مدینہ بس نے ایکسپریس روٹ 300 کا آغاز کر دیا ہے جو حرمانہ ہائی اسپیڈ ریلوے (ایچ ایچ آر) اسٹیشن کو ناردرن سینٹر اسٹیشن سے براہ راست سفر کے ذریعے جوڑتا ہے، جس سے رہائشیوں اور زائرین کے لیے مسجد نبوی تک رسائی آسان ہو گی۔ یہ روٹ یکم اکتوبر 2026 کو مدینہ بس نیٹ ورک کے تحت شروع کیا گیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، مدینہ بس کو المدینہ ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی چلاتی ہے۔ نیا روٹ مدینہ بس نیٹ ورک کا حصہ ہے اور یہ ایچ ایچ آر اسٹیشن اور مسجد نبوی کے گرد و نواح کے درمیان براہ راست نقل و حمل کا متبادل فراہم کرتا ہے۔
ایکسپریس روٹ 300 کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دونوں مقامات کے درمیان براہ راست سفر کرتا ہے، یعنی مسافروں کو درمیانی تبدیلیوں کی ضرورت نہیں۔ کیا یہ براہ راست رابطہ ان زائرین کے لیے سب سے بڑی سہولت نہیں جو تیز رفتار ریل سے مدینہ پہنچتے ہیں اور پھر مسجد نبوی کی طرف روانہ ہونا چاہتے ہیں؟
حرمانہ ہائی اسپیڈ ریلوے اسٹیشن مدینہ میں ایک اہم آمد و رفت کا مرکز ہے، جہاں ملکی اور بین الاقوامی مسافر ٹرینوں کے ذریعے پہنچتے ہیں۔ اس اسٹیشن سے مسجد نبوی کے علاقے تک پہنچنے کے لیے عوامی نقل و حمل کا موزوں انتظام مسافروں کی ضرورت رہی ہے۔ ناردرن سینٹر اسٹیشن مسجد نبوی کے قریب واقع ہے، جس کی وجہ سے یہ روٹ زائرین کو سہولت پہنچاتا ہے۔
کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب ایک زائر ٹرین سے اترتا ہے اور سیدھا بس میں بیٹھ کر مسجد نبوی کے قریب پہنچ جاتا ہے تو اس کے سفر میں کتنی آسانی آ جاتی ہے؟ مدینہ بس نیٹ ورک کا مقصد شہر کے اندر نقل و حرکت کو بہتر بنانا اور عوامی نقل و حمل کے نظام کو مزید مربوط کرنا ہے۔ ایکسپریس روٹ 300 اسی مقصد کے تحت متعارف کرایا گیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق، یہ روٹ مدینہ بس نیٹ ورک کا حصہ ہے اور اس کا بنیادی فائدہ ایچ ایچ آر اسٹیشن اور مسجد نبوی کے گرد و نواح کے درمیان براہ راست نقل و حمل کا متبادل ہے۔ اس سے رہائشیوں اور زائرین دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔ کیا عوامی نقل و حمل کا ایسا مربوط نظام شہر میں رش کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟
المدینہ ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی مدینہ بس کو چلاتی ہے، اور یہ نیٹ ورک شہر کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ایکسپریس روٹ 300 اس نیٹ ورک میں ایک اضافہ ہے جو خاص طور پر حرمانہ ریلوے اسٹیشن اور مسجد نبوی کے درمیان سفر کو آسان بناتا ہے۔
مدینہ منورہ میں ہر سال بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں، اور ان کی آمد و رفت کا انتظام شہر کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہے۔ حرمانہ ہائی اسپیڈ ریلوے اسٹیشن تک پہنچنے کے بعد مسجد نبوی تک جانے کا براہ راست ذریعہ زائرین کے لیے وقت اور محنت دونوں کی بچت کرتا ہے۔ کیا یہی وجہ نہیں کہ ایسے روٹس کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، نئے روٹ کا مقصد نقل و حرکت کو بہتر بنانا اور مدینہ کے عوامی نقل و حمل کے نظام کو مزید مربوط کرنا ہے۔ یہ روٹ براہ راست سفر فراہم کرتا ہے، جس سے مسافروں کو کسی قسم کی تبدیلی یا طویل انتظار کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ مدینہ بس نیٹ ورک کا دائرہ کار کتنا وسیع ہے؟ یہ نیٹ ورک المدینہ ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام چلتا ہے اور شہر کے مختلف مقامات کو آپس میں جوڑتا ہے۔ ایکسپریس روٹ 300 اس نیٹ ورک کا ایک اہم ستون ہے جو خاص طور پر ریلوے اسٹیشن اور مسجد نبوی کے درمیان رابطہ قائم کرتا ہے۔
