عالمی بینک نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے علاقائی اقتصادی رپورٹ میں سعودی عرب کے ڈیٹا گورننس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معاونت کرنے والے قومی ڈھانچے کے تجربے کو نمایاں کیا ہے۔ اکتوبر 2026 میں جاری ہونے والی اس رپورٹ کا عنوان “From Gap to Opportunity: AI, Jobs, and Growth” ہے، اور اس میں مملکت کی ڈیٹا اور اے آئی کے قومی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کو ادارہ جاتی ماڈلز کی ترقی کے لیے ایک معیار قرار دیا گیا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، رپورٹ میں سعودی ڈیٹا اینڈ اے آئی اتھارٹی (SDAIA) کی نمائندگی میں مملکت کی پیش رفت کو سراہا گیا، اور ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی معاونت کے کردار کو اس شعبے میں صلاحیت سازی کو تیز کرنے میں اہم بتایا گیا۔ رپورٹ میں مملکت کی اے آئی ماڈلز اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سرمایہ کاری میں بھی پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔
SDAIA کے تجربے پر الگ کیس اسٹڈی
عالمی بینک نے اس تناظر میں SDAIA کے تجربے پر ایک الگ کیس اسٹڈی مختص کی۔ اس مطالعے میں قومی ڈیٹا ماحولیاتی نظام کی حکمرانی اور نیشنل ڈیٹا مینجمنٹ آفس، نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور نیشنل انفارمیشن سینٹر کے ذریعے اے آئی ٹیکنالوجیز کے استعمال کو تیز کرنے میں اتھارٹی کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ مطالعے میں مملکت کی ڈیجیٹل تبدیلی کی معاونت میں ان اداروں کے ریگولیٹری، ترقیاتی اور تکنیکی کرداروں کو بھی شامل کیا گیا۔
کیا ڈیٹا گورننس کا ایک مربوط قومی فریم ورک کسی بھی ملک کی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے؟ رپورٹ کے مطابق، ادارہ جاتی انضمام اور قومی سطح کی معاونت وہ عوامل ہیں جو اس شعبے میں صلاحیت سازی کو تیز کرتے ہیں، اور سعودی تجربہ اس حوالے سے ایک نمونہ ہے۔
اداروں کا استعمال اور کاروباری اپنانے کی شرح
عالمی بینک نے مملکت کی اے آئی ٹیکنالوجیز اپنانے میں پیش رفت کو بھی نمایاں کیا اور بتایا کہ 2024 میں سعودی کاروباری اداروں میں اپنانے کی شرح تقریباً 28 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2025 میں OECD ممالک کی اوسط 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سب سے زیادہ اپنانے کی شرح ٹیلی کمیونیکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فنانس اور انشورنس سرگرمیوں میں دیکھی گئی۔
رپورٹ میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے ایک مطالعے کے نتائج بھی پیش کیے گئے، جن کے مطابق مملکت میں قائم کمپنیوں میں اے آئی اپنانے کی شرح 100 فیصد رہی۔ کیا یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی کاروباری شعبہ عالمی اوسط سے آگے نکل رہا ہے؟ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مملکت نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے اے آئی انڈیکس میں بھی پیش رفت کی ہے۔
علاقائی رپورٹ کا دائرہ کار
یہ رپورٹ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے کے لیے اقتصادی جائزے کے طور پر اکتوبر 2026 میں جاری کی گئی۔ اس کا عنوان “From Gap to Opportunity: AI, Jobs, and Growth” ہے، جو اے آئی، روزگار اور ترقی کے درمیان تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔ رپورٹ میں سعودی عرب کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کے تجربات بھی شامل ہیں، لیکن SDAIA کے تجربے کو ایک الگ کیس اسٹڈی کی شکل میں پیش کیا گیا۔
کیا خطے کے دیگر ممالک بھی سعودی ماڈل سے سیکھ سکتے ہیں؟ رپورٹ میں ادارہ جاتی ماڈلز کی ترقی کے لیے سعودی تجربے کو ایک معیار قرار دیا گیا ہے، جس میں قومی اداروں کا مربوط کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
قومی ڈیٹا ماحولیاتی نظام کی حکمرانی
SDAIA کے تحت نیشنل ڈیٹا مینجمنٹ آفس قومی ڈیٹا ماحولیاتی نظام کی حکمرانی میں کردار ادا کرتا ہے، جبکہ نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس اے آئی ٹیکنالوجیز کے استعمال کو تیز کرنے پر توجہ دیتا ہے۔ نیشنل انفارمیشن سینٹر بھی اس ماحولیاتی نظام کا حصہ ہے اور تکنیکی و ریگولیٹری معاونت فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ ادارے مل کر مملکت کی ڈیجیٹل تبدیلی کی معاونت کرتے ہیں۔
