ریاض میں سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات 23 اکتوبر 2026 کو یمن کی حوثی ملیشیا کے ان دعووں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ مملکت سعودی عرب نے قبائلی اور شہری اجتماعات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو جھوٹا اور مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ ان دعووں کا مواد اور وقت دونوں ہی اس بات کا عکس ہیں کہ ملیشیا رائے عامہ کو گمراہ کرنے، اپنے بحرانوں اور طریقوں سے توجہ ہٹانے اور یمنی قبائل کے افراد کو اپنے تنازعات میں گھسیٹنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔
یمنی قبائل یمن کے سماجی اور تاریخی تانے بانے کا حصہ ہیں
اتحاد کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی قبائل یمن کے سماجی اور تاریخی تانے بانے کا اٹوٹ حصہ رہیں گے، یمنی معاشرے کا مضبوط ستون ہیں اور سعودی اور یمنی عوام کے درمیان بھائی چارے کا پل ہیں، جو مذہب، ہمسائیگی، تاریخ اور مشترکہ تقدیر سے جڑے ہوئے ہیں۔ کیا کوئی بھی گمراہ کن مہم ان رشتوں کی گہرائی کو سمجھ سکتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ یہ رشتے اتنے گہرے ہیں کہ غلط معلومات کی مہمات یا تقسیم اور دشمنی پیدا کرنے کی کوششیں انہیں کمزور نہیں کر سکتیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں معلوماتی جنگ کے ساتھ ساتھ میدانی پیش رفت بھی جاری ہے، اور ہر فریق اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کیا قبائلی اجتماعات کو نشانہ بنانے کے دعوے یمن کے اندرونی معاملات سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش نہیں؟ میجر جنرل ترکی المالکی نے واضح کیا کہ یمنی قبائل کو ان تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو یمنی عوام کی سلامتی، امن اور ترقی کی خواہشات کے حق میں نہیں ہیں۔
انہوں نے مملکت سعودی عرب کے یمن کی سلامتی اور استحکام کے ساتھ ساتھ یمنی عوام کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات برقرار رکھنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات سلامتی اور استحکام کو مضبوط کرتے ہیں، دونوں عوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور یمنی قبائل کو استحصال یا ایسے تنازعات میں گھسیٹنے سے روکتے ہیں جو یمنی عوام کی سلامتی، امن اور ترقی کی خواہشات کی خدمت نہیں کرتے۔
کیا یمنی قبائل کو تنازعات میں گھسیٹنا کسی کے مفاد میں ہے؟ اتحاد کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ سچ ہمیشہ غلط معلومات کی مہمات پر غالب رہے گا اور دونوں عوام کے درمیان بھائی چارے کے رشتے تقسیم اور اختلاف پیدا کرنے کی تمام کوششوں کے سامنے مضبوط رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمنی قبائل یمن کے سماجی اور تاریخی تانے بانے کا اٹوٹ حصہ ہیں اور یہ رشتے مذہب، ہمسائیگی، تاریخ اور مشترکہ تقدیر سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے انہیں کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے مختلف دعوے اور الزامات سامنے آتے رہتے ہیں، جنہیں اتحاد کی جانب سے مسترد کیا جاتا رہا ہے۔ میجر جنرل ترکی المالکی نے ان دعووں کو جھوٹا اور مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مواد اور وقت دونوں ہی ملیشیا کی جانب سے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
کیا رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب ہو سکتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یمنی قبائل یمن کے معاشرے کا مضبوط ستون ہیں اور سعودی اور یمنی عوام کے درمیان بھائی چارے کا پل ہیں، اور یہ رشتے تاریخ، مذہب اور ہمسائیگی کی بنیاد پر قائم ہیں۔
