Sunday, October 25, 2026
سعودی خبریں

اقوام متحدہ نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی مذمت کی

اقوام متحدہ نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی مذمت کی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسی ہفتے کے دوران ریاض اور ابھا کے ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں عام شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، واشنگٹن سے جاری ہونے والے بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملوں کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ نے بھی سعودی عرب میں شہری تنصیبات کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کی، جن میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والا حملہ بھی شامل ہے۔

گرنڈبرگ نے نوٹ کیا کہ یہ حملہ اسی ہفتے کے اوائل میں ریاض اور ابھا کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن کے نتیجے میں عام شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ کیا ہوائی اڈے، جو کسی بھی ملک کے لیے شہری زندگی اور معیشت کا اہم ترین مرکز ہوتے ہیں، بین الاقوامی قانون کے تحفظ کا حصہ نہیں ہونے چاہئیں؟

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے اپنے بیان میں حوثیوں سے مطالبہ دہرایا کہ وہ ان حملوں کو بند کریں اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں، جس میں عام شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کی ممانعت شامل ہے۔ یہ موقف اس وقت کتنا مضبوط ہوتا ہے جب شہری تنصیبات کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہو؟

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے بیان میں کہا گیا کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور انہوں نے اس طرح کے حملوں کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ مؤقف بین الاقوامی انسانی قانون کے ان اصولوں کی یاد دہانی ہے جو تنازعات کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کا مرکزی ہوائی اڈہ ہے، جو ہر سال لاکھوں مسافروں کی آمد و رفت کا ذریعہ ہے۔ کسی بھی ہوائی اڈے پر حملہ نہ صرف وہاں موجود مسافروں اور عملے کی جان کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ اس کے گرد و نواح میں رہنے والے عام شہریوں کی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ کیا ہوائی اڈوں کے قریب رہنے والے خاندانوں کی حفاظت کے بارے میں سوچا گیا ہے؟

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ کا کردار یمن کے تنازعے میں اہم سمجھا جاتا ہے، اور ان کی جانب سے بار بار کی جانے والی مذمت اس بات کا اشارہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ان حملوں کو کس نظر سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ریاض اور ابھا کے ہوائی اڈوں پر حملے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں، جہاں شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات ملی ہیں۔

بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت عام شہریوں اور شہری اشیاء پر حملے ممنوع ہیں، اور یہ اصول تمام فریقوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں کی جانب سے اس اصول کے احترام پر زور دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تنازعات میں بھی کچھ حدود کا خیال رکھنا لازمی ہے۔ کیا ان حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی ہوتی ہے؟

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بیان میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانی المیہ ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملوں کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے، تاکہ عام شہریوں کی جان اور مال محفوظ رہے۔

ہانس گرنڈبرگ نے اپنے بیان میں حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کو بند کریں اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں۔ انہوں نے خاص طور پر اس اصول کا ذکر کیا کہ عام شہریوں اور شہری اشیاء پر حملے ممنوع ہیں۔ یہ مطالبہ اس وقت کتنا مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جب زمینی حقائق مختلف ہوں؟

واشنگٹن سے جاری ہونے والے اس بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسی ہفتے کے دوران سعودی عرب میں متعدد ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن نے بھی اپنے بیان میں ان حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ حملے ریاض اور ابھا کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے حوثیوں سے مطالبہ دہرایا کہ وہ ان حملوں کو بند کریں اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں۔

بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کے مطابق، تنازعات کے دوران عام شہریوں اور شہری تنصیبات کو تحفظ فراہم کرنا تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں کی جانب سے اس اصول پر زور دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری ان حملوں کو کس حد تک سنگین سمجھتی ہے۔ کیا بین الاقوامی برادری کے بیانات زمینی سطح پر تبدیلی لا سکتے ہیں؟

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا بیان اس بات پر مرکوز تھا کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسے حملوں کا سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔

ہانس گرنڈبرگ نے اپنے بیان میں اس بات کا ذکر کیا کہ ریاض اور ابھا کے ہوائی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات ملی ہیں۔ انہوں نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کو بند کریں اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں، جس میں عام شہریوں اور شہری اشیاء پر حملوں کی ممانعت شامل ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب میں شہری تنصیبات کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں کی جانب سے مسلسل مذمت اس بات کا عندیہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ان حملوں کو کس نظر سے دیکھ رہی ہے۔ کیا اس طرح کے بیانات سے متاثرین کو انصاف مل سکتا ہے؟

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بیان میں یہ واضح کیا گیا کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملوں کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے، تاکہ عام شہریوں کی جان اور مال محفوظ رہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن نے بھی اپنے بیان میں ان حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ حملے ریاض اور ابھا کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے حوثیوں سے مطالبہ دہرایا کہ وہ ان حملوں کو بند کریں اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں۔

رپورٹ میں حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات، متاثرین کی تعداد، یا حملوں کے طریقہ کار کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان حملوں کے بعد سعودی حکام کی جانب سے کیا اقدامات اٹھائے گئے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کس حملے کی مذمت کی؟ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ یہ بیان واشنگٹن سے جاری ہوا۔

یمن کے خصوصی ایلچی نے کیا کہا؟ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ نے سعودی عرب میں شہری تنصیبات کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کی، جن میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والا حملہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ریاض اور ابھا کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آیا، جہاں شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات ملیں۔

حوثیوں سے کیا مطالبہ کیا گیا؟ ہانس گرنڈبرگ نے حوثیوں سے مطالبہ دہرایا کہ وہ ان حملوں کو بند کریں اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں، جس میں عام شہریوں اور شہری اشیاء پر حملوں کی ممانعت شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملوں کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کہاں واقع ہے؟ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع ہے اور یہ ملک کے مرکزی ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اسی ہفتے کے دوران ریاض اور ابھا کے ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں عام شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

بین الاقوامی قانون میں شہری تنصیبات کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟ اقوام متحدہ کے عہدیداروں کے مطابق بین الاقوامی انسانی قانون عام شہریوں اور شہری اشیاء پر حملوں کی ممانعت کرتا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ گرنڈبرگ نے بھی اسی اصول کے احترام پر زور دیا۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات، متاثرین کی تعداد، یا حملوں کے طریقہ کار کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان حملوں کے بعد سعودی حکام کی جانب سے کیا اقدامات اٹھائے گئے۔