Saturday, October 24, 2026
عمومی

جی سی سی سربراہ نے استنبول ثالثی کانفرنس میں عالمی تنازعات کے حل کے لیے خلیجی عزم پر زور دیا

جی سی سی سربراہ نے استنبول ثالثی کانفرنس میں عالمی تنازعات کے حل کے لیے خلیجی عزم پر زور دیا

استنبول میں منعقدہ نویں استنبول ثالثی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے آج اس بات کا اعادہ کیا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک عالمی ثالثی، امن سازی اور سلامتی میں فعال اور قابل اعتماد شراکت داروں کے طور پر اپنی بین الاقوامی حیثیت کو مستحکم کر چکے ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ کانفرنس 23 اکتوبر 2026 کو استنبول میں منعقد ہوئی اور اس کا موضوع تھا: “امن کے لیے شراکت داریاں اور نئے تناظر: بدلتے ہوئے عالم میں ثالثی”۔

البدیوی نے کانفرنس کی میزبانی پر ترکیہ کو خراج تحسین پیش کیا اور اس تقریب کو روک تھام کی سفارت کاری اور تنازعات کے حل کے لیے ایک لازمی عالمی پلیٹ فارم قرار دیا۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے کہ ایک ایسا فورم جس کا مقصد صرف مکالمہ ہے، آج عالمی سطح پر تنازعات کے حل کی کوششوں کا مرکز بن چکا ہے؟

سیکرٹری جنرل نے خلیج تعاون کونسل اور ترکیہ کے درمیان مضبوط تعلقات پر زور دیا اور کہا کہ ترکیہ اہم امور پر معاون موقف رکھتا ہے، جبکہ دونوں فریق وسیع تر افق پر دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی عزم رکھتے ہیں۔ کیا خطے کے دو اہم کھلاڑیوں کے درمیان یہ ہم آہنگی آنے والے برسوں میں مزید گہری ہو گی؟

البدیوی نے نشاندہی کی کہ خلیج تعاون کونسل کے سفارتی اقدامات اور بحرانوں کو قابو میں رکھنے کی کوششوں نے وسیع بین الاقوامی اعتماد حاصل کیا ہے، جو خلیجی ریاستوں کی متوازن خارجہ پالیسی کا عکس ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خلیج تعاون کونسل کی ثالثی خطے سے آگے بڑھ کر عالمی بحرانوں تک پھیلی ہوئی ہے، اور یہ اس اصول پر مبنی ہے کہ بین الاقوامی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جسے مکالمے اور سیاسی حل کے ذریعے بہترین طریقے سے پورا کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اختتام پر دوبارہ یقین دہانی کرائی کہ خلیج تعاون کونسل امن کی کوششوں کی حمایت اور عالمی سلامتی کی پشت پناہی کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ شراکت داری جاری رکھے گی۔ کیا عالمی برادری اس عزم کو عملی اقدامات میں بدلنے کے لیے تیار ہے؟

یہ کانفرنس ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہوئی، جہاں دنیا بھر سے سفارت کاروں، ماہرین اور پالیسی سازوں نے بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں ثالثی کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ کانفرنس کا موضوع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آج کی دنیا میں امن کے قیام کے لیے صرف روایتی طریقے کافی نہیں رہے، بلکہ نئے تناظر اور شراکت داریوں کی ضرورت ہے۔ کیا خلیجی ممالک کی ثالثی کی ماہر حیثیت اس نئے تناظر میں مزید مضبوط ہو کر ابھرے گی؟

خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے گزشتہ برسوں میں متعدد علاقائی اور بین الاقوامی بحرانوں میں ثالثی کے کردار ادا کیا ہے، اور سیکرٹری جنرل کا یہ بیان اس تسلسل کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ریاستوں کی متوازن خارجہ پالیسی نے انہیں بین الاقوامی سطح پر اعتماد کا مقام دلایا ہے، جس کی وجہ سے ان کی ثالثی کی کوششوں کو قبولیت حاصل ہوتی ہے۔ کیا متوازن پالیسی ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر کوئی ریاست عالمی ثالثی میں کامیاب ہو سکتی ہے؟

البدیوی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر تنازعات کی نوعیت بدل رہی ہے اور روایتی سفارت کاری کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی سلامتی کو مشترکہ ذمہ داری سمجھنا ضروری ہے، اور یہ ذمہ داری مکالمے اور سیاسی حل کے ذریعے ہی پوری کی جا سکتی ہے۔ کیا آج کے دور میں کوئی بھی ملک تنہا اپنی سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے؟