اتحاد کے ترجمان نے مملکت سعودی عرب کے یمن کی سلامتی اور استحکام کے لیے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات دونوں عوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور یمنی قبائل کو استحصال سے بچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سچ ہمیشہ غلط معلومات پر غالب رہے گا اور دونوں عوام کے درمیان بھائی چارے کے رشتے مضبوط رہیں گے۔
کیا یمنی عوام کی سلامتی، امن اور ترقی کی خواہشات کسی تنازعے سے پوری ہو سکتی ہیں؟ میجر جنرل ترکی المالکی نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی قبائل کو ان تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو یمنی عوام کی خواہشات کے حق میں نہیں ہیں، اور مملکت سعودی عرب یمن کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمنی قبائل یمن کے سماجی اور تاریخی تانے بانے کا اٹوٹ حصہ رہیں گے اور یہ رشتے اتنے گہرے ہیں کہ غلط معلومات کی مہمات انہیں کمزور نہیں کر سکتیں۔ ان کا یہ بیان سعودی عرب اور یمن کے درمیان تاریخی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو مذہب، ہمسائیگی، تاریخ اور مشترکہ تقدیر پر مبنی ہیں۔
کیا تقسیم اور دشمنی پیدا کرنے کی کوششیں ان رشتوں کو متاثر کر سکتی ہیں؟ اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ یہ رشتے اتنے گہرے ہیں کہ انہیں کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو گی، اور سچ ہمیشہ غلط معلومات کی مہمات پر غالب رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مملکت سعودی عرب یمن کی سلامتی اور استحکام کے ساتھ ساتھ یمنی عوام کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، اور یہ تعلقات دونوں عوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمنی قبائل کو استحصال یا ایسے تنازعات میں گھسیٹنے سے روکا جانا چاہیے جو یمنی عوام کی سلامتی، امن اور ترقی کی خواہشات کی خدمت نہیں کرتے۔
کیا یمنی قبائل کو تنازعات سے دور رکھنا خطے کے استحکام کے لیے ضروری نہیں؟ میجر جنرل ترکی المالکی نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی قبائل یمن کے معاشرے کا مضبوط ستون ہیں اور سعودی اور یمنی عوام کے درمیان بھائی چارے کا پل ہیں، اور یہ رشتے تاریخ، مذہب اور ہمسائیگی کی بنیاد پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان دعووں کا مواد اور وقت دونوں ہی ملیشیا کی جانب سے رائے عامہ کو گمراہ کرنے، اپنے بحرانوں اور طریقوں سے توجہ ہٹانے اور یمنی قبائل کے افراد کو اپنے تنازعات میں گھسیٹنے کی کوششوں کا عکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سچ ہمیشہ غلط معلومات کی مہمات پر غالب رہے گا اور دونوں عوام کے درمیان بھائی چارے کے رشتے تقسیم اور اختلاف پیدا کرنے کی تمام کوششوں کے سامنے مضبوط رہیں گے۔
کیا غلط معلومات کی مہمات سعودی اور یمنی عوام کے درمیان بھائی چارے کو متاثر کر سکتی ہیں؟ اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ یہ رشتے اتنے گہرے ہیں کہ انہیں کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو گی، اور مملکت سعودی عرب یمن کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمنی قبائل یمن کے سماجی اور تاریخی تانے بانے کا اٹوٹ حصہ رہیں گے اور یہ رشتے مذہب، ہمسائیگی، تاریخ اور مشترکہ تقدیر سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے انہیں کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مملکت سعودی عرب یمن کی سلامتی اور استحکام کے ساتھ ساتھ یمنی عوام کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
