Monday, October 26, 2026
سعودی خبریں

الازہر نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثی حملوں کی مذمت دہرائی

الازہر نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثی حملوں کی مذمت دہرائی

قاہرہ میں الازہر کے گرینڈ امام ڈاکٹر احمد الطیب نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کے گرد و نواح کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت دوبارہ کی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب بھر میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے ان تازہ حملوں کی بھی مذمت کی جو دو مقدس شہروں کو نشانہ بنا رہے تھے اور جنہیں سعودی فضائی دفاعی نظام نے مقدس مقامات کے قریب کامیابی سے روک لیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، گرینڈ امام ڈاکٹر احمد الطیب نے آج جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ وہ ان تمام اقدامات کو قطعی مسترد کرتے ہیں جو ان مقدس مقامات کی حرمت کو پامال کریں یا مملکت کی سلامتی اور اس کے شہریوں اور زائرین کی حفاظت کو خطرے میں ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے گناہ کا کام ہیں اور دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کے مترادف ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملے اس امت پر حملہ ہیں جو ان مقدس مقامات کی نگرانی کرتی ہے جنہیں ہر مسلمان عزیز رکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کے قریب حملوں کو سعودی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنایا۔

کیا دنیا بھر کے مسلمان ان مقدس مقامات کی حرمت کو نشانہ بنانے والے ایسے اقدامات پر خاموش رہ سکتے ہیں؟ گرینڈ امام کا موقف واضح ہے کہ ان حملوں کو نہ صرف مسترد کیا جانا چاہیے بلکہ انہیں گناہ قرار دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حملے تقریباً دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں، جو ان مقدس مقامات سے گہرا روحانی تعلق رکھتے ہیں۔

الازہر کا یہ بیان سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔ گرینڈ امام نے مملکت کی سلامتی اور اس کے شہریوں اور زائرین کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی اقدام کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی کرنے والے اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں۔

کیا ان حملوں کا مقصد مقدس مقامات کی حرمت کو نقصان پہنچانا نہیں؟ گرینڈ امام کے مطابق یہ حملے اس امت پر حملہ ہیں جو ان مقدس مقامات کی نگرانی کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس مقامات ہر مسلمان کے دل میں خاص مقام رکھتے ہیں اور ان پر کسی بھی قسم کا حملہ پوری امت کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔

سعودی فضائی دفاعی نظام نے مقدس مقامات کے قریب ان حملوں کو کامیابی سے روکا۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت اپنی سرزمین اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ گرینڈ امام نے اس حوالے سے سعودی کوششوں کو سراہا اور ان حملوں کی مذمت کی جو شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں۔

کیا شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا کسی بھی طور پر جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ گرینڈ امام نے اس قسم کے حملوں کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ اقدامات خطے میں عدم استحکام اور خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مقدس مقامات کی حرمت اور شہریوں کی حفاظت ہر حال میں یقینی بنائی جانی چاہیے۔

الازہر کا یہ موقف دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ گرینڈ امام ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا کہ یہ حملے گناہ کا کام ہیں اور ان کی کوئی توجیہ نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مقدس مقامات کی حرمت کو پامال کرنے والے اقدامات نہ صرف مذموم ہیں بلکہ یہ پوری امت کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں۔

کیا ان حملوں کے پیچھے کوئی ایسا مقصد ہے جو مقدس مقامات کی حرمت کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتا؟ گرینڈ امام نے اس سوال کا جواب اپنے بیان میں دیا ہے کہ وہ ان تمام اقدامات کو قطعی مسترد کرتے ہیں جو مقدس مقامات کی حرمت کو پامال کریں۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کی سلامتی اور اس کے شہریوں اور زائرین کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں۔

سعودی عرب نے ہمیشہ مقدس مقامات کی حفاظت اور زائرین کی سلامتی کو اولین ترجیح دی ہے۔ گرینڈ امام کے بیان نے اس عزم کی حمایت کی اور ان حملوں کی مذمت کی جو ان مقدس مقامات کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے اس امت پر حملہ ہیں جو ان مقدس مقامات کی نگرانی کرتی ہے۔

کیا دنیا بھر کے مسلمان ان حملوں کے خلاف متحد ہو کر آواز نہیں اٹھائیں گے؟ الازہر کے گرینڈ امام کا بیان اس بات کا غماز ہے کہ مقدس مقامات کی حرمت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے تقریباً دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں اور انہیں گناہ قرار دیا جانا چاہیے۔

گرینڈ امام نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ان تمام اقدامات کو قطعی مسترد کرتے ہیں جو مقدس مقامات کی حرمت کو پامال کریں یا مملکت کی سلامتی اور اس کے شہریوں اور زائرین کی حفاظت کو خطرے میں ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے گناہ کا کام ہیں اور دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کے مترادف ہیں۔

