ریاض میں فنانشل اکیڈمی نے سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی (ایس بی اے) کے ساتھ شراکت داری میں ’شاپنگ دی فیوچر آف سعودی فنانشل میڈیا‘ پروگرام کا دوسرا ایڈیشن شروع کیا ہے، جس میں 30 میڈیا پیشہ ور افراد اور مالیاتی شعبے کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔ یہ پروگرام 22 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، پروگرام کا آغاز آج ریاض میں ہوا اور یہ پانچ روز پر محیط ہے۔ پہلے دن کی تربیتی نشستوں میں معاشی بنیادی باتوں اور حکومتی رپورٹس کے مطالعے کا احاطہ کیا گیا۔
انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن میں معاشیات اور فنانس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ بن ربیعان نے معاشی اور مالیاتی خبروں، رپورٹس اور تجزیوں کی تحریر پر ایک نشست کی قیادت بھی کی۔
پروگرام میں کئی مقررین شرکت کریں گے، جن میں ایس بی اے کے ڈائریکٹر جنرل آف کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور آفیشل ترجمان انجینئر ولید الشلہوب اور میڈیا ریٹنگ کمپنی (ایم آر سی) کے سی ای او انجینئر بندر المشہدی شامل ہیں۔ تربیتی نشستیں ڈاکٹر ماجد الغامدی، انجینئر محمد الوہیبی، ڈاکٹر عبداللہ السلوم اور مے بن خضرا بھی دیں گے۔
پانچ روزہ پروگرام مالی اور معاشی معلومات کے تجزیے اور آسان بنانے، اشاروں اور رپورٹس کی تشریح، خصوصی میڈیا مواد کی تیاری، ڈیجیٹل ٹولز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال، اور پیشکش اور آن کیمرہ مہارتوں کی ترقی پر مرکوز ہے۔
کیا مالیاتی خبروں کو عام قاری کے لیے آسان بنانا سعودی میڈیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج نہیں؟ جب حکومتی رپورٹس میں اعداد و شمار کی بھرمار ہو، تو صحافی کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہوتا ہے کہ کون سی بات قاری کے لیے واقعی معنی رکھتی ہے۔
فنانشل اکیڈمی کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی معیشت تیزی سے متنوع ہو رہی ہے اور مالیاتی فیصلے روزمرہ زندگی سے جڑ رہے ہیں۔ ایسے میں کیا میڈیا پیشہ ور افراد کے پاس معاشی رپورٹس کو درست انداز میں پڑھنے کی کافی تربیت موجود ہے؟
پہلے دن کی نشستوں میں معاشی بنیادی باتوں کے ساتھ حکومتی رپورٹس کو سمجھنے کی مہارت سکھائی گئی۔ ڈاکٹر عبداللہ بن ربیعان کی قیادت میں ہونے والی نشست نے شرکاء کو معاشی اور مالیاتی خبروں، رپورٹس اور تجزیوں کی تحریر کے اصولوں سے روشناس کرایا۔
کیا خبر لکھنا اور تجزیہ لکھنا ایک ہی مہارت ہے؟ عام قاری اکثر یہ فرق نہیں کر پاتا، اور یہیں تربیت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ پروگرام کا مقصد شرکاء کو یہ سکھانا ہے کہ معلومات کو کیسے چھانٹا جائے اور کیسے پیش کیا جائے۔
پروگرام میں ایس بی اے کے ڈائریکٹر جنرل آف کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور آفیشل ترجمان انجینئر ولید الشلہوب بھی شامل ہیں۔ ان کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نشریاتی ادارے مالیاتی مواد کی اہمیت کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
میڈیا ریٹنگ کمپنی کے سی ای او انجینئر بندر المشہدی بھی مقررین میں شامل ہیں۔ کیا ریٹنگ کمپنی کا کردار صرف نمبر شمار کرنا ہے، یا یہ بھی بتانا کہ سامعین کس قسم کا مالیاتی مواد دیکھنا چاہتے ہیں؟
تربیتی نشستیں ڈاکٹر ماجد الغامدی، انجینئر محمد الوہیبی، ڈاکٹر عبداللہ السلوم اور مے بن خضرا بھی دیں گے۔ یہ متنوع پس منظر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ شرکاء کو نظریاتی اور عملی دونوں پہلوؤں سے رہنمائی ملے۔
پانچ روزہ پروگرام کے مرکزی موضوعات میں مالی اور معاشی معلومات کا تجزیہ اور انہیں آسان بنانا شامل ہے۔ کیا اعداد و شمار کو آسان بنانا انہیں کم درست بنا دیتا ہے؟ یہ سوال ہر مالیاتی صحافی کے سامنے آتا ہے، اور اس کا جواب تربیت سے ہی نکھرتا ہے۔
اشاروں اور رپورٹس کی تشریح بھی پروگرام کا اہم حصہ ہے۔ معاشی اشارے جیسے افراط زر، ترقی کی شرح یا سرمایہ کاری کے رجحانات عام قاری کے لیے اکثر مبہم ہوتے ہیں۔ صحافی کا کام انہیں سادہ زبان میں بیان کرنا ہے۔
کیا مصنوعی ذہانت صحافی کی جگہ لے سکتی ہے؟ پروگرام میں ڈیجیٹل ٹولز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی توجہ دی جائے گی، جو آج کے میڈیا ماحول کی ایک ناگزیر حقیقت ہے۔
