سعودی عرب نے 2017 سے روہنگیا پناہ گزینوں کے بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے 177 ملین ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 24 ستمبر 2026 کو بیان کیا، کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (KSrelief) کے سپروائزر جنرل ڈاکٹر عبداللہ الربيعہ نے نیویورک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر روہنگیا کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کے پروگرام میں شرکت کی۔ اس پروگرام کا انعقاد امریکہ، برطانیہ، بنگلہ دیش، ملائیشیا، ترکیہ، گیمبیا اور یورپی یونین نے کیا تھا۔
ڈاکٹر الربيعہ نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں ایک ملین سے زائد پناہ گزین مکمل طور پر انسانی امداد پر منحصر ہیں اور 2026 کے جوائنٹ ریسپانس پلان کو تقریباً 1.6 ملین روہنگیا پناہ گزینوں اور میزبان کمیونٹیز کی مدد کے لیے 710 ملین ڈالر سے زائد کی ضرورت ہے۔
KSrelief بین الاقوامی اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غذائی تحفظ، پناہ گاہوں، پانی اور نکاسی آب کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹر الربيعہ نے زور دیا کہ صرف انسانی امداد کافی نہیں ہے بلکہ میانمار میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں جو پناہ گزینوں کو محفوظ اور رضاکارانہ طور پر گھر واپسی کے قابل بنائیں۔
سعودی عرب نے روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے کتنی امداد دی ہے؟ سعودی عرب نے 2017 سے روہنگیا پناہ گزینوں کے بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے 177 ملین ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کی ہے۔ یہ امداد KSrelief کے ذریعے بین الاقوامی اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر دی گئی ہے۔
روہنگیا پناہ گزینوں کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟ بنگلہ دیش میں ایک ملین سے زائد پناہ گزین مکمل طور پر انسانی امداد پر منحصر ہیں۔ 2026 کے جوائنٹ ریسپانس پلان کے مطابق تقریباً 1.6 ملین پناہ گزینوں اور میزبان کمیونٹیز کے لیے 710 ملین ڈالر سے زائد کی ضرورت ہے۔
KSrelief کن شعبوں میں مدد فراہم کر رہا ہے؟ KSrelief پناہ گزینوں اور میزبان کمیونٹیز کے لیے غذائی تحفظ، پناہ گاہوں، پانی اور نکاسی آب کے منصوبوں کے ذریعے مدد فراہم کر رہا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ الربيعہ نے نیویورک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ان اقدامات کا ذکر کیا۔
ڈاکٹر عبداللہ الربيعہ نے میانمار کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا؟ انہوں نے کہا کہ صرف انسانی امداد کافی نہیں ہے اور میانمار میں ایسے حالات پیدا ہونے چاہئیں جو روہنگیا پناہ گزینوں کو محفوظ اور رضاکارانہ طور پر اپنے گھروں کو واپس جانے کے قابل بنائیں۔