Monday, October 19, 2026
سعودی خبریں

سعودی عرب کا خلیجی ڈیجیٹل رابطے اور خودمختار کمپیوٹنگ کا مطالبہ

سعودی عرب کا خلیجی ڈیجیٹل رابطے اور خودمختار کمپیوٹنگ کا مطالبہ

سعودی عرب نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان پائیدار ڈیجیٹل رابطے اور ایسی کمپیوٹنگ صلاحیتوں کے انضمام کا مطالبہ کیا ہے جو ڈیٹا کی خودمختاری کا تحفظ کریں اور خلیجی کمپنیوں کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں۔ یہ مطالبہ مصنوعی ذہانت کے دور میں جی سی سی کے انضمام کو مضبوط بنانے اور رکن ممالک کی تکنیکی اور اقتصادی صلاحیتوں کو ایک اجتماعی قوت میں بدلنے کے مقصد سے کیا گیا ہے جو ان کی عالمی قیادت کو سہارا دے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ مطالبہ مملکت کے خطاب کے دوران سامنے آیا جو وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی عبداللہ السواحہ نے بحرین کی بادشاہت میں منعقدہ جی سی سی وزارتی کمیٹی برائے ڈاک و ٹیلی مواصلات کے تیسویں اجلاس میں پیش کیا۔

السواحہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ان کے ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی ہدایات کے تحت مملکت اپنے بھائی خلیجی رکن ممالک کے ساتھ مل کر تین ستونوں پر خلیجی انضمام کو مضبوط بنا رہی ہے۔ کیا خلیجی خطے کی اجتماعی طاقت ہی اسے عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کی واحد راہ ہے؟

پہلا ستون ڈیجیٹل لچک سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کی قیادت کی طرف جانا ہے۔ دوسرا ستون توانائی اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں کا انضمام ہے جبکہ ڈیٹا کی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ تیسرا ستون کاروباری صلاحیت کے لیے مشترکہ منڈیوں کی تعمیر ہے تاکہ عالمی مسابقت کو بڑھایا جا سکے۔

وزیر مواصلات نے وضاحت کی کہ مملکت نے اپنی صلاحیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو بروئے کار لا کر خلیجی رکن ممالک میں ڈیٹا ٹریفک اور ٹیلی مواصلات کے تسلسل کی حمایت کی ہے۔ اس مقصد کے لیے 8.4 ٹیرا بٹ فی سیکنڈ سے زائد بین الاقوامی صلاحیت شامل کی گئی اور مجموعی صلاحیت میں تقریباً 80 فیصد اضافہ کر کے اسے 18 ٹیرا بٹ فی سیکنڈ تک پہنچایا گیا۔ کیا یہ اعداد و شمار خطے میں ڈیجیٹل خود انحصاری کی نئی بنیاد رکھتے ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے جی سی سی جنرل سیکرٹریٹ اور گردشی صدارت کے حامل ملک کو ایک تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد پائیدار ڈیجیٹل باہمی رابطے کا قیام ہے۔ یہ تجویز جی سی سی بجلی کے باہمی رابطے کے نمونے پر مبنی ہے تاکہ ڈیجیٹل لچک کو ایک مشترکہ اور پائیدار خلیجی فریم ورک میں شامل کیا جا سکے۔

توانائی اور کمپیوٹنگ کے انضمام کے حوالے سے وزیر مواصلات نے مزید وضاحت پیش کی کہ مملکت اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو خلیجی شراکت داری کے لیے استعمال کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ کیا توانائی کے وسائل اور کمپیوٹنگ کی طاقت کو یکجا کیے بغیر مصنوعی ذہانت کے دور میں کوئی خطہ آگے بڑھ سکتا ہے؟

السواحہ کے مطابق ڈیٹا کی خودمختاری کا تحفظ اس انضمام کا لازمی حصہ ہے تاکہ خلیجی کمپنیاں عالمی منڈیوں میں اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رکن ممالک کی تکنیکی اور اقتصادی صلاحیتوں کو اجتماعی قوت میں بدلنا ہی ان کی عالمی قیادت کو ممکن بنائے گا۔

تیسرے ستون کے طور پر کاروباری صلاحیت کے لیے مشترکہ منڈیوں کی تعمیر کا ذکر کیا گیا۔ اس کا مقصد خلیجی خطے میں نئے کاروباروں کو فروغ دینا اور انہیں عالمی مسابقت کے لیے تیار کرنا ہے۔ کیا مشترکہ منڈیاں خلیجی نوجوانوں کے لیے نئے دروازے کھولیں گی؟