کیا ایک ہی قومی ادارے کے تحت ڈیٹا اور اے آئی کی حکمرانی زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے؟ عالمی بینک نے سعودی تجربے کو ادارہ جاتی ماڈلز کی ترقی کے لیے ایک بینچ مارک قرار دیا ہے، جس میں قومی معاونت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو نمایاں مقام حاصل ہے۔
ٹیکنالوجی سرمایہ کاری اور کمپیوٹنگ صلاحیتیں
رپورٹ میں مملکت کی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں میں پیش رفت کا بھی ذکر ہے۔ اس میں اے آئی ماڈلز کی ترقی اور قومی ڈھانچے کی تعمیر کو شامل کیا گیا ہے، جو ڈیٹا اور اے آئی کے شعبے میں مملکت کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق، یہ عوامل مملکت کو اس شعبے میں آگے بڑھنے میں مدد دے رہے ہیں۔
کیا ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے بغیر اے آئی کے قومی ماحولیاتی نظام کی تعمیر ممکن ہے؟ رپورٹ میں سرمایہ کاری کو پیش رفت کے ساتھ جوڑا گیا ہے، اور SDAIA کے کردار کو اس عمل میں مرکزی بتایا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کیا شامل ہے
رپورٹ میں مملکت کے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے اے آئی انڈیکس میں بھی پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، عالمی بینک نے سعودی عرب کے تجربے کو ڈیٹا اور اے آئی کی حکمرانی کے ادارہ جاتی ماڈلز کی ترقی کے لیے ایک معیار قرار دیا، اور ادارہ جاتی انضمام اور قومی معاونت کے کردار کو اس شعبے میں صلاحیت سازی کو تیز کرنے میں اہم بتایا۔
کیا بین الاقوامی اداروں کی یہ پذیرائی سعودی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے مزید مواقع کھولے گی؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس پذیرائی کے بعد کوئی نیا تعاون یا منصوبہ شروع ہوگا، اور نہ ہی اس میں کسی مخصوص مالیاتی رقم، شیڈول یا اضافی اہداف کا ذکر ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ کیس اسٹڈی کس زبان میں شائع ہوئی یا اسے کہاں دستیاب کیا گیا۔
عالمی بینک کی رپورٹ کا عنوان اور اجرا کا وقت کیا ہے؟ رپورٹ اکتوبر 2026 میں جاری ہوئی اور اس کا عنوان “From Gap to Opportunity: AI, Jobs, and Growth” ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے علاقائی اقتصادی رپورٹ ہے۔ رپورٹ میں سعودی عرب کے ڈیٹا گورننس اور اے آئی کے قومی ڈھانچے کے تجربے کو نمایاں کیا گیا۔
رپورٹ میں کس سعودی ادارے پر الگ کیس اسٹڈی مختص کی گئی؟ عالمی بینک نے سعودی ڈیٹا اینڈ اے آئی اتھارٹی (SDAIA) کے تجربے پر ایک الگ کیس اسٹڈی مختص کی۔ اس میں نیشنل ڈیٹا مینجمنٹ آفس، نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور نیشنل انفارمیشن سینٹر کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ مطالعے میں اتھارٹی کے ریگولیٹری، ترقیاتی اور تکنیکی کردار شامل ہیں۔
سعودی کاروباری اداروں میں اے آئی اپنانے کی شرح کتنی بتائی گئی؟ رپورٹ کے مطابق 2024 میں سعودی کاروباری اداروں میں اے آئی اپنانے کی شرح تقریباً 28 فیصد رہی، جو 2025 میں OECD ممالک کی اوسط 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ شرح ٹیلی کمیونیکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فنانس اور انشورنس سرگرمیوں میں دیکھی گئی۔
IFC کے مطالعے میں کیا نتیجہ سامنے آیا؟ رپورٹ میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے مطالعے کے نتائج پیش کیے گئے، جن کے مطابق مملکت میں قائم کمپنیوں میں اے آئی اپنانے کی شرح 100 فیصد رہی۔ یہ اعداد و شمار رپورٹ میں شامل کیے گئے۔
رپورٹ میں سعودی عرب کی کون سی پیش رفت اجاگر کی گئی؟ رپورٹ میں اے آئی ماڈلز اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں کی ترقی، ٹیکنالوجی سرمایہ کاری، اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے اے آئی انڈیکس میں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔ SDAIA کے ذریعے قومی ڈیٹا اور اے آئی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کو بھی نمایاں کیا گیا۔