کیا مقدس مقامات کے قریب حملوں کو روکنا سعودی فضائی دفاعی نظام کی کامیابی نہیں؟ سعودی فضائی دفاعی نظام نے مقدس مقامات کے قریب ان حملوں کو کامیابی سے روکا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت اپنی سرزمین اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے پوری طرح چوکس ہے۔ گرینڈ امام نے اس حوالے سے سعودی کوششوں کو سراہا۔

الازہر کا یہ بیان سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ مقدس مقامات کی حرمت کا تحفظ پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ گرینڈ امام نے کہا کہ یہ حملے اس امت پر حملہ ہیں جو ان مقدس مقامات کی نگرانی کرتی ہے جنہیں ہر مسلمان عزیز رکھتا ہے۔

کیا ان حملوں کی مذمت کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری نہیں؟ گرینڈ امام ڈاکٹر احمد الطیب نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ مقدس مقامات کی حرمت کو پامال کرنے والے اقدامات کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے گناہ کا کام ہیں اور ان کی کوئی توجیہ نہیں دی جا سکتی۔

سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق یہ بیان آج جاری کیا گیا۔ گرینڈ امام نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کے گرد و نواح کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت دوبارہ کی۔ انہوں نے سعودی عرب بھر میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں کی بھی مذمت کی۔

کیا شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ نہیں؟ گرینڈ امام نے اس قسم کے حملوں کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ اقدامات خطے میں عدم استحکام اور خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مقدس مقامات کی حرمت اور شہریوں کی حفاظت ہر حال میں یقینی بنائی جانی چاہیے۔

الازہر کے گرینڈ امام کا یہ موقف دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے اور اس بات کا غماز ہے کہ مقدس مقامات کی حرمت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے تقریباً دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں اور انہیں گناہ قرار دیا جانا چاہیے۔

رپورٹ میں ان حملوں کی تفصیلات، ان کے اوقات یا ان کے نتائج کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے کے مطابق گرینڈ امام نے اپنے بیان میں مقدس مقامات کی حرمت اور مملکت کی سلامتی کے تحفظ پر زور دیا۔

گرینڈ امام ڈاکٹر احمد الطیب نے کن حملوں کی مذمت کی؟ انہوں نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کے گرد و نواح کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت دوبارہ کی۔ انہوں نے سعودی عرب بھر میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے ان تازہ حملوں کی بھی مذمت کی جو دو مقدس شہروں کو نشانہ بنا رہے تھے اور جنہیں سعودی فضائی دفاعی نظام نے مقدس مقامات کے قریب کامیابی سے روک لیا۔

گرینڈ امام نے ان حملوں کو کیا قرار دیا؟ انہوں نے کہا کہ یہ حملے گناہ کا کام ہیں اور دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے اس امت پر حملہ ہیں جو ان مقدس مقامات کی نگرانی کرتی ہے جنہیں ہر مسلمان عزیز رکھتا ہے۔ انہوں نے ان تمام اقدامات کو قطعی مسترد کیا جو مقدس مقامات کی حرمت کو پامال کریں۔

سعودی فضائی دفاعی نظام نے کیا کیا؟ سعودی فضائی دفاعی نظام نے مقدس مقامات کے قریب ان حملوں کو کامیابی سے روکا۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت اپنی سرزمین اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ گرینڈ امام نے اس حوالے سے سعودی کوششوں کو سراہا اور ان حملوں کی مذمت کی جو شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں۔

گرینڈ امام نے مملکت کی سلامتی کے بارے میں کیا کہا؟ انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام اقدامات کو قطعی مسترد کرتے ہیں جو ان مقدس مقامات کی حرمت کو پامال کریں یا مملکت کی سلامتی اور اس کے شہریوں اور زائرین کی حفاظت کو خطرے میں ڈالیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مقدس مقامات کی حرمت اور شہریوں کی حفاظت ہر حال میں یقینی بنائی جانی چاہیے۔ یہ بیان آج جاری کیا گیا۔

یہ بیان کب اور کہاں سے جاری کیا گیا؟ یہ بیان قاہرہ سے جاری کیا گیا اور سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے اسے نشر کیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ بیان آج جاری کیا گیا۔ گرینڈ امام ڈاکٹر احمد الطیب نے اس میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کے گرد و نواح کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت دوبارہ کی۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ رپورٹ میں ان حملوں کی تفصیلات، ان کے اوقات یا ان کے نتائج کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے کے مطابق گرینڈ امام نے اپنے بیان میں مقدس مقامات کی حرمت اور مملکت کی سلامتی کے تحفظ پر زور دیا۔ رپورٹ میں حملوں کی تعداد، ان کے مقامات یا ان کے نقصان کے بارے میں کوئی تفصیل شامل نہیں۔