اجلاس بحرین کی بادشاہت میں منعقد ہوا جہاں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرا نے ڈاک اور ٹیلی مواصلات کے شعبے میں تعاون کے امور پر غور کیا۔ سعودی عرب کی جانب سے پیش کردہ تجاویز اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مملکت خطے میں ڈیجیٹل انضمام کو کس طرح ترجیح دے رہی ہے۔

وزیر مواصلات نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مملکت نے ڈیٹا ٹریفک کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اپنے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں توسیع کی ہے۔ 8.4 ٹیرا بٹ فی سیکنڈ سے زائد بین الاقوامی صلاحیت کا اضافہ اور مجموعی صلاحیت میں تقریباً 80 فیصد اضافہ اس کی واضح مثال ہے۔ کیا یہ توسیع خلیجی خطے کے ڈیجیٹل مستقبل کی ضمانت ہے؟

سعودی عرب کی اس تجویز کا مقصد جی سی سی بجلی کے باہمی رابطے کی طرز پر ایک پائیدار ڈیجیٹل فریم ورک قائم کرنا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت ڈیجیٹل لچک کو صرف قومی معاملہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ خلیجی ذمہ داری سمجھتی ہے۔

السواحہ نے تین ستونوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلا ستون ڈیجیٹل لچک سے مصنوعی ذہانت کی قیادت تک کا سفر ہے۔ دوسرا ستون توانائی اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں کا انضمام ہے جس میں ڈیٹا کی خودمختاری کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ تیسرا ستون کاروباری صلاحیت کے لیے مشترکہ منڈیوں کی تشکیل ہے۔ کیا یہ تینوں ستون مل کر خلیجی خطے کی عالمی مسابقت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں؟

مملکت کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور خطے کے ممالک اس شعبے میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی یہ کوشش خطے کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

وزیر مواصلات نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت اپنے بھائی خلیجی رکن ممالک کے ساتھ مل کر خلیجی انضمام کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون تین ستونوں پر استوار ہے جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور مل کر خطے کی تکنیکی اور اقتصادی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔

ڈیٹا کی خودمختاری کے تحفظ کے پہلو پر خاص توجہ دی گئی کیونکہ یہ خلیجی کمپنیوں کے لیے عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اگر ڈیٹا کی خودمختاری محفوظ نہ ہو تو کیا خلیجی کمپنیاں عالمی منڈیوں میں اعتماد کے ساتھ اتر سکتی ہیں؟

سعودی عرب نے جی سی سی جنرل سیکرٹریٹ اور گردشی صدارت کے حامل ملک کو جو تجویز پیش کی ہے وہ جی سی سی بجلی کے باہمی رابطے کے نمونے پر مبنی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت خطے میں کامیاب ماڈلز کو ڈیجیٹل شعبے میں بھی اپنانا چاہتی ہے۔

اجلاس میں سعودی وفد کی شرکت اور وزیر مواصلات کا خطاب اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت خلیجی تعاون کونسل کے فریم ورک کے اندر ڈیجیٹل اور ٹیلی مواصلات کے شعبے میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ کیا یہ فعال کردار خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی نمونہ بن سکتا ہے؟

السواحہ نے اپنے خطاب میں مملکت کی جانب سے بین الاقوامی صلاحیت میں 8.4 ٹیرا بٹ فی سیکنڈ سے زائد کے اضافے کا ذکر کیا اور بتایا کہ مجموعی صلاحیت تقریباً 80 فیصد بڑھ کر 18 ٹیرا بٹ فی سیکنڈ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار خلیجی رکن ممالک میں ڈیٹا ٹریفک اور ٹیلی مواصلات کے تسلسل کی حمایت کرتے ہیں۔

وزیر مواصلات کے مطابق مملکت کی یہ کوششیں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی ہدایات کے مطابق ہیں۔ ان ہدایات کی روشنی میں مملکت خلیجی انضمام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے بھائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

توانائی اور کمپیوٹنگ کے انضمام کا ستون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنے توانائی کے وسائل کو کمپیوٹنگ کی صلاحیتوں کے ساتھ جوڑ کر مصنوعی ذہانت کے میدان میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اس انضمام میں ڈیٹا کی خودمختاری کا تحفظ ایک بنیادی شرط ہے۔

