Wednesday, October 21, 2026
سعودی خبریں

جدہ میں IDWS 2026: 140 ممالک سے 10,000 شرکاء کی شرکت متوقع

جدہ میں IDWS 2026: 140 ممالک سے 10,000 شرکاء کی شرکت متوقع

جدہ 14 سے 16 دسمبر 2026 تک انوویشن ڈرائیون واٹر سسٹین ایبلٹی کانفرنس (IDWS 2026) کے پانچویں ایڈیشن کی میزبانی کرے گا، جہاں عالمی واٹر انوویشن کمیونٹی تحقیق اور ترقی سے لے کر عمل درآمد اور بڑے پیمانے پر اپنانے تک حل کو آگے بڑھانے کے لیے جمع ہوگی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 20 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، کانفرنس جدہ میں منعقد ہوگی اور اس کا مقصد جدت پسندوں کو سرمایہ کاروں اور آخری صارفین سے جوڑنا ہے تاکہ عالمی سطح پر پانی کی سلامتی کو مضبوط بنانے، خدمات کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور وسائل کی پائیداری کو یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔

ایس پی اے کے مطابق، یہ تقریب 140 سے زائد ممالک کے ماہرین، محققین، جدت پسندوں، سرمایہ کاروں اور پانی کے شعبے کی تنظیموں کے نمائندوں کو اکٹھا کرے گی۔ 250 سے زائد مقررین کی شرکت متوقع ہے، جبکہ حاضری 10,000 سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ ایک ساتھ ہونے والی نمائش میں 150 سے زائد عالمی برانڈز شامل ہوں گے، جو بین الاقوامی شرکت کے پیمانے اور تعاون، علم کے تبادلے اور شراکت داری کی تعمیر کے متنوع مواقع کی عکاسی کرتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر کتنے ممالک ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوتے ہیں؟ یہ کانفرنس اسی سوال کا عملی جواب پیش کرتی ہے۔

کانفرنس کا ایجنڈا عالمی آبی چیلنجز اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان ترتیب دیا گیا ہے، جو زیادہ قابل اعتماد، لچکدار اور موافق حل کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے مطابق، 1.8 بلین افراد اب بھی ایسے گھرانوں میں رہتے ہیں جہاں احاطے میں پانی کی فراہمی موجود نہیں ہے۔ دریں اثنا، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کا اندازہ ہے کہ زراعت دنیا بھر میں کل میٹھے پانی کے استعمال کا تقریباً 72 فیصد حصہ رکھتی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں میٹھے پانی کا سب سے بڑا صارف کون سا شعبہ ہے؟ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زراعت اس میدان میں سب سے آگے ہے۔

کانفرنس پالیسیوں، گورننس، فنانسنگ اور صلاحیت سازی کے کردار کا جائزہ لے گی تاکہ امید افزا ٹیکنالوجیز کو اپنانے کو تیز کیا جا سکے۔ یہ سائنسی تحقیق اور آپریشنل ضروریات کے درمیان انضمام کو مضبوط بنانے کے طریقوں کو بھی تلاش کرے گی، ساتھ ہی جدتوں کی عملداری اور ان کے اثرات کی پائیداری کی حمایت کرے گی۔

ایس پی اے کے مطابق، کانفرنس اپنے بین الاقوامی پلیٹ فارم کے کردار کو بھی مضبوط کرے گی تاکہ پانی کے شعبے میں جدت کو تیز کیا جا سکے اور اسے ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ تحقیق سے لے کر بڑے پیمانے پر اپنانے تک کا سفر کتنا طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے؟ یہ کانفرنس اسی سفر کو مختصر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

جدہ کا انتخاب اس تقریب کے لیے کیا گیا ہے جو اپنے پانچویں ایڈیشن میں داخل ہو رہی ہے، اور یہ شہر عالمی آبی جدت کی کوششوں کا مرکز بنے گا۔ 14 سے 16 دسمبر 2026 کی تاریخیں طے شدہ ہیں، اور کانفرنس کے تین دنوں میں متعدد موضوعات پر بات چیت ہوگی۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، کانفرنس میں پالیسیوں، گورننس، فنانسنگ اور صلاحیت سازی پر توجہ دی جائے گی۔ یہ پہلو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہیں کہ نئی ٹیکنالوجیز نہ صرف تیار ہوں بلکہ انہیں حقیقی دنیا میں اپنایا بھی جا سکے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ پانی کے شعبے میں جدت کو اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہوتی ہے؟ کانفرنس کے ایجنڈے کے مطابق، پالیسی، گورننس، فنانسنگ اور صلاحیت سازی کے پہلو اس سلسلے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

کانفرنس کا ایک اور اہم پہلو سائنسی تحقیق اور آپریشنل ضروریات کے درمیان انضمام کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لیبارٹریوں میں ہونے والی تحقیق کو میدان میں عملی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ جدتیں قابل عمل اور پائیدار ثابت ہوں۔

