Saturday, October 31, 2026
سعودی خبریں

ایک ہفتے میں 11,819 رہائشی، محنت اور سرحدی خلاف ورزیاں ریکارڈ

ایک ہفتے میں 11,819 رہائشی، محنت اور سرحدی خلاف ورزیاں ریکارڈ

وزارت داخلہ نے 24 سے 30 ستمبر کے دوران سعودی عرب بھر میں رہائش، محنت اور سرحدی سلامتی کے قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے معائنہ مہمات چلائیں، جن میں 11,819 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں 5,793 خلاف ورزیاں رہائشی قوانین سے متعلق تھیں، 3,307 سرحدی سلامتی سے اور 2,719 محنت کے قوانین سے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 3 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، سرحدی حکام نے 1,382 افراد کو پکڑا جو غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں 38 فیصد یمنی، 61 فیصد ایتھوپیائی اور 1 فیصد دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ حکام نے 32 افراد کو غیر قانونی طور پر مملکت سے باہر جانے کی کوشش کے الزام میں بھی گرفتار کیا۔

خلاف ورزی کرنے والوں کی نقل و حمل، انہیں پناہ دینے اور انہیں ملازمت دینے میں ملوث 19 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ کارروائیاں رہائش، محنت اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ان معائنہ مہمات کا مقصد صرف خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑنا نہیں بلکہ قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا بھی ہے؟ وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ یہ مہمات ملک بھر میں باقاعدگی سے جاری رہتی ہیں اور ان کا دائرہ کار رہائشی، محنت اور سرحدی سلامتی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت 32,139 تارکین وطن، جن میں 29,934 مرد اور 2,205 خواتین شامل ہیں، ضوابط کے نفاذ کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 19,893 افراد کو ضوابط کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا اور انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے ملکوں کے سفارت خانوں یا قونصل خانوں سے رابطہ کر کے مناسب سفری دستاویزات حاصل کریں۔

مزید برآں 4,091 افراد کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ 9,992 افراد کو ان کے ملکوں واپس بھیج دیا گیا۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ واپس بھیجے جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ان مہمات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے؟ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تمام کارروائیاں ایک ہی ہفتے کے دوران کی گئیں۔

وزارت داخلہ نے خبردار کیا کہ جو شخص مملکت میں افراد کے غیر قانونی داخلے میں سہولت فراہم کرتا ہے، انہیں ملک کے اندر منتقل کرتا ہے، یا انہیں پناہ، مدد یا دیگر خدمات مہیا کرتا ہے، اسے 15 سال تک قید اور 10 لاکھ سعودی ریال تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں اور پناہ کے لیے استعمال ہونے والی جائیدادیں بھی ضبط کی جا سکتی ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ غیر قانونی داخلے میں سہولت فراہم کرنا سنگین جرم شمار ہوتا ہے جس پر گرفتاری لازم ہے؟ وزارت داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اعمال سنگین جرائم ہیں جن پر گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے۔

وزارت داخلہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دیں۔ مکہ، ریاض اور مشرقی علاقے میں 911 پر کال کر کے اطلاع دی جا سکتی ہے، جبکہ مملکت کے دیگر حصوں میں 999 اور 996 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ رپورٹنگ کے یہ نمبر کس طرح علاقائی بنیادوں پر تقسیم کیے گئے ہیں؟ مکہ، ریاض اور مشرقی علاقہ میں 911 جبکہ باقی علاقوں میں 999 اور 996 استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ایس پی اے کی اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان مہمات کے دوران کل کتنے افراد کو حراست میں لیا گیا یا کتنے افراد کو رہا کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ 11,819 خلاف ورزیوں میں سے کتنی خلاف ورزیاں سعودی شہریوں یا تارکین وطن سے متعلق تھیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ وزارت داخلہ کی یہ مہمات کس طرح مختلف علاقوں میں تقسیم کی جاتی ہیں؟ رپورٹ کے مطابق یہ مہمات سعودی عرب بھر میں چلائی گئیں، لیکن علاقائی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق سرحدی حکام نے 1,382 افراد کو غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران پکڑا۔ ان افراد میں 38 فیصد یمنی، 61 فیصد ایتھوپیائی اور 1 فیصد دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔ اس کے علاوہ 32 افراد کو غیر قانونی طور پر مملکت سے باہر جانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ غیر قانونی طور پر باہر جانے کی کوشش کرنے والوں کی گرفتاری بھی ان مہمات کا حصہ ہے؟ وزارت داخلہ کے مطابق یہ کارروائیاں سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی جاتی ہیں۔

