Sunday, September 20, 2026
عمومی

عرب لیگ نے خلیج عمان میں متحدہ عرب امارات کے ٹینکر پر حملے کی مذمت کی

عرب لیگ نے خلیج عمان میں متحدہ عرب امارات کے ٹینکر پر حملے کی مذمت کی

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل فہمی نے خلیج عمان (Strait of Hormuz) سے گزرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ایک تیل ٹینکر پر ایران کے حملے کی مذمت کی ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اگست 2026 کو بیان کیا، نبیل فہمی نے کہا کہ یہ حملہ بحری راستوں کی حفاظت اور جہاز رانی کی آزادی کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کا ایک نیا حصہ ہے۔

سیکرٹری جنرل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ جارحانہ رویہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، خاص طور پر قرارداد نمبر 2817 کی خلاف ورزی ہے، جس میں جہاز رانی کی آزادی کے اصول کو تسلیم کیا گیا ہے اور تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

عرب لیگ نے ان حملوں کی مکمل ذمہ داری تہران پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہیں اور علاقائی سلامتی اور استحکام پر اثرات مرتب کریں گے۔

عرب لیگ نے کس واقعے کی مذمت کی ہے؟ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل فہمی نے خلیج عمان (Strait of Hormuz) میں متحدہ عرب امارات کے ایک تیل ٹینکر پر ایران کے حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے بحری راستوں کی حفاظت اور جہاز رانی کی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اس حملے کو کن قوانین کی خلاف ورزی کہا گیا ہے؟ اس جارحانہ رویے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، خاص طور پر قرارداد نمبر 2817 کی خلاف ورزی کہا گیا ہے۔ یہ قرارداد جہاز رانی کی آزادی کے اصول کو یقینی بناتی ہے اور تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتی ہے۔

عرب لیگ نے اس حملے کی ذمہ داری کس پر عائد کی ہے؟ عرب لیگ نے ان حملوں کی مکمل ذمہ داری تہران پر عائد کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہیں اور علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے نتائج کا باعث بنیں گے۔