ایس پی اے کے مطابق، کانفرنس جدتوں کی عملداری اور ان کے اثرات کی پائیداری کی بھی حمایت کرے گی۔ یہ پہلو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی نیا حل صرف وقتی نہ ہو بلکہ طویل مدتی فوائد فراہم کرے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک کانفرنس کس طرح عالمی پانی کی سلامتی میں حقیقی تبدیلی لا سکتی ہے؟ یہ تقریب جدت پسندوں، سرمایہ کاروں اور آخری صارفین کو ایک چھت کے نیچے لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

کانفرنس میں 140 سے زائد ممالک کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پانی کا مسئلہ کسی ایک خطے یا ملک تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی چیلنج ہے۔ 250 سے زائد مقررین اپنے تجربات اور تحقیق پیش کریں گے، جبکہ 10,000 سے زائد شرکاء کی حاضری متوقع ہے۔

ساتھ ہونے والی نمائش میں 150 سے زائد عالمی برانڈز شرکت کریں گے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پانی کے شعبے میں نجی شعبے کی دلچسپی اور شراکت داری کے مواقع کتنے وسیع ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ پانی کے شعبے میں عالمی برانڈز کی شرکت کس طرح تعاون اور علم کے تبادلے کو فروغ دیتی ہے؟ نمائش اس سوال کا عملی جواب فراہم کرتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق، 1.8 بلین افراد ایسے گھرانوں میں رہتے ہیں جہاں احاطے میں پانی کی فراہمی موجود نہیں۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پانی کی رسائی کا مسئلہ کتنا سنگین ہے اور اسے حل کرنے کے لیے کتنے وسیع پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف، FAO کا اندازہ ہے کہ زراعت دنیا بھر میں کل میٹھے پانی کے استعمال کا تقریباً 72 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ زرعی شعبے میں پانی کے موثر استعمال کی ٹیکنالوجیز کتنی اہم ہیں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ زراعت میں پانی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے کون سی جدتیں کارگر ثابت ہو سکتی ہیں؟ یہ کانفرنس اسی قسم کے سوالات پر غور کرے گی۔

کانفرنس کا ایجنڈا عالمی آبی چیلنجز اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے تناظر میں ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ پس منظر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کیوں زیادہ قابل اعتماد، لچکدار اور موافق حل کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

ایس پی اے کے مطابق، کانفرنس کا مقصد پانی کی سلامتی کو مضبوط بنانا، خدمات کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور وسائل کی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔ یہ تینوں پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان پر متوازی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ پانی کی سلامتی، خدمات کی کارکردگی اور وسائل کی پائیداری کے درمیان کیا تعلق ہے؟ یہ کانفرنس ان تینوں پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

کانفرنس میں جدت پسندوں کو سرمایہ کاروں اور آخری صارفین سے جوڑنے پر زور دیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کو صرف تحقیق تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں عملی طور پر اپنایا جائے اور بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، کانفرنس اپنے بین الاقوامی پلیٹ فارم کے کردار کو مضبوط کرے گی۔ یہ پلیٹ فارم پانی کے شعبے میں جدت کو تیز کرنے اور اسے ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کس طرح مقامی اور علاقائی کوششوں کو عالمی سطح پر جوڑ سکتا ہے؟ یہ کانفرنس اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتی ہے۔

کانفرنس کے شرکاء میں ماہرین، محققین، جدت پسند، سرمایہ کار اور پانی کے شعبے کی تنظیموں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ تنوع اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مختلف نقطہ نظر اور تجربات ایک جگہ جمع ہوں۔

250 سے زائد مقررین کی شرکت متوقع ہے، جو مختلف موضوعات پر اپنی تحقیق اور تجربات پیش کریں گے۔ 10,000 سے زائد شرکاء کی حاضری کا امکان ہے، جو اس تقریب کے پیمانے کو ظاہر کرتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس طرح کی کانفرنس میں 250 سے زائد مقررین کس طرح مختلف موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں؟ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایجنڈا کتنا جامع ہے۔

ساتھ ہونے والی نمائش میں 150 سے زائد عالمی برانڈز شرکت کریں گے۔ یہ نمائش تعاون، علم کے تبادلے اور شراکت داری کی تعمیر کے مواقع فراہم کرے گی۔

ایس پی اے کے مطابق، کانفرنس کے ایجنڈے میں پالیسیوں، گورننس، فنانسنگ اور صلاحیت سازی کے کردار کا جائزہ شامل ہے۔ یہ پہلو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جدتیں صرف نظریاتی نہ رہیں بلکہ عملی طور پر نافذ ہوں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ فنانسنگ اور صلاحیت سازی کے بغیر کوئی بھی ٹیکنالوجی کس طرح ناکام ہو سکتی ہے؟ کانفرنس ان پہلوؤں پر خصوصی توجہ دے گی۔

