سعودی عرب میں 30 جولائی سے 5 اگست کے درمیان اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کی تعمیل کے لیے چلائی گئی مہم کے دوران وزارت داخلہ نے 14,440 خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں۔ ان میں 7,090 اقامہ، 3,932 سرحدی سیکورٹی اور 3,418 لیبر قوانین سے متعلق ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اگست 2026 کو بیان کیا، سرحدی حکام نے غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 1,593 افراد کو گرفتار کیا، جن میں 59 فیصد ایتھوپین، 40 فیصد یمنی اور 1 فیصد دیگر شہریتوں کے حامل تھے۔ اس کے علاوہ 32 افراد کو غیر قانونی طور پر مملکت چھوڑنے کی کوشش پر گرفتار کیا گیا۔
خلاف ورزی کرنے والوں کی نقل و حمل، پناہ دینے اور انہیں ملازمت فراہم کرنے میں ملوث 25 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ اس وقت 32,012 غیر ملکی، جن میں 29,995 مرد اور 2,017 خواتین شامل ہیں، ضوابط کے نفاذ کے طریقہ کار سے گزر رہے ہیں۔
ضوابط کی خلاف ورزی پر 18,131 افراد کو حراست میں لیا گیا جنہیں سفارت خانوں سے سفری دستاویزات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ 6,357 کو سفری انتظامات کرنے کا مشورہ دیا گیا اور 10,827 افراد کی وطن واپسی کرائی گئی۔
وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی داخلے میں مدد، نقل و حمل یا پناہ فراہم کرنے والوں کو 15 سال تک قید اور 1 ملین سعودی ریال تک جرمانہ ہو سکتا ہے، اور استعمال شدہ گاڑیوں اور جائیدادوں کو ضبط کیا جا سکتا ہے۔ وزارت نے عوام سے 911 (مکہ، ریاض، مشرقی علاقوں میں) یا 999 اور 996 (دیگر علاقوں میں) پر کال کر کے خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کی اپیل کی ہے۔
ایک ہفتے کی مہم میں کتنی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں؟ 30 جولائی سے 5 اگست کے درمیان وزارت داخلہ نے مجموعی طور پر 14,440 خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں۔ ان میں 7,090 اقامہ، 3,932 سرحدی سیکورٹی اور 3,418 لیبر قوانین سے متعلقہ کیسز شامل ہیں۔
غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کی تفصیلات کیا ہیں؟ سرحدی حکام نے 1,593 افراد کو غیر قانونی داخلے کی کوشش پر گرفتار کیا، جن میں 59 فیصد ایتھوپین اور 40 فیصد یمنی تھے۔ اس کے علاوہ 32 افراد کو غیر قانونی طور پر مملکت چھوڑنے کی کوشش پر گرفتار کیا گیا۔
خلاف ورزی کرنے والوں کی وطن واپسی اور حراست کی کیا صورتحال ہے؟ مجموعی طور پر 10,827 افراد کی وطن واپسی کرائی گئی اور 18,131 افراد کو حراست میں لیا گیا جنہیں سفارتی دستاویزات کے لیے ہدایت کی گئی۔ مزید 6,357 افراد کو سفری انتظامات کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
غیر قانونی داخلے میں مدد کرنے والوں کے لیے کیا سزائیں مقرر ہیں؟ وزارت داخلہ کے مطابق غیر قانونی داخلے میں مدد، نقل و حمل یا پناہ فراہم کرنے والوں کو 15 سال تک قید اور 1 ملین سعودی ریال تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ استعمال شدہ جائیدادیں اور گاڑیاں بھی ضبط کی جا سکتی ہیں۔