کیا یمنی عوام کی سلامتی، امن اور ترقی کی خواہشات کو تنازعات سے پورا کیا جا سکتا ہے؟ میجر جنرل ترکی المالکی نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی قبائل کو ان تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو یمنی عوام کی خواہشات کے حق میں نہیں ہیں، اور سچ ہمیشہ غلط معلومات کی مہمات پر غالب رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ یمنی قبائل یمن کے معاشرے کا مضبوط ستون ہیں اور سعودی اور یمنی عوام کے درمیان بھائی چارے کا پل ہیں، اور یہ رشتے تاریخ، مذہب اور ہمسائیگی کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دعووں کا مواد اور وقت دونوں ہی ملیشیا کی جانب سے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوششوں کا عکس ہیں۔
کیا رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب ہو سکتی ہیں؟ اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ یہ رشتے اتنے گہرے ہیں کہ انہیں کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو گی، اور مملکت سعودی عرب یمن کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ ہمیشہ غلط معلومات کی مہمات پر غالب رہے گا اور دونوں عوام کے درمیان بھائی چارے کے رشتے تقسیم اور اختلاف پیدا کرنے کی تمام کوششوں کے سامنے مضبوط رہیں گے۔
رپورٹ میں ان دعووں کی تفصیلات، ان کے اعلان کی جگہ یا ان کے پیچھے کسی مخصوص شخص کا نام نہیں دیا گیا۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ دعوے کب اور کہاں سامنے آئے یا ان کا کوئی ثبوت پیش کیا گیا۔
حوثیوں نے کیا دعویٰ کیا تھا؟ یمن کی حوثی ملیشیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مملکت سعودی عرب نے قبائلی اور شہری اجتماعات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ان دعووں کو جھوٹا اور مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مواد اور وقت دونوں ہی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوششوں کا عکس ہیں۔
اتحاد کے ترجمان نے یمنی قبائل کے بارے میں کیا کہا؟ میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یمنی قبائل یمن کے سماجی اور تاریخی تانے بانے کا اٹوٹ حصہ رہیں گے اور یمنی معاشرے کا مضبوط ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قبائل سعودی اور یمنی عوام کے درمیان بھائی چارے کا پل ہیں، جو مذہب، ہمسائیگی، تاریخ اور مشترکہ تقدیر سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رشتے اتنے گہرے ہیں کہ غلط معلومات کی مہمات انہیں کمزور نہیں کر سکتیں۔
سعودی عرب کے یمن کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کیا کہا گیا؟ اتحاد کے ترجمان نے مملکت سعودی عرب کے یمن کی سلامتی اور استحکام کے ساتھ ساتھ یمنی عوام کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات برقرار رکھنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات سلامتی اور استحکام کو مضبوط کرتے ہیں، دونوں عوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور یمنی قبائل کو استحصال یا ایسے تنازعات میں گھسیٹنے سے روکتے ہیں جو یمنی عوام کی سلامتی، امن اور ترقی کی خواہشات کی خدمت نہیں کرتے۔
ترجمان نے دعووں کے وقت اور مواد کے بارے میں کیا کہا؟ میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ ان دعووں کا مواد اور وقت دونوں ہی ملیشیا کی جانب سے رائے عامہ کو گمراہ کرنے، اپنے بحرانوں اور طریقوں سے توجہ ہٹانے اور یمنی قبائل کے افراد کو اپنے تنازعات میں گھسیٹنے کی مسلسل کوششوں کا عکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سچ ہمیشہ غلط معلومات کی مہمات پر غالب رہے گا اور دونوں عوام کے درمیان بھائی چارے کے رشتے تقسیم اور اختلاف پیدا کرنے کی تمام کوششوں کے سامنے مضبوط رہیں گے۔
اس بیان میں کون سی معلومات شامل نہیں تھیں؟ رپورٹ میں ان دعووں کی تفصیلات، ان کے اعلان کی جگہ یا ان کے پیچھے کسی مخصوص شخص کا نام نہیں دیا گیا۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ دعوے کب اور کہاں سامنے آئے یا ان کا کوئی ثبوت پیش کیا گیا۔ بیان میں یمنی قبائل کے بارے میں عمومی اصولی موقف بیان کیا گیا، مگر کسی مخصوص قبائلی اجتماع یا واقعے کا ذکر نہیں کیا گیا۔