سعودی عرب 2026 میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقیات کے لیے یونسکو کے چوتھے عالمی فورم کی میزبانی کرے گا، جو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں عالمی مکالمے کی حمایت میں ملک کے بین الاقوامی مقام کی عکاسی کرتا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اگست 2026 کو بیان کیا، وزیر ثقافت اور تعلیم، ثقافت اور سائنس کے لیے سعودی نیشنل کمیشن کے سربراہ شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے کہا کہ یہ میزبانی انسانیت کی خدمت اور پائیدار ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
شہزادہ بدر بن عبداللہ نے وضاحت کی کہ سعودی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت اتھارٹی SDAIA، یونسکو اور انٹرنیشنل سینٹر فار ریسرچ اینڈ ایتھکس آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس ICAIRE کے درمیان شراکت داری بین الاقوامی تعاون کا ایک نمونہ ہے، جو مختلف ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے اور صلاحیت سازی میں مدد فراہم کرتی ہے۔
ریاض میں ہونے والا یہ فورم فیصلہ سازوں، ماہرین اور محققین کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم مہیا کرے گا تاکہ مصنوعی ذہانت کے بہتر گورننس کے اصولوں کو institutionalize کرنے کے لیے عملی حل تیار کیے جا سکیں۔
وزیر ثقافت نے مزید کہا کہ یہ اقدام سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے تاکہ ایک ڈیجیٹل، ذمہ دارانہ اور جامع مستقبل کی تعمیر میں مدد مل سکے۔ رپورٹ میں فورم کی مخصوص تاریخ یا شرکاء کی تعداد نہیں بتائی گئی۔
سعودی عرب کس عالمی فورم کی میزبانی کرے گا؟ سعودی عرب 2026 میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقیات کے لیے یونسکو کے چوتھے عالمی فورم کی میزبانی کرے گا۔ یہ فورم ریاض میں منعقد ہوگا اور اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔
اس فورم میں کون سے ادارے شامل ہیں؟ اس اقدام میں سعودی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت اتھارٹی SDAIA، یونسکو اور انٹرنیشنل سینٹر فار ریسرچ اینڈ ایتھکس آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس ICAIRE کے درمیان تعاون شامل ہے۔ یہ شراکت داری پالیسیوں کی ترقی اور بین الاقوامی تجربات کے تبادلے میں مدد کرتی ہے۔
اس فورم کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ اس فورم کا مقصد فیصلہ سازوں، ماہرین اور محققین کو اکٹھا کرنا ہے تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کے گورننس کے اصولوں کے لیے عملی حل تلاش کر سکیں۔ یہ اقدام سعودی ویژن 2030 کے مطابق ایک جامع اور ڈیجیٹل مستقبل کی تعمیر میں مدد دے گا۔