مدینہ منورہ میں خادم الحرمین الشریفین کے عمرہ اور وزٹ پروگرام 1448 AH کے چوتھے اور آخری گروپ کے پہلے دستوں کی آمد ہوئی ہے، جنہیں وزارت اسلامی امور، دعوت اور رہنمائی نے وصول کیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ مہمان مکہ مکرمہ روانگی اور عمرہ کی ادائیگی سے قبل مسجد نبوی اور متعدد اسلامی و تاریخی مقامات کی زیارت کریں گے۔ کیا یہ روحانی سفر ان مہمانوں کے لیے زندگی کا یادگار تجربہ نہیں ہوگا؟
مدینہ منورہ پہنچنے والے ابتدائی گروہوں میں سری لنکا، ازبکستان، ترکمنستان، نیپال، آذربائیجان، تاجکستان، کرغزستان، ترکیہ، جارجیا، قازقستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور مالدیپ سے تعلق رکھنے والے عمرہ زائرین شامل ہیں۔ وزارت کے حکام نے مہمانوں کا استقبال کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تمام ضروری خدمات اور سہولیات فراہم کریں گے تاکہ زائرین اپنی عبادات اور وزٹ پروگرام آسانی اور سکون کے ساتھ مکمل کر سکیں۔ کیا ایسی جامع سہولیات زائرین کے تجربے کو مزید بہتر نہیں بناتی ہیں؟
اس چوتھے گروپ میں 21 ممالک کی نمائندگی کرنے والے مجموعی طور پر 250 عمرہ زائرین شامل ہیں۔ کیا یہ متنوع عالمی نمائندگی اسلام کے عالمگیر پیغام کی عکاسی نہیں کرتی؟
چوتھے اور آخری گروپ کی آمد کے ساتھ ہی، اس سال خادم الحرمین الشریفین کے عمرہ اور وزٹ پروگرام کے تحت میزبانی کیے گئے مہمانوں کی کل تعداد 65 ممالک سے تعلق رکھنے والے 1,000 عمرہ زائرین تک پہنچ گئی ہے۔ کیا یہ عالمی سطح پر پھیلا ہوا پروگرام مختلف ثقافتوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط نہیں کرتا؟
ان تمام زائرین کی میزبانی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے ذاتی خرچ پر کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ کیا یہ سخاوت ان مہمانوں کے لیے ایک عظیم اعزاز نہیں ہے؟
پروگرام کے تحت زائرین کی رہائش، نقل و حمل اور زیارت کے انتظامات وزارت اسلامی امور، دعوت اور رہنمائی کی نگرانی میں کیے گئے ہیں۔ کیا ان انتظامات کی شفافیت اور معیار زائرین کی تسلی کا باعث نہیں بنے گا؟
اس پروگرام کا مقصد دنیا بھر کے مسلمانوں کو مقدس مقامات کی زیارت کا موقع فراہم کرنا ہے۔ کیا یہ اقدام بین الاقوامی اسلامی بھائی چارے کو فروغ دینے میں مددگار ثابت نہیں ہوگا؟
رپورٹ میں ان مخصوص تاریخی مقامات کی فہرست یا زائرین کے قیام کی مدت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
چوتھے گروپ میں کتنے زائرین شامل تھے اور وہ کہاں سے آئے؟ چوتھے گروپ میں 21 ممالک کے 250 عمرہ زائرین شامل تھے۔ ابتدائی دستوں میں سری لنکا، ازبکستان، ترکمنستان، نیپال، آذربائیجان، تاجکستان، کرغزستان، ترکیہ، جارجیا، قازقستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور مالدیپ کے زائرین شامل تھے۔
اس سال پروگرام کے تحت کل کتنے مہمانوں کی میزبانی کی گئی؟ چوتھے گروپ کی آمد کے بعد، اس سال خادم الحرمین الشریفین کے عمرہ اور وزٹ پروگرام کے تحت دنیا بھر کے 65 ممالک سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر 1,000 عمرہ زائرین کی میزبانی کی گئی۔
زائرین کے اخراجات کس نے برداشت کیے؟ اس پروگرام کے تحت آنے والے تمام زائرین کی میزبانی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے ذاتی خرچ پر کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