جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر الیکٹرانک گیٹس کے آپریشن کا جائزہ سعودی ڈیٹا اینڈ اے آئی اتھارٹی (ایس ڈی اے آئی اے) کے صدر ڈاکٹر عبداللہ بن شرف الغامدی نے بدھ کے روز لیا۔ یہ ای-گیٹس جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس نے ایس ڈی اے آئی اے اور مطارات ہولڈنگ کمپنی کے تعاون سے شروع کیے تھے، جن کا مقصد ہوائی اڈے سے مسافروں کے سفر کو آسان بنانا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، ڈاکٹر عبداللہ بن شرف الغامدی نے اپنے دورے کے دوران ایس ڈی اے آئی اے کی جانب سے عازمین اور عمرہ زائرین کی آمد اور روانگی کے موقع پر ان کی خدمت کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا جائزہ لیا۔ ان مسلسل کوششوں میں ای-گیٹ سسٹمز کی ترقی اور آپریشن کے ساتھ ساتھ ان کا بارڈر کنٹرول، بایو میٹرک ڈیٹا، ایئر لائنز اور ویزا سسٹمز کے ساتھ انضمام شامل ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مسافروں کے سفر کے تجربے کو بہتر بنانے اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے سمارٹ ٹیکنالوجیز کا استعمال اہم ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب مملکت میں آنے والے زائرین اور مسافروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور ہوائی اڈوں پر تیز رفتار اور محفوظ طریقے سے ان کی آمد و رفت کو یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔
ای-گیٹس کا مقصد اور نظام کیسے کام کرتا ہے؟
ای-گیٹس کا بنیادی مقصد مسافروں کو ہوائی اڈے پر طویل قطاروں اور دستی کارروائی سے بچانا ہے۔ یہ گیٹس بایو میٹرک ڈیٹا کی مدد سے مسافر کی شناخت چند سیکنڈوں میں مکمل کر لیتے ہیں، جس سے بارڈر کنٹرول کے عمل میں تیزی آتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب آپ ہوائی اڈے پر پہنچتے ہیں تو آپ کی شناخت کتنے نظاموں کے ذریعے ہوتی ہے؟ ایس ڈی اے آئی اے کے مطابق، یہ نظام بارڈر کنٹرول، بایو میٹرک ڈیٹا، ایئر لائنز اور ویزا سسٹمز کے ساتھ مکمل طور پر منسلک ہے، جس کا مطلب ہے کہ مسافر کی معلومات پہلے سے ہی مختلف ڈیٹا بیسز میں موجود ہوتی ہیں اور ای-گیٹ انہیں فوری طور پر تصدیق کرتا ہے۔
اس انضمام کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ نظام عازمین اور عمرہ زائرین کی خدمت کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا ہے۔ ہر سال لاکھوں زائرین مملکت میں آتے ہیں، اور ان کی آمد و رفت کو آسان بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ای-گیٹس کا استعمال کس طرح عمرہ زائرین کے سفر کے وقت کو کم کرتا ہے؟ ڈاکٹر الغامدی نے اپنے دورے میں ان کوششوں کا جائزہ لیا جو ایس ڈی اے آئی اے عازمین اور عمرہ زائرین کی آمد اور روانگی کے دوران کر رہی ہے۔
یہ نظام صرف ایک تکنیکی سہولت نہیں بلکہ ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد مملکت کے ہوائی اڈوں کو دنیا کے جدید ترین ہوائی اڈوں میں شامل کرنا ہے۔ مطارات ہولڈنگ کمپنی کے ساتھ تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ منصوبہ صرف پاسپورٹ کنٹرول تک محدود نہیں بلکہ ہوائی اڈے کے مجموعی انفراسٹرکچر اور مسافر کے تجربے کو بہتر بنانے سے جڑا ہوا ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ بن شرف الغامدی کا یہ دورہ اس بات کا غماز ہے کہ ایس ڈی اے آئی اے اپنے منصوبوں کی نگرانی اور ان کی کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے میدان میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے موقع پر موجود عملے اور حکام سے ملاقات کی اور نظام کی کارکردگی کا براہ راست مشاہدہ کیا۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ایک اعلیٰ عہدیدار کا میدانی دورہ کس طرح نظام کی بہتری میں مددگار ثابت ہوتا ہے؟ اس طرح کے دورے نہ صرف موجودہ نظام کی جانچ پڑتال کرتے ہیں بلکہ مستقبل کی بہتری کے لیے تجاویز بھی فراہم کرتے ہیں۔
