Sunday, October 25, 2026
سعودی خبریں

سعودی عرب عربی زبان میں زمین کے انتظام کی ماہر ٹیم کا پہلا عرب ملک

سعودی عرب عربی زبان میں زمین کے انتظام کی ماہر ٹیم کا پہلا عرب ملک

ریاض میں 25 اکتوبر 2026 کو یہ اطلاع سامنے آئی کہ سعودی عرب نے پائیدار زمین کے انتظام کے میدان میں ایک نیا سنگ میل حاصل کر لیا ہے، جب سعودی ماہرین کو ورلڈ اوور ویو آف کنزرویشن اپروچز اینڈ ٹیکنالوجیز (WOCAT) کے عالمی پائیدار زمین کے انتظام کے ڈیٹا بیس کے لیے عربی زبان کے ماہر جائزہ لینے والوں کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والا سعودی عرب پہلا عرب ملک ہے، جس سے پائیدار زمین کے انتظام کے طریقوں کو عربی زبان میں دستاویز اور جائزہ لینے کا موقع ملے گا تاکہ ماحولیاتی پائیداری اور سعودی وژن 2030 کی معاونت کی جا سکے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن نے کہا کہ یہ کامیابی اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کی تکنیکی معاونت سے ممکن ہوئی، جو WOCAT کے ساتھ اس کی شراکت داری کے ذریعے فراہم کی گئی۔

مرکز نے مزید کہا کہ یہ کامیابی مملکت کی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے کہ وہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق پائیدار زمین کے انتظام کے طریقوں کو دستاویز، جائزہ اور توثیق کر سکے، اور عربی زبان کی تکنیکی مہارت کو وسعت دیتی ہے، جس سے زمین کی بحالی اور صحرا بندی کے خلاف جدوجہد پر علاقائی اور عالمی کوششوں میں سعودی عرب کا تعاون مزید مستحکم ہوتا ہے۔

FAO اور WOCAT سیکرٹریٹ کے مشترکہ جائزے کے بعد 10 سعودی ماہرین کو عالمی ڈیٹا بیس میں رجسٹر کیا گیا: پانچ کو ماہر جائزہ لینے والوں کے طور پر ذمہ داری دی گئی جو تکنیکی جائزے اور معیار کی جانچ کے ذمہ دار ہیں، اور پانچ کو سعودی قومی ماہرین کے طور پر ذمہ داری دی گئی جو عالمی پلیٹ فارم پر اشاعت سے قبل دستاویز شدہ طریقوں کی قومی سطح پر توثیق اور منظوری کے ذمہ دار ہیں۔

مرکز نے مزید بتایا کہ یہ کامیابی سعودی عرب کے نیشنل گریننگ پروگرام کو اقوام متحدہ کے ورلڈ ریسٹوریشن فلیگ شپ کے طور پر تسلیم کیے جانے کی تکمیل کرتی ہے، جو اگست میں منگولیا کے شہر اولان باتور میں اقوام متحدہ کے کنونشن ٹو کمبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن (UNCCD) کے 17ویں اجلاس (COP17) میں کیا گیا تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے کے ممالک زمین کی بحالی اور صحرا بندی کے خلاف جدوجہد کے چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں، اور عربی زبان میں تکنیکی دستاویزات کی دستیابی کو ایک اہم خلا سمجھا جاتا رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے عربی زبان میں جائزہ لینے کی اہلیت حاصل کرنا اس خلا کو پر کرنے کی طرف ایک عملی قدم ہے، جس سے عرب دنیا کے محققین، پالیسی سازوں اور زمین کے منتظمین کو اپنی ہی زبان میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کردہ مواد تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔

کیا عربی زبان میں دستاویزات کی دستیابی سے خطے کے ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے کی رفتار تیز ہو سکتی ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ WOCAT کا عالمی ڈیٹا بیس دنیا بھر میں پائیدار زمین کے انتظام کے طریقوں کا ایک مرکزی ذخیرہ ہے، اور جب یہ مواد عربی میں دستیاب ہوگا تو عرب ممالک کے ماہرین کو اپنے تجربات دوسروں کے ساتھ بانٹنے اور دوسروں کے تجربات سے سیکھنے میں سہولت ہوگی۔

نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کی جانب سے جاری بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ اعزاز مملکت کی بین الاقوامی معیارات کے مطابق دستاویز سازی، جائزہ اور توثیق کی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی ماہرین اب صرف اپنے ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پائیدار زمین کے انتظام کے طریقوں کے معیار کی جانچ میں کردار ادا کر سکیں گے۔

