Tuesday, November 3, 2026
عمومی

سعودی سینٹر فار اوپینین پولنگ گیلپ انٹرنیشنل کانفرنس 2026 میں شریک

سعودی سینٹر فار اوپینین پولنگ گیلپ انٹرنیشنل کانفرنس 2026 میں شریک

سعودی سینٹر فار اوپینین پولنگ (SCOP) 2026 کی گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کر رہا ہے، جو 27 سے 29 ستمبر تک ہنگری کے شہر بوڈاپسٹ میں منعقد ہو رہی ہے۔ ستمبر 2026 کی اس کانفرنس میں SCOP کی نمائندگی اس کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عبداللہ الحقیل کر رہے ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، SCOP کی اس شرکت کا مقصد اپنے طریقوں کو رائے عامہ کی پیمائش کے قائم شدہ سائنسی فریم ورک میں شامل کرنا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ماہر تحقیقی مراکز اور اداروں کی مہارت اور تجربے سے فائدہ اٹھانا بھی ہے۔

کیا رائے عامہ کی پیمائش کو عالمی سائنسی معیار پر پرکھنا کسی بھی ملک کی پالیسی سازی کے لیے بنیادی شرط نہیں؟ SCOP کی یہ شرکت دراصل اسی سوال کا عملی جواب ہے۔ جب کوئی ادارہ اپنے سروے کے طریقوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فریم ورک سے ہم آہنگ کرتا ہے تو اس کے نتائج کی ساکھ میں اضافہ ہوتا ہے۔

گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن دنیا بھر کے رائے عامہ کے تحقیقی اداروں کا ایک نیٹ ورک ہے، اور اس کی سالانہ کانفرنس مختلف ممالک کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔ کیا اس قسم کے اجتماعات میں شرکت سے کسی ادارے کی تکنیکی صلاحیت خود بخود بہتر ہو جاتی ہے؟ نہیں، لیکن یہ تجربے کے تبادلے کا ایک دروازہ ضرور کھولتی ہے۔

ایس پی اے کے مطابق، SCOP کی حکمت عملی کا ایک واضح حصہ یہ ہے کہ وہ اپنے کام کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرے۔ اس حکمت عملی کے تحت ادارہ نہ صرف اپنے اندرونی طریقہ کار کو بہتر بناتا ہے بلکہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رابطے بھی مضبوط کرتا ہے۔ کیا رائے عامہ کے سروے کسی بھی معاشرے کی حقیقی تصویر پیش کر سکتے ہیں اگر ان کے طریقے شفاف نہ ہوں؟ یہی سوال SCOP کی موجودہ کوششوں کا مرکز معلوم ہوتا ہے۔

بوڈاپسٹ میں 27 سے 29 ستمبر تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں ڈاکٹر عبداللہ الحقیل کی شرکت SCOP کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر رائے عامہ کی پیمائش کے جدید رجحانات سے واقفیت حاصل کرے۔ کیا صرف کانفرنس میں شرکت سے کوئی ادارہ عالمی معیار کا حامل بن جاتا ہے؟ یہ ایک طویل عمل ہے، جس میں مسلسل سیکھنے اور اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سعودی عرب میں رائے عامہ کی پیمائش کا شعبہ گزشتہ برسوں میں ترقی کی راہ پر گامزن رہا ہے۔ SCOP کا قیام اس بات کا مظہر ہے کہ مملکت میں سائنسی بنیادوں پر عوامی رائے جانچنے کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ کیا کسی بھی ملک کی ترقیاتی پالیسیاں عوامی رائے سے بے نیاز ہو کر کامیاب ہو سکتی ہیں؟ تجربہ بتاتا ہے کہ عوام کی آواز کو سمجھنا پالیسی سازی کا لازمی جزو ہے۔

اس کانفرنس میں مختلف ممالک کے تحقیقی ادارے اپنے تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ SCOP کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنے سروے کے طریقوں کا موازنہ دوسرے اداروں کے طریقوں سے کرے۔ کیا بین الاقوامی تعاون کے بغیر رائے عامہ کی پیمائش کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے؟ شاید نہیں، کیونکہ ہر ادارہ دوسروں سے سیکھتا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، SCOP کی شرکت کا مقصد ماہر تحقیقی مراکز اور اداروں کی مہارت سے استفادہ کرنا بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ادارہ صرف اپنے تجربے پر انحصار نہیں کرتا بلکہ دوسروں کے تجربے کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ کیا یہ رویہ کسی بھی تحقیقی ادارے کی پائیدار کامیابی کی ضمانت ہے؟ یہ ایک مثبت اشارہ ضرور ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ الحقیل کی کانفرنس میں شرکت SCOP کی نمائندگی کے حوالے سے اہم ہے۔ وہ ادارے کے جنرل سپروائزر ہیں اور اس حیثیت میں ان کی موجودگی ادارے کے عزم کا اظہار کرتی ہے۔ کیا اعلیٰ سطح کی نمائندگی سے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوتے ہیں؟ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے، کیونکہ ذاتی روابط بھی تعاون میں کردار ادا کرتے ہیں۔

