Monday, October 26, 2026
سعودی خبریں

انسانی حقوق کی قومی سوسائٹی کا حوثیوں کے بچوں کی بھرتی کے خاتمے کا مطالبہ

انسانی حقوق کی قومی سوسائٹی کا حوثیوں کے بچوں کی بھرتی کے خاتمے کا مطالبہ

انسانی حقوق کی قومی سوسائٹی نے یمن میں دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کی مسلسل بھرتی اور استحصال کی مذمت کی ہے اور اس کے نتیجے میں ان کی جان، سلامتی اور مستقبل کو لاحق خطرات، تعلیم اور محفوظ زندگی سے محرومی اور جنگی کارروائیوں میں ان کی شمولیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، سوسائٹی نے متعلقہ بین الاقوامی رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کی بھرتی اور استعمال کے واقعات کی دستاویز کی گئی ہے، نیز ان رپورٹس کا بھی ذکر کیا جن میں بتایا گیا ہے کہ بچے فوجی نوعیت کے مواد اور سرگرمیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

سوسائٹی نے زور دیا کہ ایسے طریقوں کا تسلسل بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ ان بین الاقوامی قواعد اور تحفظات کے منافی ہے جو مسلح تنازعات میں بچوں کو بھرتی اور استحصال سے بچانے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ کیا بین الاقوامی برادری ان قواعد کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے؟

سوسائٹی نے یہ بھی زور دیا کہ بچوں کی بھرتی سے نمٹنے کا عمل صرف مذمت یا خلاف ورزیوں کی دستاویز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے لیے ٹھوس اقدامات درکار ہیں تاکہ ان طریقوں کو روکا جا سکے، بھرتی کیے گئے بچوں کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکے، ان کی دوبارہ بھرتی کو روکا جا سکے اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جا سکے۔ اگر ذمہ داروں کو جوابدہ نہ بنایا جائے تو کیا یہ سلسلہ رک سکتا ہے؟

مزید برآں، سوسائٹی نے اقوام متحدہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بچوں کی مسلسل بھرتی اور استحصال کے خلاف سخت اقدامات کرے اور متعلقہ بین الاقوامی اقدامات اور میکانزم کو فعال کرے تاکہ ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جا سکے اور ان کی ان جرائم کو جاری رکھنے کی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔ کیا سلامتی کونسل کے موجودہ میکانزم اس مقصد کے لیے کافی ہیں؟

سوسائٹی نے زور دیا کہ بچوں کو تنازعات میں شامل کرنا تشدد اور انتہا پسندی کے چکروں کو ہوا دیتا ہے، تنازعات کو طول دیتا ہے اور امن و استحکام کے امکانات کو کمزور کرتا ہے، جس سے بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔ کیا تنازعات میں بچوں کی شمولیت خطے کے امن کے لیے طویل مدتی خطرہ نہیں؟

سوسائٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں کی بھرتی اور استحصال کے خاتمے کی کوششوں کو مؤثر پروگراموں کے ساتھ مکمل کرنا ضروری ہے تاکہ متاثرہ بچوں کی بحالی اور دوبارہ انضمام کو یقینی بنایا جا سکے، ان کی اپنے خاندانوں اور اسکولوں میں واپسی کو یقینی بنایا جا سکے اور انہیں ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ بحالی کے بغیر رہائی کتنی پائیدار ہو سکتی ہے؟

یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی رپورٹس مسلح تنازعات میں بچوں کی بھرتی کے واقعات کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں۔ سوسائٹی کا کہنا ہے کہ بچوں کو فوجی نوعیت کے مواد اور سرگرمیوں سے متاثر ہونے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جو ان کی تعلیم اور محفوظ زندگی سے محرومی کا سبب بنتے ہیں۔ کیا بچوں کو جنگی کارروائیوں میں دھکیلنا ان کے مستقبل کو تباہ نہیں کرتا؟

سوسائٹی کے مطابق بچوں کے حقوق کی یہ خلاف ورزی ان بین الاقوامی قواعد و ضوابط کے خلاف ہے جو مسلح تنازعات میں بچوں کو بھرتی اور استحصال سے بچانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس نے واضح کیا کہ محض مذمت یا دستاویز سازی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ کیا محض مذمتی بیانات سے بچوں کی حفاظت ممکن ہے؟

سوسائٹی نے مطالبہ کیا کہ بھرتی کیے گئے بچوں کی رہائی کو یقینی بنایا جائے اور ان کی دوبارہ بھرتی کو روکا جائے، ساتھ ہی ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ اس نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ متعلقہ بین الاقوامی اقدامات اور میکانزم کو فعال کریں تاکہ ذمہ داروں کی جوابدہی ممکن ہو اور وہ ان جرائم کو جاری نہ رکھ سکیں۔ کیا بین الاقوامی میکانزم کے بغیر جوابدہی ممکن ہے؟

