نواکشوط میں آج سے چار روزہ پروگرام «Training Academics and Educators to Protect Youth from Extremist Ideology» کا آغاز ہوا ہے، جسے اسلامی فوجی انسداد دہشت گردی اتحاد (آئی ایم سی ٹی سی) عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ پروگرام 5 سے 8 اکتوبر تک جاری رہے گا اور یہ ساحل کے ممالک کے لیے آئی ایم سی ٹی سی کے اقدامات اور رکن ممالک میں ماہرین کی صلاحیت سازی کی کوششوں کا حصہ ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ پروگرام ساحل کے ممالک کے لیے آئی ایم سی ٹی سی کے اقدامات کا حصہ ہے اور فکری میدان میں اس کی کوششوں اور رکن ممالک کے ماہرین کی صلاحیتوں کی تعمیر سے منسلک ہے۔ پروگرام کا مقصد ماہرین تعلیم اور اساتذہ کو وہ علم اور مہارتیں فراہم کرنا ہے جو نوجوانوں کو انتہا پسند نظریے سے بچانے اور رواداری کی اقدار کو فروغ دینے کے لیے درکار ہیں۔
کیا تعلیمی ادارے واقعی انتہا پسندی کے ابتدائی اشارے پہچان سکتے ہیں؟ پروگرام اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اس کا ایک واضح مقصد شرکاء کی اس صلاحیت کو بہتر بنانا ہے کہ وہ تعلیمی ماحول میں انتہا پسند نظریے کے ابتدائی اشاروں اور انتباہی علامات کی نشاندہی کر سکیں۔ یہ صلاحیت اساتذہ کو کلاس روم کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر نگاہ رکھنے کے قابل بناتی ہے۔
پروگرام میں طلبہ اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مؤثر رابطے کی مہارتوں کی ترقی پر بھی توجہ دی جاتی ہے، تاکہ تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جا سکے اور فکری مضبوطی کی تعمیر کی جا سکے۔ کیا اساتذہ کے پاس طلبہ کے خاندانوں سے بات کرنے کے لیے درکار اعتماد اور زبان موجود ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس پر پروگرام کے شرکاء غور کریں گے، کیونکہ خاندان ہی وہ پہلا دائرہ ہے جہاں نوجوان کی سوچ کی تشکیل ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ کورس اساتذہ کی اہلیت کے تقاضوں کو بھی اجاگر کرتا ہے اور اساتذہ کے اس کردار پر روشنی ڈالتا ہے جو مداخلت اور روک تھام کے حوالے سے ان کا ہے، تاکہ طلبہ کو انتہا پسند نظریے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ کیا روک تھام کا کام صرف سزا دینے سے شروع ہوتا ہے یا سمجھنے اور رہنمائی سے؟ پروگرام کا رجحان واضح طور پر دوسری طرف ہے، یعنی علم، مہارت اور رابطے کے ذریعے تحفظ۔
نواکشوط میں یہ چار روزہ سیشن 5 اکتوبر سے شروع ہو کر 8 اکتوبر تک جاری رہے گا، اور اس کا انعقاد آئی ایم سی ٹی سی کے زیراہتمام ہو رہا ہے۔ کیا ساحل کے ممالک میں اس نوعیت کے پروگراموں کی ضرورت صرف وقتی ہے یا یہ ایک طویل مدتی ضرورت ہے؟ آئی ایم سی ٹی سی کی جانب سے یہ پروگرام اپنے رکن ممالک کے ماہرین کی صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا دائرہ فکری میدان تک پھیلا ہوا ہے۔
پروگرام کا عنوان ہی اس کا مرکز واضح کرتا ہے: ماہرین تعلیم اور اساتذہ کو تربیت دینا تاکہ وہ نوجوانوں کو انتہا پسند نظریے سے بچا سکیں۔ کیا اساتذہ کو اس کام کے لیے الگ سے تربیت دیے بغیر یہ ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے؟ یہی سوال اس پروگرام کی بنیاد معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس میں شرکاء کو علم اور مہارتیں دونوں فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے، اور ساتھ ہی رواداری کی اقدار کو فروغ دینے کا ذکر ہے۔