ای-گیٹس کی تنصیب اور آپریشن کے پیچھے ایک طویل تیاری کا عمل شامل ہے۔ ایس ڈی اے آئی اے نے اس نظام کو تیار کرنے اور چلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس نے اسے بارڈر کنٹرول کے نظام سے جوڑا ہے۔ مطارات ہولڈنگ کمپنی نے ہوائی اڈے کے انفراسٹرکچر کو اس کے لیے تیار کیا۔ یہ تینوں اداروں کا مشترکہ تعاون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ نظام نہ صرف تکنیکی طور پر مضبوط ہو بلکہ عملی طور پر بھی موثر ہو۔
سعودی عرب میں ڈیجیٹل تبدیلی کا یہ منصوبہ وژن 2030 کے اہداف کا حصہ ہے، جس کا مقصد حکومتی خدمات کو جدید بنانا اور شہریوں اور زائرین کے تجربے کو بہتر بنانا ہے۔ ای-گیٹس اس وژن کا ایک عملی نمونہ ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے استعمال سے روزمرہ کے سفر کو آسان بنایا جا رہا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایس ڈی اے آئی اے کس طرح مصنوعی ذہانت کو سرکاری خدمات میں استعمال کر رہی ہے؟ یہ اتھارٹی نہ صرف ہوائی اڈوں بلکہ دیگر شعبوں میں بھی ڈیٹا اور اے آئی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔
ہوائی اڈے پر ای-گیٹس کا نظام مسافروں کے لیے ایک بہتر تجربہ فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو بار بار سفر کرتے ہیں۔ تیز رفتار کارروائی کا مطلب ہے کہ مسافر اپنے وقت کو دیگر سرگرمیوں میں صرف کر سکتے ہیں، جیسے کہ ہوائی اڈے کی سہولیات کا استعمال یا آرام۔ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ہوائی اڈے پر لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے میں کتنا وقت ضائع ہوتا ہے؟ ای-گیٹس اس مسئلے کا ایک مؤثر حل پیش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر الغامدی نے اپنے دورے میں اس بات پر زور دیا کہ سمارٹ ٹیکنالوجیز کا استعمال کارکردگی کو بڑھانے اور مسافروں کے سفر کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے اہم ہے۔ یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایس ڈی اے آئی اے کی حکمت عملی صرف ٹیکنالوجی کی تنصیب تک محدود نہیں بلکہ اس کے مؤثر استعمال اور مسلسل بہتری پر مرکوز ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سمارٹ ٹیکنالوجیز کس طرح ہوائی اڈوں کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہیں؟ یہ ٹیکنالوجیز نہ صرف وقت بچاتی ہیں بلکہ انسانی غلطیوں کو بھی کم کرتی ہیں۔
ای-گیٹس کے نظام میں بایو میٹرک ڈیٹا کا استعمال ایک اہم عنصر ہے۔ مسافر کی تصویر اور انگلیوں کے نشانات کے ذریعے شناخت کی تصدیق کی جاتی ہے، جس سے جعل سازی یا غلط شناخت کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ یہ نظام بارڈر کنٹرول کے لیے ایک مضبوط ذریعہ ہے جو نہ صرف تیز ہے بلکہ محفوظ بھی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بایو میٹرک ڈیٹا کس طرح آپ کی شناخت کو محفوظ بناتا ہے؟ یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر کے جدید ہوائی اڈوں پر استعمال ہو رہی ہے اور سعودی عرب اس میں شامل ہو کر اپنے نظام کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
ایس ڈی اے آئی اے کی کوششیں صرف ہوائی اڈوں تک محدود نہیں ہیں۔ یہ اتھارٹی مختلف شعبوں میں ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے، جس سے حکومتی خدمات کی کارکردگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہوائی اڈے پر ای-گیٹس اس کا ایک نمایاں مثال ہے، جہاں ٹیکنالوجی کا براہ راست فائدہ عام مسافر کو پہنچ رہا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایس ڈی اے آئی اے کے دیگر منصوبے کون سے ہیں؟ اگرچہ اس رپورٹ میں دیگر منصوبوں کا ذکر نہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ اتھارٹی کا دائرہ کار وسیع ہے۔
جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس کا کردار اس نظام میں مرکزی ہے، کیونکہ یہی ادارہ بارڈر کنٹرول اور مسافروں کی آمد و رفت کی نگرانی کرتا ہے۔ ایس ڈی اے آئی اے کے ساتھ تعاون سے یہ ادارہ اپنی خدمات کو جدید بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔ مطارات ہولڈنگ کمپنی نے ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے کو اس نظام کے لیے تیار کیا، جس سے یہ ایک مکمل اور مربوط نظام بن گیا ہے۔
یہ دورہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی عرب اپنے ہوائی اڈوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے کس طرح کوشاں ہے۔ شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈہ جدہ مملکت کا ایک اہم گیٹ وے ہے، خاص طور پر عمرہ اور حج کے دوران۔ یہاں آنے والے زائرین کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، اور ای-گیٹس ان کی آمد و رفت کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جدہ ہوائی اڈہ کس طرح عمرہ زائرین کے لیے ایک اہم مرکز ہے؟ یہ ہوائی اڈہ ہر سال لاکھوں زائرین کی میزبانی کرتا ہے۔
ڈاکٹر الغامدی کے دورے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے نظام کے آپریشن کا براہ راست جائزہ لیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایس ڈی اے آئی اے اپنے منصوبوں کی نگرانی میں سنجیدہ ہے اور کسی بھی قسم کی کمی یا خرابی کو دور کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس طرح کے دورے نہ صرف اعتماد کو بڑھاتے ہیں بلکہ نظام کی مسلسل بہتری کے لیے بھی راہ ہموار کرتے ہیں۔
ای-گیٹس کا نظام مسافروں کے لیے ایک مثبت تجربہ فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ نظام کے منتظمین کے لیے بھی چیلنجز لے کر آتا ہے۔ ان چیلنجز میں ڈیٹا کی حفاظت، نظام کی دستیابی اور مختلف ایئر لائنز اور ویزا سسٹمز کے ساتھ ہم آہنگی شامل ہیں۔ ایس ڈی اے آئی اے ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کے نظام کو برقرار رکھنے میں کتنی محنت درکار ہوتی ہے؟
اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ ای-گیٹس کی کتنی تعداد نصب کی گئی ہے یا ان کی کارکردگی کے اعداد و شمار کیا ہیں۔ یہ معلومات ایس پی اے کی رپورٹ میں شامل نہیں تھیں۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ یہ نظام مملکت کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
مستقبل میں، ایس ڈی اے آئی اے کی کوششیں مزید ہوائی اڈوں تک پھیل سکتی ہیں اور نظام کو مزید جدید بنایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر الغامدی کے اس دورے سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ای-گیٹس کے نظام میں مزید بہتری آئے گی اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈوں پر بھی ایسے نظام نصب کیے جا رہے ہیں؟ اگرچہ اس رپورٹ میں اس کا ذکر نہیں، لیکن یہ ممکن ہے کہ یہ منصوبہ آہستہ آہستہ پورے ملک میں پھیلایا جائے۔
ای-گیٹس کے نظام کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ نظام مسافروں کے ڈیٹا کو محفوظ رکھتا ہے اور اسے صرف بارڈر کنٹرول کے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بایو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں، تاکہ مسافروں کی نجی معلومات کسی بھی قسم کے غلط استعمال سے محفوظ رہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا بایو میٹرک ڈیٹا کس طرح محفوظ رکھا جاتا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو ڈیجیٹل دور میں ہر صارف کے ذہن میں ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر عبداللہ بن شرف الغامدی کی قیادت میں ایس ڈی اے آئی اے نے مختلف شعبوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، اور ای-گیٹس ان میں سے ایک ہے۔ ان کا یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خود میدان میں جا کر نظام کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں اور اسے بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔ اس طرح کی قیادت ہی اداروں کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ای-گیٹس کا نظام سعودی عرب کی ڈیجیٹل تبدیلی کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ نظام نہ صرف مسافروں کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ مملکت کی کارکردگی اور جدیدیت کا بھی مظاہرہ کرتا ہے۔ ایس ڈی اے آئی اے، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس اور مطارات ہولڈنگ کمپنی کا مشترکہ تعاون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ نظام کامیابی سے چل رہا ہے اور مستقبل میں اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔ اس رپورٹ میں ای-گیٹس کی تعداد، ان کی کارکردگی کے اعداد و شمار یا مستقبل کے منصوبوں کا ذکر نہیں کیا گیا، جو اس خبر کے ممکنہ اضافی پہلو ہو سکتے تھے۔
ای-گیٹس کس نے شروع کیے اور ان کا مقصد کیا ہے؟ ای-گیٹس جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس نے ایس ڈی اے آئی اے اور مطارات ہولڈنگ کمپنی کے تعاون سے شروع کیے۔ ان کا مقصد ہوائی اڈے سے مسافروں کے سفر کو آسان بنانا ہے۔ یہ نظام بارڈر کنٹرول، بایو میٹرک ڈیٹا، ایئر لائنز اور ویزا سسٹمز کے ساتھ منسلک ہے، جس سے مسافروں کی آمد و رفت تیز اور محفوظ ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ بن شرف الغامدی نے دورے کے دوران کیا جائزہ لیا؟ انہوں نے ایس ڈی اے آئی اے کی جانب سے عازمین اور عمرہ زائرین کی آمد اور روانگی کے دوران کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لیا۔ ان کوششوں میں ای-گیٹ سسٹمز کی ترقی اور آپریشن کے ساتھ ساتھ ان کا بارڈر کنٹرول، بایو میٹرک ڈیٹا، ایئر لائنز اور ویزا سسٹمز کے ساتھ انضمام شامل ہے۔ انہوں نے سمارٹ ٹیکنالوجیز کے استعمال پر زور دیا۔
ای-گیٹس کا نظام کس طرح کام کرتا ہے؟ یہ نظام بایو میٹرک ڈیٹا کی مدد سے مسافر کی شناخت چند سیکنڈوں میں مکمل کرتا ہے۔ یہ بارڈر کنٹرول، ایئر لائنز اور ویزا سسٹمز سے منسلک ہے، جس سے مسافر کی معلومات کی فوری تصدیق ہوتی ہے۔ اس سے قطاروں میں لگنے والا وقت کم ہوتا ہے اور سفر کا تجربہ بہتر بنتا ہے۔
یہ دورہ کہاں اور کب ہوا؟ یہ دورہ جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بدھ کے روز ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ 27 مارچ 2025 کو ہوا۔ ڈاکٹر عبداللہ بن شرف الغامدی نے موقع پر ای-گیٹس کے آپریشن کا معائنہ کیا اور نظام کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔
اس نظام سے کون سے مسافر مستفید ہوتے ہیں؟ یہ نظام خاص طور پر عازمین اور عمرہ زائرین کی خدمت کے لیے تیار کیا گیا ہے، لیکن عام مسافر بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں زائرین مملکت میں آتے ہیں، اور ای-گیٹس ان کی آمد و رفت کو آسان بناتے ہیں۔ اس سے ہوائی اڈے پر رش کم ہوتا ہے اور کارروائی تیز ہوتی ہے۔
کیا رپورٹ میں ای-گیٹس کی تعداد یا کارکردگی کے اعداد و شمار دیے گئے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں ای-گیٹس کی تعداد، ان کی کارکردگی کے اعداد و شمار یا مستقبل کے منصوبوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ ڈاکٹر الغامدی نے آپریشن کا جائزہ لیا اور سمارٹ ٹیکنالوجیز کے استعمال پر زور دیا۔