دس سعودی ماہرین کی رجسٹریشن کو دو الگ الگ ذمہ داریوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پانچ ماہر جائزہ لینے والے تکنیکی جائزے اور معیار کی جانچ کے ذمہ دار ہوں گے، جبکہ پانچ قومی ماہرین قومی سطح پر توثیق اور منظوری کے ذمہ دار ہوں گے، یعنی عالمی پلیٹ فارم پر کسی بھی طریقے کی اشاعت سے قبل اس کی قومی سطح پر جانچ اور منظوری ضروری ہوگی۔

کیا یہ دوہرا ڈھانچہ اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ عالمی ڈیٹا بیس میں شامل مواد کی معیار اور مقامی مطابقت دونوں برقرار رہیں؟ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ بین الاقوامی ڈیٹا بیس میں شامل طریقوں کو مختلف ماحولیاتی اور سماجی حالات میں لاگو کرنے کے لیے مقامی سیاق و سباق کی سمجھ ضروری ہوتی ہے، اور قومی ماہرین کی موجودگی اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔

مرکز کے مطابق یہ کامیابی سعودی عرب کے نیشنل گریننگ پروگرام کی اس تسلیم کی تکمیل کرتی ہے جو اگست میں منگولیا کے شہر اولان باتور میں UNCCD کے COP17 اجلاس میں کی گئی تھی، جہاں اس پروگرام کو اقوام متحدہ کا ورلڈ ریسٹوریشن فلیگ شپ قرار دیا گیا۔ یہ تسلیم اس بات کا اشارہ ہے کہ مملکت کی زمین کی بحالی کی کوششیں عالمی سطح پر دیکھی اور تسلیم کی جا رہی ہیں۔

کیا عربی زبان میں جائزہ لینے کی اہلیت حاصل کرنا سعودی عرب کو علاقائی سطح پر ایک رہنما کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے؟ اس سوال کی اہمیت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ عرب دنیا میں زمین کی تنزلی اور صحرا بندی ایک مشترکہ چیلنج ہے، اور اگر ایک ملک کے ماہرین بین الاقوامی معیار کے مطابق جائزہ لینے کی صلاحیت حاصل کر لیں تو وہ دوسرے ممالک کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

FAO کے ساتھ شراکت داری کے پہلو پر غور کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ کامیابی تنہا کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون کا ثمر ہے۔ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے WOCAT کے ساتھ اپنی شراکت داری کے ذریعے تکنیکی معاونت فراہم کی، جس کے بعد FAO اور WOCAT سیکرٹریٹ کا مشترکہ جائزہ عمل میں آیا اور اس جائزے کی بنیاد پر سعودی ماہرین کو عالمی ڈیٹا بیس میں رجسٹر کیا گیا۔

کیا بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اس قسم کی شراکت داری دیگر شعبوں میں بھی ماہرین کی صلاحیتوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرانے کا راستہ ہموار کر سکتی ہے؟ یہ سوال اس لیے متعلقہ ہے کہ تکنیکی معاونت اور مشترکہ جائزے کا یہ ماڈل صرف زمین کے انتظام تک محدود نہیں، بلکہ اسے مختلف شعبوں میں اپنایا جا سکتا ہے جہاں بین الاقوامی معیارات کی پاسداری اور مقامی مہارت کا امتزاج ضروری ہوتا ہے۔

عربی زبان میں دستاویز سازی کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خطے کے کئی ممالک میں زمین کے انتظام سے متعلق معلومات اکثر انگریزی یا دیگر غیر مقامی زبانوں میں دستیاب ہوتی ہیں، جس سے مقامی سطح پر ان کے استعمال میں رکاوٹیں آتی ہیں۔ عربی زبان میں جائزے اور توثیق کی سہولت اس رکاوٹ کو کم کرنے میں مدد دے گی اور عرب دنیا کے ماہرین کو اپنی زبان میں تکنیکی مواد تیار کرنے اور اس پر تنقیدی جائزہ لینے کا موقع فراہم کرے گی۔