آئی ایم سی ٹی سی کے لیے ساحل کے ممالک کے ساتھ یہ اشتراک ایک وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے، جس میں فکری پہلو کو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ کیا فکری میدان میں کی جانے والی کوششیں امن و استحکام کے دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ چلنی چاہئیں؟ پروگرام کی تفصیل بتاتی ہے کہ اس کا مقصد صرف لیکچر دینا نہیں بلکہ شرکاء کی عملی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے، جن میں ابتدائی اشاروں کی نشاندہی، رابطے کی مہارت، تنقیدی سوچ کی ترویج اور اساتذہ کے کردار کی وضاحت شامل ہے۔
نواکشوط کا انتخاب بھی غور طلب ہے، کیونکہ یہ پروگرام ساحل کے ممالک کے لیے آئی ایم سی ٹی سی کے اقدامات کے تحت آتا ہے۔ کیا اس خطے میں تعلیمی اداروں کو درپیش چیلنجز دوسرے خطوں سے مختلف ہیں؟ پروگرام کا دورانیہ چار دن رکھا گیا ہے، جو 5 اکتوبر سے 8 اکتوبر تک ہے، اور اس میں شرکاء کو اساتذہ کی اہلیت کے تقاضوں سے بھی روشناس کرایا جائے گا۔
اساتذہ کی روک تھام اور مداخلت میں کردار کا موضوع اس پروگرام کے مرکزی نکات میں شامل ہے۔ کیا کلاس روم میں استاد کا کردار نگران سے بڑھ کر رہنما کا ہونا چاہیے؟ پروگرام کی تفصیل کے مطابق اساتذہ کو مداخلت اور روک تھام کے حوالے سے ان کے کردار سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو انتہا پسند نظریے سے محفوظ رکھا جا سکے، اور ساتھ ہی طلبہ اور خاندانوں کے ساتھ مؤثر رابطے کی مہارتیں بھی سکھائی جائیں گی۔
یہ پروگرام آئی ایم سی ٹی سی کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو وہ رکن ممالک میں ماہرین کی صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے کر رہا ہے، اور اس کا تعلق فکری میدان سے ہے۔ کیا اس طرح کے پروگراموں کے نتائج کی پیمائش کا کوئی طریقہ کار بھی موجود ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی گئی، نہ ہی شرکاء کی تعداد، نہ تربیت دینے والوں کے نام، اور نہ ہی پروگرام کے اختتام پر کسی قسم کے اعلان کا ذکر ہے۔
رپورٹ کے مطابق پروگرام کا مقصد شرکاء کی اس صلاحیت کو بہتر بنانا ہے کہ وہ تعلیمی ماحول میں انتہا پسند نظریے کے ابتدائی اشاروں اور انتباہی علامات کی نشاندہی کر سکیں، اور ساتھ ہی رواداری کی اقدار کو فروغ دیں۔ کیا ابتدائی اشاروں کی نشاندہی اور رواداری کی ترویج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟ پروگرام کی ساخت بتاتی ہے کہ دونوں پہلوؤں کو ساتھ رکھا گیا ہے، یعنی تشخیص کے ساتھ ساتھ مثبت اقدار کی تعمیر بھی۔
اس پروگرام کا ایک اور پہلو تنقیدی سوچ کی ترویج اور فکری مضبوطی کی تعمیر ہے، جس کے لیے طلبہ اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مؤثر رابطے کی مہارتوں کی ترقی پر زور دیا گیا ہے۔ کیا نوجوانوں کو انتہا پسند نظریے سے بچانے کے لیے صرف اسکول کافی ہے یا خاندان اور معاشرے کو بھی شامل کرنا ہوگا؟ پروگرام کی تفصیل میں خاندانوں کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ رابطے کا دائرہ کلاس روم سے آگے بھی پھیلا ہوا ہے۔
