Monday, September 21, 2026
سعودی خبریں

سعودی عرب کا سلامتی کونسل کے بیان اور حوثی حملوں کی مذمت کا خیرمقدم

سعودی عرب کا سلامتی کونسل کے بیان اور حوثی حملوں کی مذمت کا خیرمقدم

سعودی عرب نے سلامتی کونسل کے ارکان کی جانب سے 7 اگست 2026 کو جاری کردہ اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں 13 جولائی سے سعودی عرب پر حوثی دہشت گرد ملیشیا کے میزائل حملوں اور 22 جولائی سے تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اگست 2026 کو بیان کیا، سعودی عرب نے بین الاقوامی قوانین، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، خاص طور پر قرارداد 2216 کی پاسداری، اور یمن کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دینے پر تعریف کی ہے۔

سعودی عرب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ کی ذمہ داری اٹھائے اور علاقائی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور بحری جہ رانی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کے خلاف سخت موقف اختیار کرے۔

سعودی عرب نے اپنی ریاست، شہریوں اور تنصیبات کے دفاع کے حق اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں تمام ضروری اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ساتھ ہی یمن کی قانونی حکومت اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی امن کوششوں کے لیے اپنی حمایت ظاہر کی ہے۔

سعودی عرب نے کس بیان کا خیرمقدم کیا ہے؟ سعودی عرب نے 7 اگست 2026 کو سلامتی کونسل کے ارکان کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں 13 جولائی سے ملک پر حوثی میزائل حملوں اور 22 جولائی سے تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

بیان میں کن نکات پر زور دیا گیا ہے؟ بیان میں بین الاقوامی قوانین، سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کی پاسداری اور یمن کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا گیا ہے، ساتھ ہی بحری جہ رانی کی آزادی کو خطرات سے بچانے کی بات کی گئی ہے۔

سعودی عرب کا عالمی برادری سے کیا مطالبہ ہے؟ سعودی عرب نے عالمی برادری سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ کی ذمہ داری اٹھانے اور علاقائی استحکام اور بین الاقوامی تجارت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کے خلاف سخت موقف اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