کاروباری صلاحیت کے لیے مشترکہ منڈیوں کی تعمیر کا ستون خلیجی خطے میں نئے کاروباری مواقع پیدا کرنے اور انہیں عالمی مسابقت کے لیے تیار کرنے پر مرکوز ہے۔ اس سے خطے کے نوجوانوں اور کاروباری افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ کیا مشترکہ منڈیاں خلیجی معیشت کو متنوع بنانے میں مدد دیں گی؟

سعودی عرب کی جانب سے یہ مطالبہ خطے میں ڈیجیٹل تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ مملکت کی قیادت میں خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

وزیر مواصلات نے اجلاس میں واضح کیا کہ مملکت ڈیجیٹل لچک کو ایک مشترکہ اور پائیدار خلیجی فریم ورک میں شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس مقصد کے لیے جی سی سی جنرل سیکرٹریٹ اور گردشی صدارت کے حامل ملک کو تجویز پیش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اس تجویز پر رکن ممالک کی جانب سے کیا ردعمل سامنے آیا یا اس پر عمل درآمد کے لیے کوئی ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ توانائی اور کمپیوٹنگ کے انضمام کے حوالے سے مزید تفصیلات بھی دستیاب نہیں ہیں۔

سعودی عرب نے خلیجی ڈیجیٹل رابطے کے حوالے سے کیا تجویز پیش کی؟ سعودی عرب نے جی سی سی جنرل سیکرٹریٹ اور گردشی صدارت کے حامل ملک کو ایک تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد پائیدار ڈیجیٹل باہمی رابطے کا قیام ہے۔ یہ تجویز جی سی سی بجلی کے باہمی رابطے کے نمونے پر مبنی ہے تاکہ ڈیجیٹل لچک کو ایک مشترکہ اور پائیدار خلیجی فریم ورک میں شامل کیا جا سکے۔ یہ مطالبہ بحرین میں منعقدہ جی سی سی وزارتی کمیٹی برائے ڈاک و ٹیلی مواصلات کے تیسویں اجلاس میں پیش کیا گیا۔

مملکت نے ڈیٹا ٹریفک کے تسلسل کے لیے کون سی صلاحیت شامل کی؟ وزیر مواصلات عبداللہ السواحہ کے مطابق مملکت نے خلیجی رکن ممالک میں ڈیٹا ٹریفک اور ٹیلی مواصلات کے تسلسل کی حمایت کے لیے 8.4 ٹیرا بٹ فی سیکنڈ سے زائد بین الاقوامی صلاحیت شامل کی ہے۔ اس کے علاوہ مجموعی صلاحیت میں تقریباً 80 فیصد اضافہ کر کے اسے 18 ٹیرا بٹ فی سیکنڈ تک پہنچایا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اجلاس میں پیش کیے گئے۔

خلیجی انضمام کے تین ستون کون سے ہیں؟ السواحہ نے اجلاس میں تین ستونوں کا ذکر کیا۔ پہلا ستون ڈیجیٹل لچک سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کی قیادت کی طرف جانا ہے۔ دوسرا ستون توانائی اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں کا انضمام ہے جبکہ ڈیٹا کی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ تیسرا ستون کاروباری صلاحیت کے لیے مشترکہ منڈیوں کی تعمیر ہے تاکہ عالمی مسابقت کو بڑھایا جا سکے۔

ڈیٹا کی خودمختاری کو اس انضمام میں کیا اہمیت حاصل ہے؟ وزیر مواصلات کے مطابق ڈیٹا کی خودمختاری کا تحفظ اس انضمام کا لازمی حصہ ہے تاکہ خلیجی کمپنیاں عالمی منڈیوں میں اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ رکن ممالک کی تکنیکی اور اقتصادی صلاحیتوں کو اجتماعی قوت میں بدلنا ہی ان کی عالمی قیادت کو ممکن بنائے گا۔ یہ مطالبہ مصنوعی ذہانت کے دور میں جی سی سی کے انضمام کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا۔

یہ خطاب کہاں اور کس موقع پر دیا گیا؟ یہ خطاب بحرین کی بادشاہت میں منعقدہ جی سی سی وزارتی کمیٹی برائے ڈاک و ٹیلی مواصلات کے تیسویں اجلاس میں دیا گیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اجلاس 18 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوا۔ خطاب وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی عبداللہ السواحہ نے مملکت کی جانب سے پیش کیا۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ پائیدار ڈیجیٹل رابطے کی تجویز پر رکن ممالک کی جانب سے کیا ردعمل سامنے آیا یا اس پر عمل درآمد کے لیے کوئی ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ توانائی اور کمپیوٹنگ کے انضمام کے حوالے سے مزید تفصیلات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ رپورٹ میں رقم یا تکمیل کی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