آئی ایم سی ٹی سی کی جانب سے یہ اقدام ساحل کے ممالک کے لیے اس کے پروگراموں کے سلسلے میں آتا ہے، اور اس کا انعقاد نواکشوط میں 5 سے 8 اکتوبر تک ہو رہا ہے۔ کیا اس خطے میں تعلیمی عملے کی تربیت کے لیے یہ پہلا موقع ہے یا اس سے پہلے بھی ایسے پروگرام ہو چکے ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس سوال کا جواب موجود نہیں، اور نہ ہی اس بات کا ذکر ہے کہ اس پروگرام میں کتنے شرکاء شریک ہو رہے ہیں یا اس کے انعقاد پر کتنا خرچ آ رہا ہے۔
پروگرام کے عنوان میں «محفوظ کرنا» کا لفظ مرکزی ہے، اور اس کا اطلاق نوجوانوں پر ہوتا ہے۔ کیا نوجوانوں کی حفاظت کا مطلب انہیں تنقیدی سوچ کے ساتھ مضبوط کرنا ہے یا انہیں بحث سے دور رکھنا؟ پروگرام کی تفصیل کے مطابق اس کا مقصد تنقیدی سوچ کو فروغ دینا اور فکری مضبوطی کی تعمیر ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حفاظت کا تصور علم اور سوچ کی صلاحیت سے جڑا ہوا ہے۔
اساتذہ کی اہلیت کے تقاضوں کا ذکر بھی پروگرام کے نکات میں شامل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ شرکاء کو اس بات سے بھی روشناس کرایا جائے گا کہ اساتذہ کی تربیت اور قابلیت کے لیے کیا تقاضے ضروری ہیں۔ کیا اساتذہ کی اہلیت کا معیار مقرر کرنا انتہا پسندی کے خلاف روک تھام کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے؟ یہ سوال پروگرام کے پس منظر میں اہم ہے، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست تعلیمی نظام کی صلاحیت سے ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق پروگرام کا آغاز آج نواکشوط میں ہوا اور یہ 8 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ کیا چار دن کا دورانیہ اس نوعیت کی تربیت کے لیے کافی ہے؟ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی، البتہ یہ واضح ہے کہ پروگرام کا مقصد شرکاء کو علم اور مہارتیں فراہم کرنا ہے، جن میں ابتدائی اشاروں کی نشاندہی، رابطے کی مہارت، تنقیدی سوچ کی ترویج اور اساتذہ کے کردار کی وضاحت شامل ہے۔
آئی ایم سی ٹی سی کے فکری میدان میں کیے جانے والے کام کا تعلق رکن ممالک میں ماہرین کی صلاحیتوں کی تعمیر سے ہے، اور یہ پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کیا اس طرح کے اقدامات کا اثر طویل مدت میں نظر آتا ہے یا فوری نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے؟ رپورٹ میں اس کا کوئی جواب نہیں، اور نہ ہی اس بات کا ذکر ہے کہ پروگرام کے بعد شرکاء کی کارکردگی کا جائزہ کیسے لیا جائے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ پروگرام کا انعقاد کس مقام پر ہو رہا ہے، کون سے ادارے اس میں تعاون کر رہے ہیں، یا شرکاء کا تعلق کس ملک سے ہے۔ یہ تفصیلات ایس پی اے کی رپورٹ میں موجود نہیں، اس لیے ان کے بارے میں کوئی اندازہ لگانا درست نہ ہوگا۔ جو بات دستاویز میں موجود ہے وہ یہ ہے کہ پروگرام کا آغاز آج نواکشوط میں ہوا، یہ چار دن جاری رہے گا، اور اسے آئی ایم سی ٹی سی عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
پروگرام کا مرکزی پیغام رواداری کی اقدار کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو انتہا پسند نظریے سے بچانا ہے، جس کے لیے ماہرین تعلیم اور اساتذہ کو علم اور مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ کیا یہ ایک ایسا فارمولا ہے جسے دوسرے خطوں میں بھی آزمایا جا سکتا ہے؟ ساحل کے ممالک کے لیے آئی ایم سی ٹی سی کے اقدامات کے تناظر میں یہ پروگرام اسی سمت میں ایک قدم ہے، اور اس کا دائرہ فکری میدان تک محدود رکھا گیا ہے۔