خلاف ورزی کرنے والوں کی نقل و حمل، انہیں پناہ دینے اور انہیں ملازمت دینے میں ملوث 19 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ وزارت داخلہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اعمال سنگین جرائم ہیں اور ان پر 15 سال تک قید اور 10 لاکھ سعودی ریال تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ان سزاؤں کا مقصد کیا ہے؟ وزارت داخلہ کے مطابق یہ سزائیں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے اور قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ہیں۔ نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں اور پناہ کے لیے استعمال ہونے والی جائیدادیں بھی ضبط کی جا سکتی ہیں۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت 32,139 تارکین وطن ضوابط کے نفاذ کے مراحل سے گزر رہے ہیں، جن میں 29,934 مرد اور 2,205 خواتین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 19,893 افراد کو ضوابط کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا اور انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے ملکوں کے سفارت خانوں یا قونصل خانوں سے رابطہ کریں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ سفری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے سفارت خانوں سے رابطہ کیوں ضروری ہے؟ وزارت داخلہ کے مطابق یہ عمل ان افراد کی واپسی کو آسان بناتا ہے۔ مزید برآں 4,091 افراد کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ 9,992 افراد کو ان کے ملکوں واپس بھیج دیا گیا۔

وزارت داخلہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دیں۔ مکہ، ریاض اور مشرقی علاقے میں 911 پر کال کر کے اطلاع دی جا سکتی ہے، جبکہ مملکت کے دیگر حصوں میں 999 اور 996 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ایس پی اے کی اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان مہمات کے دوران کل کتنے افراد کو حراست میں لیا گیا یا کتنے افراد کو رہا کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ 11,819 خلاف ورزیوں میں سے کتنی خلاف ورزیاں سعودی شہریوں یا تارکین وطن سے متعلق تھیں۔

ایک ہفتے میں کتنی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں؟ وزارت داخلہ نے 24 سے 30 ستمبر کے دوران سعودی عرب بھر میں معائنہ مہمات چلائیں جن میں 11,819 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں 5,793 خلاف ورزیاں رہائشی قوانین سے متعلق تھیں، 3,307 سرحدی سلامتی سے اور 2,719 محنت کے قوانین سے۔ یہ اعداد و شمار ایس پی اے نے 3 اکتوبر 2026 کو جاری کیے۔

سرحدی حکام نے کتنے افراد کو پکڑا؟ سرحدی حکام نے 1,382 افراد کو غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران پکڑا۔ ان میں 38 فیصد یمنی، 61 فیصد ایتھوپیائی اور 1 فیصد دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ اس کے علاوہ 32 افراد کو غیر قانونی طور پر مملکت سے باہر جانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

خلاف ورزی کرنے والوں کی مدد کرنے پر کیا سزا ہے؟ وزارت داخلہ کے مطابق جو شخص غیر قانونی داخلے میں سہولت فراہم کرتا ہے، انہیں منتقل کرتا ہے یا پناہ دیتا ہے، اسے 15 سال تک قید اور 10 لاکھ سعودی ریال تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں اور پناہ کے لیے استعمال ہونے والی جائیدادیں بھی ضبط کی جا سکتی ہیں۔

ضوابط کے نفاذ کے مراحل سے کتنے تارکین وطن گزر رہے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق 32,139 تارکین وطن، جن میں 29,934 مرد اور 2,205 خواتین شامل ہیں، ضوابط کے نفاذ کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 19,893 افراد کو ضوابط کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا اور انہیں اپنے ملکوں کے سفارت خانوں یا قونصل خانوں سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔

خلاف ورزیوں کی اطلاع کیسے دی جا سکتی ہے؟ وزارت داخلہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دیں۔ مکہ، ریاض اور مشرقی علاقے میں 911 پر کال کر کے اطلاع دی جا سکتی ہے، جبکہ مملکت کے دیگر حصوں میں 999 اور 996 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ وزارت داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اعمال سنگین جرائم ہیں۔

کتنے افراد کو واپس بھیجا گیا اور کتنے کو سفری انتظامات کی ہدایت دی گئی؟ ایس پی اے کے مطابق 9,992 افراد کو ان کے ملکوں واپس بھیج دیا گیا، جبکہ 4,091 افراد کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے علاوہ 19,893 افراد کو حراست میں لے کر انہیں سفری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے اپنے ملکوں کے سفارت خانوں یا قونصل خانوں سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