کیا عربی زبان میں تکنیکی مواد کی فراوانی خطے میں تحقیق اور پالیسی سازی کے معیار کو بلند کر سکتی ہے؟ اس کا جواب اس بات میں ہے کہ جب پالیسی سازوں اور محققین کو اپنی زبان میں بین الاقوامی معیار کا مواد دستیاب ہو تو فیصلہ سازی میں مقامی سیاق و سباق کو شامل کرنا آسان ہو جاتا ہے، اور اس سے پالیسیوں کی عملی افادیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

سعودی وژن 2030 کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کامیابی مملکت کے وسیع تر اہداف سے ہم آہنگ نظر آتی ہے، جن میں ماحولیاتی پائیداری اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کی جانب سے جاری بیان میں بھی اس بات کا ذکر موجود ہے کہ یہ پیش رفت ماحولیاتی پائیداری اور سعودی وژن 2030 کی معاونت کرتی ہے۔

کیا زمین کی بحالی کے شعبے میں بین الاقوامی تسلیمات وژن 2030 کے تحت کی جانے والی کوششوں کی رفتار کو مزید تیز کر سکتی ہیں؟ یہ پہلو اس لیے قابل غور ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے سے نہ صرف اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی بڑھتی ہے، جو طویل مدتی منصوبوں کے لیے اہم ہوتی ہے۔

COP17 کے موقع پر نیشنل گریننگ پروگرام کی تسلیم اور اس کے بعد عربی زبان کے ماہر جائزہ لینے والوں کی رجسٹریشن کو ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلی کڑی میں مملکت کے پروگرام کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا، اور دوسری کڑی میں مملکت کے ماہرین کو عالمی ڈیٹا بیس کے جائزے کے عمل میں شامل کیا گیا۔ یہ دونوں پیش رفت مل کر اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ سعودی عرب زمین کی بحالی کے عالمی نظام میں ایک فعال شریک کے طور پر ابھر رہا ہے۔

کیا اس قسم کی تسلیمات خطے کے دیگر ممالک کو بھی اسی راستے پر چلنے کی ترغیب دے سکتی ہیں؟ اگر خطے کے دیگر ممالک بھی عربی زبان میں جائزے کی صلاحیت حاصل کر لیں تو اس سے پورے خطے کی اجتماعی مہارت میں اضافہ ہوگا اور زمین کی بحالی کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے میں زیادہ مؤثر تعاون ممکن ہو سکے گا۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس کامیابی کا اعلان ریاض سے 25 اکتوبر 2026 کو کیا گیا، اور اسے نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن نے پیش کیا۔ مرکز کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس پیش رفت سے مملکت کی بین الاقوامی معیارات کے مطابق دستاویز سازی، جائزہ اور توثیق کی صلاحیت مضبوط ہوتی ہے، اور عربی زبان کی تکنیکی مہارت میں وسعت آتی ہے۔

کیا تکنیکی مہارت کی وسعت کا اثر طویل مدت میں زمین کے انتظام کے فیصلوں کے معیار پر پڑے گا؟ جب کسی ملک کے ماہرین بین الاقوامی ڈیٹا بیس کے جائزے کے عمل کا حصہ بنتے ہیں تو وہ نہ صرف دوسروں کے تجربات کا جائزہ لیتے ہیں بلکہ اپنے ملک کے تجربات کو بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کا موقع پاتے ہیں، جس سے مقامی فیصلہ سازی کے معیار پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ان دس ماہرین کے نام کیا ہیں، ان کا تعلق مملکت کے کن اداروں یا شعبوں سے ہے، یا ان کی رجسٹریشن کی مدت کتنی ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ عربی زبان میں جائزے کا عمل کب سے شروع ہوگا یا اس کے تحت کتنے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان تفصیلات کے بغیر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس پیش رفت کے عملی اثرات کس رفتار سے سامنے آئیں گے۔

کیا ان تفصیلات کی عدم موجودگی اس پیش رفت کی اہمیت کو کم کرتی ہے؟ یقیناً نہیں، کیونکہ پہلا عرب ملک ہونے کا اعزاز اور عالمی ڈیٹا بیس میں دس ماہرین کی رجسٹریشن بذات خود ایک قابل ذکر پیش رفت ہے، تاہم اس کے مکمل اثرات کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ اطلاعات کا انتظار کرنا پڑے گا۔