خصوصی میڈیا مواد کی تیاری پر بھی نشستیں ہوں گی۔ مالیاتی خبروں کے لیے عام خبروں سے مختلف انداز درکار ہوتا ہے، کیونکہ قاری کو نہ صرف واقعہ بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی سمجھنے ہوتے ہیں۔
پیشکش اور آن کیمرہ مہارتوں کی ترقی بھی پروگرام کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ کیمرے کے سامنے معاشی موضوعات پر بات کرنا کتنا مشکل ہے؟ بہت سے ماہرین کے پاس معلومات ہوتی ہیں مگر انہیں مؤثر انداز میں پیش کرنا نہیں آتا۔
یہ پروگرام 30 شرکاء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے، جس سے نیٹ ورکنگ کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ایسی تربیت کے بعد شرکاء اپنے اداروں میں واپس جا کر ماحول بدل پائیں گے؟
فنانشل اکیڈمی کا یہ دوسرا ایڈیشن ہے، جس کا مطلب ہے کہ پہلا ایڈیشن کچھ نتائج دے چکا ہے۔ کیا تربیت کے اثرات کی پیمائش کی جاتی ہے، یا صرف شرکت کو کامیابی سمجھا جاتا ہے؟
سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے ساتھ شراکت داری اس پروگرام کو عملی جہت دیتی ہے۔ نشریاتی ادارے کے پاس وہ پلیٹ فارم ہے جہاں تربیت یافتہ صحافیوں کا کام سامعین تک پہنچے گا۔
ریاض میں ہونے والا یہ پروگرام 22 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ پانچ دنوں میں شرکاء کو معاشی بنیادی باتوں سے لے کر آن کیمرہ پیشکش تک کا سفر طے کرنا ہے۔
کیا پانچ دن کافی ہیں کسی صحافی کو مالیاتی تجزیہ نگار بنانے کے لیے؟ شاید نہیں، مگر یہ ایک آغاز ہے، اور آغاز ہی سے راستہ بنتا ہے۔
رپورٹ میں پروگرام کے اخراجات، شرکاء کے انتخاب کے معیار یا تربیت کے بعد کی جانے والی پیروی کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ شرکاء کا تعلق کن اداروں سے ہے۔
فنانشل میڈیا پروگرام کا دوسرا ایڈیشن کب اور کہاں شروع ہوا؟ فنانشل اکیڈمی نے یہ پروگرام 18 اکتوبر 2026 کو ریاض میں شروع کیا، جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا۔ یہ پانچ روزہ پروگرام 22 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس میں 30 میڈیا پیشہ ور افراد اور مالیاتی شعبے کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔ پروگرام سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے ساتھ شراکت داری میں منعقد ہو رہا ہے۔
پروگرام کے پہلے دن کون سی نشستیں ہوئیں؟ پہلے دن کی تربیتی نشستوں میں معاشی بنیادی باتوں اور حکومتی رپورٹس کے مطالعے کا احاطہ کیا گیا۔ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن میں معاشیات اور فنانس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ بن ربیعان نے معاشی اور مالیاتی خبروں، رپورٹس اور تجزیوں کی تحریر پر ایک نشست کی قیادت کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ نشستیں ریاض میں منعقد ہوئیں۔
پروگرام میں کون کون سے مقررین شرکت کریں گے؟ پروگرام میں ایس بی اے کے ڈائریکٹر جنرل آف کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور آفیشل ترجمان انجینئر ولید الشلہوب اور میڈیا ریٹنگ کمپنی کے سی ای او انجینئر بندر المشہدی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر ماجد الغامدی، انجینئر محمد الوہیبی، ڈاکٹر عبداللہ السلوم اور مے بن خضرا بھی تربیتی نشستیں دیں گے۔ یہ تفصیل سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔
پانچ روزہ پروگرام کے مرکزی موضوعات کیا ہیں؟ پروگرام مالی اور معاشی معلومات کے تجزیے اور آسان بنانے، اشاروں اور رپورٹس کی تشریح، خصوصی میڈیا مواد کی تیاری، ڈیجیٹل ٹولز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال، اور پیشکش اور آن کیمرہ مہارتوں کی ترقی پر مرکوز ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ موضوعات شرکاء کو مالیاتی صحافت کے عملی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔
اس پروگرام کا دوسرا ایڈیشن ہونے کا کیا مطلب ہے؟ فنانشل اکیڈمی نے اس پروگرام کا دوسرا ایڈیشن شروع کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ پہلا ایڈیشن پہلے مکمل ہو چکا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے ساتھ شراکت داری میں ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں پہلے ایڈیشن کے نتائج یا شرکاء کی تعداد کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