سیکرٹری جنرل نے ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق اہم امور پر ایک دوسرے کے معاون موقف رکھتے ہیں اور دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ یہ بیان خلیج تعاون کونسل اور ترکیہ کے درمیان جاری سفارتی اور اقتصادی تعاون کی عکاسی کرتا ہے، جس میں دونوں طرف سے باہمی مفاہمت کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ کیا یہ شراکت داری خطے کے لیے ایک نیا توازن پیدا کرے گی؟

کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر غور کیا کہ بدلتے ہوئے عالم میں ثالثی کے اداروں کو کس طرح مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور کس طرح روک تھام کی سفارت کاری کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ خلیج تعاون کونسل کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ خلیجی ممالک عالمی امن کے معاملات میں اپنا کردار مزید فعال بنانے کے خواہاں ہیں۔ کیا عالمی فورمز پر خلیجی آواز کو وہ وزن حاصل ہے جس کا یہ مستحق ہے؟

البدیوی نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کی ثالثی کی کوششیں صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی بحرانوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ بات اس اصول پر مبنی ہے کہ بین الاقوامی سلامتی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اسے مکالمے اور سیاسی حل کے ذریعے بہترین انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ موقف خلیجی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی نظریے کی عکاسی کرتا ہے جس میں تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کیا پرامن حل کے بغیر کوئی بھی فتح حقیقی اور پائیدار ہو سکتی ہے؟

سیکرٹری جنرل نے اختتام پر کہا کہ خلیج تعاون کونسل بین الاقوامی برادری کے ساتھ شراکت داری جاری رکھے گی تاکہ امن کی کوششوں کی حمایت کی جا سکے اور عالمی سلامتی کو تقویت دی جا سکے۔ یہ عزم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیجی ممالک عالمی امن کے نظام میں اپنے کردار کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ کیا آنے والے برسوں میں خلیج تعاون کونسل کی ثالثی کی کوششیں نئے سنگ میل قائم کریں گی؟

واضح رہے کہ ایس پی اے کی رپورٹ میں کانفرنس کے شرکاء کی تعداد، کسی مخصوص ثالثی معاہدے کی تفصیل، یا خلیج تعاون کونسل کے کسی نئے اقدام کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف سیکرٹری جنرل کے بیان اور کانفرنس کے موضوع تک معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

استنبول ثالثی کانفرنس کا موضوع کیا تھا اور یہ کہاں منعقد ہوئی؟ کانفرنس 23 اکتوبر 2026 کو استنبول میں منعقد ہوئی اور اس کا موضوع تھا “امن کے لیے شراکت داریاں اور نئے تناظر: بدلتے ہوئے عالم میں ثالثی”۔ یہ نویں استنبول ثالثی کانفرنس تھی۔ ایس پی اے کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے اس میں شرکت کی اور ترکیہ کی میزبانی کو سراہا۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک کی بین الاقوامی حیثیت کے بارے میں کیا کہا؟ جاسم البدیوی نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک عالمی ثالثی، امن سازی اور سلامتی میں فعال اور قابل اعتماد شراکت داروں کے طور پر اپنی بین الاقوامی حیثیت مستحکم کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے سفارتی اقدامات اور بحرانوں کو قابو میں رکھنے کی کوششوں نے وسیع بین الاقوامی اعتماد حاصل کیا ہے، جو خلیجی ریاستوں کی متوازن خارجہ پالیسی کا عکس ہے۔

خلیج تعاون کونسل اور ترکیہ کے تعلقات کے بارے میں کیا بتایا گیا؟ البدیوی نے خلیج تعاون کونسل اور ترکیہ کے درمیان مضبوط تعلقات پر زور دیا اور کہا کہ ترکیہ اہم امور پر معاون موقف رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق وسیع تر افق پر دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کانفرنس کی میزبانی پر ترکیہ کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

خلیج تعاون کونسل کی ثالثی کا دائرہ کار کیا ہے؟ سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ خلیج تعاون کونسل کی ثالثی خطے سے آگے بڑھ کر عالمی بحرانوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس اصول پر مبنی ہے کہ بین الاقوامی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جسے مکالمے اور سیاسی حل کے ذریعے بہترین طریقے سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ یہ موقف خلیجی خارجہ پالیسی کے پرامن حل کے نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔

کانفرنس میں خلیج تعاون کونسل کے مستقبل کے عزم کا اظہار کیسے ہوا؟ البدیوی نے اختتام پر دوبارہ یقین دہانی کرائی کہ خلیج تعاون کونسل امن کی کوششوں کی حمایت اور عالمی سلامتی کی پشت پناہی کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ شراکت داری جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر امن کے لیے کام کرتی رہے گی۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس عزم کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