رائے عامہ کی پیمائش کا شعبہ مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور ڈیٹا کے نئے ذرائع نے سروے کے طریقوں کو متاثر کیا ہے۔ کیا روایتی سروے کے طریقے آج کے دور میں کافی ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر دنیا بھر کے تحقیقی ادارے غور کر رہے ہیں، اور SCOP کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت اسی غور و فکر کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔

سعودی عرب کی وژن 2030 کے تحت مختلف شعبوں میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ رائے عامہ کی پیمائش بھی ایک ایسا شعبہ ہے جہاں جدیدیت اور سائنسی طریقوں کی ضرورت ہے۔ کیا وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں عوامی رائے کا کردار نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ یقیناً نہیں، کیونکہ پالیسیوں کی کامیابی کا انحصار عوام کی قبولیت پر بھی ہے۔

گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کی سالانہ کانفرنس ایک ایسا فورم ہے جہاں دنیا بھر کے ادارے اپنے نتائج اور چیلنجز شیئر کرتے ہیں۔ SCOP کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب اس عالمی مکالمے میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ کیا عالمی فورمز میں شرکت سے کسی ملک کی اندرونی تحقیقی صلاحیت میں براہ راست اضافہ ہوتا ہے؟ یہ ایک بالواسطہ لیکن اہم عمل ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں کانفرنس کے ایجنڈے یا اس میں پیش کیے جانے والے موضوعات کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ SCOP کانفرنس میں کوئی خاص پیشکش کرے گا یا نہیں۔ رپورٹ میں صرف ادارے کی شرکت اور اس کے مقاصد کا ذکر ہے۔ کیا اس قسم کی رپورٹس میں تفصیلات کی کمی سے قاری کی سمجھ متاثر ہوتی ہے؟ یہ ایک جائز سوال ہے، لیکن دستیاب معلومات کے مطابق SCOP کی شرکت کا بنیادی مقصد سیکھنا اور اپنے طریقوں کو بہتر بنانا ہے۔

سعودی سینٹر فار اوپینین پولنگ کا یہ اقدام اس بات کا عکاس ہے کہ مملکت میں رائے عامہ کی پیمائش کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ 27 سے 29 ستمبر 2026 تک بوڈاپسٹ میں جاری اس کانفرنس میں ڈاکٹر عبداللہ الحقیل کی شرکت SCOP کے بین الاقوامی تعاون کے سفر کا ایک اور قدم ہے۔ کیا یہ سفر آگے بھی اسی طرح جاری رہے گا؟ اس کا انحصار ادارے کی مستقبل کی حکمت عملی پر ہے، جس کی تفصیلات اس رپورٹ میں موجود نہیں۔

SCOP کس کانفرنس میں شریک ہو رہا ہے؟ سعودی سینٹر فار اوپینین پولنگ (SCOP) 2026 کی گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کر رہا ہے۔ یہ کانفرنس ہنگری کے شہر بوڈاپسٹ میں 27 سے 29 ستمبر تک منعقد ہو رہی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق، SCOP کی نمائندگی اس کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عبداللہ الحقیل کر رہے ہیں۔

SCOP کی شرکت کا مقصد کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق، SCOP کی شرکت اس کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اپنے طریقوں کو رائے عامہ کی پیمائش کے قائم شدہ سائنسی فریم ورک میں شامل کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادارہ ماہر تحقیقی مراکز اور اداروں کی مہارت اور تجربے سے فائدہ اٹھانا بھی چاہتا ہے۔ یہ دونوں مقاصد رپورٹ میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔

کانفرنس کہاں اور کب ہو رہی ہے؟ یہ کانفرنس ہنگری کے شہر بوڈاپسٹ میں 27 سے 29 ستمبر 2026 تک جاری ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، یہ گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کی سالانہ کانفرنس ہے۔ رپورٹ میں کانفرنس کے مقام اور تاریخ کا ذکر واضح طور پر موجود ہے، البتہ ایجنڈے یا موضوعات کی تفصیل نہیں دی گئی۔

SCOP کی نمائندگی کون کر رہا ہے؟ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق، SCOP کی نمائندگی اس کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عبداللہ الحقیل کر رہے ہیں۔ وہ کانفرنس میں ادارے کی طرف سے شریک ہیں۔ رپورٹ میں ان کی شرکت کی مزید تفصیلات یا کانفرنس میں ان کے کردار کے بارے میں اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

کیا رپورٹ میں کانفرنس کے ایجنڈے کی تفصیل ہے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں کانفرنس کے ایجنڈے، موضوعات یا SCOP کی ممکنہ پیشکش کی کوئی تفصیل موجود نہیں۔ رپورٹ میں صرف ادارے کی شرکت، مقام، تاریخ، نمائندے اور مقاصد کا ذکر ہے۔ اس لیے کانفرنس کے دوران کیا بحث ہوگی یا SCOP کیا پیش کرے گا، اس بارے میں دستیاب معلومات محدود ہیں۔