معاہدے کو ایک ایسی شراکت قرار دیا ہے جو خطے اور دنیا میں سلامتی، استحکام اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وزارت نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ GCC رکن ممالک کے مشترکہ دفاعی نظام میں ایک اضافہ ہے جو یکجہتی اور شراکت داری کی بنیاد پر علاقائی سلامتی کو مضبوط بناتا ہے۔ بحرین نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سعودی عرب کی سلامتی بحرین کی سلامتی کا لازمی حصہ ہے، اور وہ ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی حل کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کرتا ہے۔
مکہ معاہدے پر کن رہنماؤں نے دستخط کیے؟ اس معاہدے پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ترکی کے صدر رجب طیب ارطغرل اور پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دستخط کیے۔ بحرین نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔
بحرین کی وزارت خارجہ نے اس معاہدے کو کیا قرار دیا؟ بحرین کی وزارت خارجہ نے اس معاہدے کو ایک ایسی شراکت قرار دیا ہے جو خطے اور دنیا میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے میں مدد دے گا۔
بحرین نے سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا؟ بحرین کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ سعودی عرب کی سلامتی بحرین کی سلامتی کا ایک لازمی حصہ ہے، اور وہ خطے میں سلامتی، استحکام اور ریاستوں کی خودمختاری کی حمایت کرتا ہے۔
اس معاہدے کا GCC ممالک کے لیے کیا مطلب ہے؟ بحرین کے مطابق یہ معاہدہ GCC رکن ممالک کے مشترکہ دفاعی نظام میں ایک اضافہ ہے، جو یکجہتی اور شراکت داری کی بنیاد پر علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دیتا ہے۔