Sunday, October 25, 2026
سعودی خبریں

جی اے سی اے: ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ، آپریشنز عارضی طور پر معطل

جی اے سی اے: ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ، آپریشنز عارضی طور پر معطل

ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتہ کی دوپہر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد اور نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 10 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب مملکت سعودی عرب میں شہری ہوابازی کی تنصیبات پر کھلے عام حملے جاری ہیں۔ ایئرپورٹ پر آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔

آپریشنز کی معطلی اور حفاظتی جائزہ

جی اے سی اے کے مطابق ایئرپورٹ پر آپریشنز اس وقت تک معطل رہیں گے جب تک نقصان کا مکمل جائزہ لے کر تنصیبات کی حفاظت کی تصدیق نہ کر لی جائے۔ یہ جائزہ متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں کیا جا رہا ہے۔ اتھارٹی نے کہا کہ مزید اپ ڈیٹس کا اعلان کیا جائے گا۔

کیا مسافروں کو یہ معلوم ہے کہ ان کی پروازیں کب بحال ہوں گی؟ جی اے سی اے نے بحالی کی کوئی مخصوص تاریخ نہیں دی۔

زخمیوں کی صورتحال

حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، تاہم جی اے سی اے نے زخمیوں کی صحیح تعداد یا ان کی حالت کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی۔ اتھارٹی کے مطابق زخمیوں کی شدت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

کیا زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔

شہری ہوابازی پر حملوں کا سلسلہ

جی اے سی اے نے اپنے بیان میں مملکت میں شہری ہوابازی کی تنصیبات پر جاری کھلے عام حملوں کا ذکر کیا۔ یہ حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

کیا ان حملوں کے پیچھے کوئی مخصوص گروہ ہے؟ ایس پی اے نے اس حوالے سے کوئی ذمہ دار گروہ یا فرد کا نام نہیں لیا۔

متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ

جی اے سی اے نے بتایا کہ نقصان کے جائزے اور تنصیبات کی حفاظت کی تصدیق کا عمل متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں کیا جا رہا ہے۔

کیا بین الاقوامی ادارے اس معاملے میں شامل ہیں؟ رپورٹ میں صرف متعلقہ حکام کا ذکر ہے، کوئی بین الاقوامی ادارہ یا معاہدہ بیان نہیں کیا گیا۔

مزید اپ ڈیٹس کا انتظار

جی اے سی اے نے کہا کہ مزید اپ ڈیٹس کا اعلان کیا جائے گا۔ اس وقت تک ایئرپورٹ پر آپریشنز معطل ہیں اور مسافروں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کیا مسافروں کو متبادل انتظامات فراہم کیے جائیں گے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں۔

رپورٹ میں حملے کی وجوہات، ذمہ داری، یا نقصان کی مالی مقدار کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیا ہوا؟ جی اے سی اے کے مطابق ہفتہ کی دوپہر ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کی شدت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایئرپورٹ پر آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔ مزید اپ ڈیٹس کا اعلان کیا جائے گا۔

آپریشنز کب تک معطل رہیں گے؟ جی اے سی اے نے بتایا کہ آپریشنز اس وقت تک معطل رہیں گے جب تک نقصان کا مکمل جائزہ لے کر تنصیبات کی حفاظت کی تصدیق نہ کر لی جائے۔ یہ عمل متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں کیا جا رہا ہے۔ بحالی کی کوئی مخصوص تاریخ نہیں دی گئی۔

زخمیوں کی تعداد کتنی ہے؟ جی اے سی اے نے صرف یہ بتایا کہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور ان کی شدت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ صحیح تعداد یا حالت کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں بھی اس بارے میں مزید معلومات موجود نہیں ہیں۔

کیا حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول کی؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں کسی گروہ یا فرد کا نام نہیں لیا گیا۔ جی اے سی اے نے صرف مملکت میں شہری ہوابازی کی تنصیبات پر جاری کھلے عام حملوں کا ذکر کیا۔ ذمہ داری کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

کیا مسافروں کے لیے متبادل انتظامات کیے گئے؟ رپورٹ کے مطابق ایئرپورٹ پر آپریشنز معطل ہیں اور مزید اپ ڈیٹس کا اعلان کیا جائے گا۔ متبادل پروازوں یا مسافروں کی منتقلی کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ مسافروں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