کانفرنس سائنسی تحقیق اور آپریشنل ضروریات کے درمیان انضمام کو مضبوط بنانے کے طریقوں کو بھی تلاش کرے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تحقیق کو میدان کی حقیقی ضروریات کے مطابق ڈھالا جائے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، کانفرنس جدتوں کی عملداری اور ان کے اثرات کی پائیداری کی حمایت کرے گی۔ یہ پہلو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی نیا حل طویل مدتی فوائد فراہم کرے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ کسی جدت کی عملداری اور پائیداری کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟ یہ کانفرنس ان سوالات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

جدہ میں ہونے والی یہ کانفرنس 14 سے 16 دسمبر 2026 تک جاری رہے گی، اور اس کے تین دنوں میں متعدد موضوعات پر بات چیت ہوگی۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں کانفرنس کے مقام، تاریخوں، شرکاء کی تعداد، مقررین کی تعداد، نمائش میں شامل برانڈز کی تعداد، اور عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور FAO کے اعداد و شمار شامل ہیں۔

رپورٹ میں کانفرنس کے مخصوص ایجنڈے، اجلاسوں کے عنوانات، یا کسی مخصوص ٹیکنالوجی یا منصوبے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ تفصیلات ایس پی اے کی رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔

IDWS 2026 کب اور کہاں منعقد ہوگی؟ کانفرنس 14 سے 16 دسمبر 2026 تک جدہ میں منعقد ہوگی۔ یہ اس تقریب کا پانچواں ایڈیشن ہے۔ ایس پی اے کے مطابق، کانفرنس کا مقصد عالمی واٹر انوویشن کمیونٹی کو اکٹھا کرنا اور تحقیق و ترقی سے لے کر عمل درآمد اور بڑے پیمانے پر اپنانے تک حل کو آگے بڑھانا ہے۔ رپورٹ میں مخصوص مقام یا اجلاسوں کے عنوانات نہیں دیے گئے۔

کانفرنس میں کتنے ممالک اور شرکاء شرکت کریں گے؟ ایس پی اے کے مطابق، 140 سے زائد ممالک کے ماہرین، محققین، جدت پسند، سرمایہ کار اور پانی کے شعبے کی تنظیموں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ 250 سے زائد مقررین کی شرکت متوقع ہے، جبکہ حاضری 10,000 سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ ساتھ ہونے والی نمائش میں 150 سے زائد عالمی برانڈز شامل ہوں گے۔

کانفرنس کا ایجنڈا کن عالمی چیلنجز پر مرکوز ہے؟ کانفرنس کا ایجنڈا عالمی آبی چیلنجز اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان ترتیب دیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے مطابق، 1.8 بلین افراد ایسے گھرانوں میں رہتے ہیں جہاں احاطے میں پانی کی فراہمی موجود نہیں۔ FAO کا اندازہ ہے کہ زراعت دنیا بھر میں کل میٹھے پانی کے استعمال کا تقریباً 72 فیصد حصہ رکھتی ہے۔

کانفرنس میں کون سے موضوعات پر بات ہوگی؟ ایس پی اے کے مطابق، کانفرنس پالیسیوں، گورننس، فنانسنگ اور صلاحیت سازی کے کردار کا جائزہ لے گی تاکہ امید افزا ٹیکنالوجیز کو اپنانے کو تیز کیا جا سکے۔ یہ سائنسی تحقیق اور آپریشنل ضروریات کے درمیان انضمام کو مضبوط بنانے کے طریقوں کو بھی تلاش کرے گی، ساتھ ہی جدتوں کی عملداری اور ان کے اثرات کی پائیداری کی حمایت کرے گی۔

کانفرنس کا مقصد کیا ہے؟ کانفرنس کا مقصد جدت پسندوں کو سرمایہ کاروں اور آخری صارفین سے جوڑنا ہے تاکہ عالمی سطح پر پانی کی سلامتی کو مضبوط بنانے، خدمات کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور وسائل کی پائیداری کو یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔ یہ کانفرنس اپنے بین الاقوامی پلیٹ فارم کے کردار کو بھی مضبوط کرے گی تاکہ پانی کے شعبے میں جدت کو تیز کیا جا سکے اور اسے ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔

نمائش میں کتنے برانڈز شرکت کریں گے؟ ایس پی اے کے مطابق، ساتھ ہونے والی نمائش میں 150 سے زائد عالمی برانڈز شرکت کریں گے۔ یہ نمائش بین الاقوامی شرکت کے پیمانے اور تعاون، علم کے تبادلے اور شراکت داری کی تعمیر کے متنوع مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ میں نمائش میں شامل مخصوص برانڈز یا شعبوں کے نام نہیں دیے گئے۔