آخر میں، یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ایس پی اے کی رپورٹ میں پروگرام کے شرکاء کی تعداد، اس کے منتظمین کے نام، تربیت کے ماڈیولز کی تفصیل، یا اس کے نتائج کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ پروگرام 5 سے 8 اکتوبر تک نواکشوط میں جاری رہے گا، اسے آئی ایم سی ٹی سی عملی جامہ پہنا رہا ہے، اور اس کا مقصد ماہرین تعلیم اور اساتذہ کو نوجوانوں کو انتہا پسند نظریے سے بچانے کے لیے درکار علم اور مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
پروگرام کا مقصد کیا ہے؟ پروگرام کا مقصد ماہرین تعلیم اور اساتذہ کو وہ علم اور مہارتیں فراہم کرنا ہے جو نوجوانوں کو انتہا پسند نظریے سے بچانے اور رواداری کی اقدار کو فروغ دینے کے لیے درکار ہیں۔ اس کا ایک اور مقصد شرکاء کی اس صلاحیت کو بہتر بنانا ہے کہ وہ تعلیمی ماحول میں انتہا پسند نظریے کے ابتدائی اشاروں اور انتباہی علامات کی نشاندہی کر سکیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام آئی ایم سی ٹی سی کے فکری میدان کی کوششوں کا حصہ ہے۔
پروگرام کہاں اور کب ہو رہا ہے؟ پروگرام کا آغاز آج نواکشوط، موریطانیہ میں ہوا اور یہ 5 سے 8 اکتوبر تک چار دن جاری رہے گا۔ اسے اسلامی فوجی انسداد دہشت گردی اتحاد (آئی ایم سی ٹی سی) عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام ساحل کے ممالک کے لیے آئی ایم سی ٹی سی کے اقدامات کا حصہ ہے، اور اس کا تعلق رکن ممالک میں ماہرین کی صلاحیتوں کی تعمیر سے بھی ہے۔
اساتذہ کی تربیت میں کون سی مہارتیں شامل ہیں؟ پروگرام میں طلبہ اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مؤثر رابطے کی مہارتوں کی ترقی پر توجہ دی جاتی ہے تاکہ تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جا سکے اور فکری مضبوطی کی تعمیر ہو سکے۔ اس کے علاوہ شرکاء کو اساتذہ کی اہلیت کے تقاضوں سے روشناس کرایا جاتا ہے اور اساتذہ کے مداخلت اور روک تھام کے کردار پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام تعلیمی ماحول میں ابتدائی اشاروں کی نشاندہی کی صلاحیت بھی بہتر بناتا ہے۔
کیا پروگرام میں شرکاء کی تعداد بتائی گئی ہے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں شرکاء کی تعداد، ان کے نام یا ان کے اداروں کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ پروگرام نواکشوط میں 5 سے 8 اکتوبر تک جاری رہے گا اور اسے آئی ایم سی ٹی سی عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ تربیت دینے والوں کے نام، پروگرام کے مقام یا اس کے نتائج کے بارے میں بھی کوئی معلومات رپورٹ میں موجود نہیں ہیں۔
اس پروگرام کا ساحل کے ممالک سے کیا تعلق ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام ساحل کے ممالک کے لیے آئی ایم سی ٹی سی کے اقدامات کا حصہ ہے۔ اس کا تعلق فکری میدان میں آئی ایم سی ٹی سی کی کوششوں اور رکن ممالک کے ماہرین کی صلاحیتوں کی تعمیر سے بھی ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سے پہلے ساحل کے ممالک میں اس نوعیت کے کتنے پروگرام منعقد ہوئے یا ان کے کیا نتائج رہے۔