سوسائٹی نے خبردار کیا کہ بچوں کو تنازعات میں شامل کرنا تشدد اور انتہا پسندی کے چکروں کو ہوا دیتا ہے اور تنازعات کو طول دیتا ہے، جس سے امن و استحکام کے امکانات کمزور ہوتے ہیں اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔ کیا یہ چکر خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب نہیں بنتا؟

سوسائٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی بھرتی کے خاتمے کی کوششوں کے ساتھ مؤثر بحالی اور دوبارہ انضمام کے پروگرام بھی ضروری ہیں تاکہ متاثرہ بچے اپنے خاندانوں اور اسکولوں میں واپس جا سکیں اور انہیں ضروری سہولیات میسر آ سکیں۔ اس نے کہا کہ ان پروگراموں کے بغیر بچوں کی مکمل بحالی ممکن نہیں۔ کیا بحالی کے پروگراموں کے بغیر بچے معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سوسائٹی نے کس تاریخ یا کس مقام پر یہ بیان جاری کیا، نہ ہی کسی مخصوص بین الاقوامی رپورٹ کا نام دیا گیا، اور نہ ہی بھرتی کیے گئے بچوں کی تعداد یا ان کی رہائی کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار فراہم کیے گئے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سوسائٹی نے کسی مخصوص ملک یا ادارے سے براہ راست رابطہ کیا یا نہیں۔

انسانی حقوق کی قومی سوسائٹی نے کس عمل کی مذمت کی؟ سوسائٹی نے یمن میں دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کی مسلسل بھرتی اور استحصال کی مذمت کی اور اس کے نتیجے میں ان کی جان، سلامتی اور مستقبل کو لاحق خطرات کا ذکر کیا۔ ایس پی اے کے مطابق سوسائٹی نے کہا کہ بچوں کو تعلیم اور محفوظ زندگی سے محروم کیا جا رہا ہے اور انہیں جنگی کارروائیوں میں دھکیلا جا رہا ہے۔

سوسائٹی نے کون سی بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیا؟ سوسائٹی نے متعلقہ بین الاقوامی رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کی بھرتی اور استعمال کے واقعات کی دستاویز کی گئی ہے۔ اس نے ان رپورٹس کا بھی ذکر کیا جن میں بتایا گیا کہ بچے فوجی نوعیت کے مواد اور سرگرمیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کسی مخصوص رپورٹ کا نام نہیں دیا گیا۔

سوسائٹی کے مطابق بچوں کی بھرتی سے نمٹنے کے لیے کیا ضروری ہے؟ سوسائٹی نے زور دیا کہ مسئلہ صرف مذمت یا دستاویز سازی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔ ان اقدامات میں بھرتی کیے گئے بچوں کی رہائی کو یقینی بنانا، ان کی دوبارہ بھرتی کو روکنا اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنانا شامل ہے۔ ایس پی اے کے مطابق سوسائٹی نے یہ موقف اپنے بیان میں واضح کیا۔

سوسائٹی نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے کیا مطالبہ کیا؟ سوسائٹی نے اقوام متحدہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بچوں کی مسلسل بھرتی اور استحصال کے خلاف سخت اقدامات کریں۔ اس نے کہا کہ متعلقہ بین الاقوامی اقدامات اور میکانزم کو فعال کیا جائے تاکہ ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جا سکے اور ان کی ان جرائم کو جاری رکھنے کی صلاحیت محدود ہو۔

سوسائٹی کے مطابق بچوں کو تنازعات میں شامل کرنے کے کیا نتائج ہیں؟ سوسائٹی نے زور دیا کہ بچوں کو تنازعات میں شامل کرنا تشدد اور انتہا پسندی کے چکروں کو ہوا دیتا ہے اور تنازعات کو طول دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں امن و استحکام کے امکانات کمزور ہوتے ہیں اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔ یہ بات ایس پی اے کی رپورٹ میں سوسائٹی کے مؤقف کے طور پر بیان کی گئی۔

سوسائٹی نے بحالی اور دوبارہ انضمام کے بارے میں کیا کہا؟ سوسائٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی بھرتی کے خاتمے کی کوششوں کو مؤثر بحالی اور دوبارہ انضمام کے پروگراموں کے ساتھ مکمل کرنا ضروری ہے۔ ان پروگراموں کا مقصد متاثرہ بچوں کی بحالی، ان کی اپنے خاندانوں اور اسکولوں میں واپسی کو یقینی بنانا اور انہیں ضروری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ رپورٹ میں پروگراموں کی تفصیل نہیں دی گئی۔