خلاصہ یہ کہ سعودی عرب نے عربی زبان میں زمین کے انتظام کی مہارت کے میدان میں علاقائی سطح پر ایک قدم آگے بڑھ کر پہلا عرب ملک ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ دس سعودی ماہرین کی عالمی ڈیٹا بیس میں رجسٹریشن، FAO اور WOCAT کے ساتھ شراکت داری، اور نیشنل گریننگ پروگرام کی COP17 میں تسلیم کے ساتھ مل کر یہ پیش رفت مملکت کی زمین کی بحالی اور صحرا بندی کے خلاف جدوجہد میں بین الاقوامی سطح پر فعال شرکت کی عکاسی کرتی ہے۔

سعودی عرب نے کون سی بین الاقوامی تسلیم حاصل کی ہے؟ سعودی عرب کے ماہرین کو ورلڈ اوور ویو آف کنزرویشن اپروچز اینڈ ٹیکنالوجیز (WOCAT) کے عالمی پائیدار زمین کے انتظام کے ڈیٹا بیس کے لیے عربی زبان کے ماہر جائزہ لینے والوں کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والا سعودی عرب پہلا عرب ملک ہے۔ نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کے مطابق یہ کامیابی عربی زبان میں پائیدار زمین کے انتظام کے طریقوں کی دستاویز سازی اور جائزے کو ممکن بناتی ہے۔

کتنے سعودی ماہرین رجسٹر کیے گئے اور ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ FAO اور WOCAT سیکرٹریٹ کے مشترکہ جائزے کے بعد 10 سعودی ماہرین کو عالمی ڈیٹا بیس میں رجسٹر کیا گیا۔ ان میں پانچ ماہر جائزہ لینے والے ہیں جو تکنیکی جائزے اور معیار کی جانچ کے ذمہ دار ہوں گے، جبکہ پانچ سعودی قومی ماہرین ہیں جو عالمی پلیٹ فارم پر اشاعت سے قبل دستاویز شدہ طریقوں کی قومی سطح پر توثیق اور منظوری کے ذمہ دار ہوں گے۔

اس کامیابی میں FAO کا کیا کردار رہا؟ نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کے مطابق یہ کامیابی اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کی تکنیکی معاونت سے ممکن ہوئی، جو WOCAT کے ساتھ اس کی شراکت داری کے ذریعے فراہم کی گئی۔ اس کے بعد FAO اور WOCAT سیکرٹریٹ کا مشترکہ جائزہ عمل میں آیا، جس کی بنیاد پر سعودی ماہرین کو عالمی ڈیٹا بیس میں رجسٹر کیا گیا۔

نیشنل گریننگ پروگرام کی تسلیم کا اس پیش رفت سے کیا تعلق ہے؟ مرکز کے مطابق یہ کامیابی سعودی عرب کے نیشنل گریننگ پروگرام کو اقوام متحدہ کے ورلڈ ریسٹوریشن فلیگ شپ کے طور پر تسلیم کیے جانے کی تکمیل کرتی ہے۔ یہ تسلیم اگست میں منگولیا کے شہر اولان باتور میں اقوام متحدہ کے کنونشن ٹو کمبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن (UNCCD) کے 17ویں اجلاس (COP17) میں کی گئی تھی۔ دونوں پیش رفت مل کر زمین کی بحالی میں مملکت کی بین الاقوامی شرکت کو ظاہر کرتی ہیں۔

عربی زبان میں جائزے کی اہلیت کیوں اہم ہے؟ مرکز کے مطابق یہ پیش رفت مملکت کی بین الاقوامی معیارات کے مطابق دستاویز سازی، جائزہ اور توثیق کی صلاحیت کو مضبوط کرتی ہے اور عربی زبان کی تکنیکی مہارت کو وسعت دیتی ہے۔ اس سے زمین کی بحالی اور صحرا بندی کے خلاف جدوجہد پر علاقائی اور عالمی کوششوں میں سعودی عرب کا تعاون مزید مستحکم ہوتا ہے، اور عربی زبان میں پائیدار زمین کے انتظام کے طریقوں کی دستاویز سازی اور جائزہ ممکن ہوتا ہے۔

کیا رپورٹ میں ماہرین یا شیڈول کی تفصیلات دی گئی ہیں؟ رپورٹ میں دس سعودی ماہرین کے نام، ان کے اداروں یا ان کی رجسٹریشن کی مدت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ عربی زبان میں جائزے کا عمل کب شروع ہوگا یا اس کے تحت کتنے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ دستیاب معلومات کے مطابق صرف یہ بتایا گیا ہے کہ پانچ ماہر جائزہ لینے والے اور پانچ قومی ماہرین رجسٹر کیے گئے ہیں۔