مسجد نبوی کے گرد و نواح میں آنے جانے والوں کے لیے یہ روٹ ایک سہولت ہے، کیونکہ ناردرن سینٹر اسٹیشن اس علاقے کے قریب واقع ہے۔ اس سے زائرین کو مسجد نبوی تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے اور شہر کے اندر نقل و حرکت بہتر ہوتی ہے۔
ایس پی اے نے اپنی رپورٹ میں یہ واضح کیا کہ نیا روٹ مدینہ بس نیٹ ورک کا حصہ ہے اور یہ ایچ ایچ آر اسٹیشن اور مسجد نبوی کے گرد و نواح کے درمیان براہ راست نقل و حمل کا متبادل فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس اقدام سے رہائشیوں اور زائرین کی مسجد نبوی تک رسائی آسان ہو گی۔
کیا عوامی نقل و حمل کے ایسے منصوبے شہروں کے اندر سفر کے تجربے کو بدل سکتے ہیں؟ مدینہ بس کا ایکسپریس روٹ 300 اسی سمت میں ایک قدم ہے، جو براہ راست سفر کے ذریعے مسافروں کو سہولت دیتا ہے اور شہر کے نقل و حمل کے نظام کو مزید مربوط بناتا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ روٹ 300 پر کتنی بسیں چلیں گی، سفر کا دورانیہ کتنا ہو گا، کرایہ کیا ہو گا، یا بسوں کے اوقات کار کیا ہوں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس روٹ پر روزانہ کتنے مسافر سفر کریں گے یا اس کے آغاز سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی ذکر نہیں کیا گیا کہ ناردرن سینٹر اسٹیشن سے مسجد نبوی تک کا فاصلہ کتنا ہے یا روٹ 300 کے ساتھ مدینہ بس نیٹ ورک کے دیگر روٹس کیسے جڑیں گے۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ اس روٹ کے لیے کوئی نیا بیڑا شامل کیا گیا ہے یا موجودہ بسوں کو استعمال کیا جائے گا۔
ایس پی اے کے مطابق، یہ روٹ یکم اکتوبر 2026 کو شروع کیا گیا، اور اس کا اعلان مدینہ سے کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس منصوبے پر کتنی لاگت آئی یا اس کی تکمیل میں کتنا وقت لگا۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسے روٹس کے بارے میں مکمل معلومات عوام تک پہنچنی چاہئیں تاکہ وہ بہتر منصوبہ بندی کر سکیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں بنیادی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جن میں روٹ کا آغاز، اس کا مقصد اور اس سے ہونے والے فوائد شامل ہیں۔
مدینہ بس نیٹ ورک کا مقصد شہر کے اندر عوامی نقل و حمل کو بہتر بنانا ہے، اور ایکسپریس روٹ 300 اس مقصد کے تحت ایک براہ راست رابطہ فراہم کرتا ہے۔ یہ روٹ ایچ ایچ آر اسٹیشن اور ناردرن سینٹر اسٹیشن کے درمیان سفر کرتا ہے، جس سے مسجد نبوی تک رسائی آسان ہوتی ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اس روٹ سے رہائشیوں اور زائرین دونوں کو فائدہ پہنچے گا، کیونکہ یہ انہیں مسجد نبوی تک پہنچنے کے لیے ایک براہ راست ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ یہ اقدام مدینہ کے عوامی نقل و حمل کے نظام کو مزید مربوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک بس روٹ کسی شہر کے نقل و حمل کے نظام کو کس حد تک بدل سکتا ہے؟ ایکسپریس روٹ 300 کا آغاز اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ براہ راست رابطے مسافروں کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔
ایس پی اے نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ روٹ 300 کا آغاز کس طرح کیا گیا، اس کی تیاری میں کون کون شامل تھا، یا اس کے لیے کیا انتظامات کیے گئے۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ یہ روٹ شروع کر دیا گیا ہے اور یہ مدینہ بس نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
مدینہ بس نیٹ ورک المدینہ ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام ہے، اور یہ شہر کے اندر نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔ ایکسپریس روٹ 300 اس نیٹ ورک کا ایک حصہ ہے جو خاص طور پر حرمانہ ریلوے اسٹیشن اور مسجد نبوی کے درمیان براہ راست سفر فراہم کرتا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اس روٹ کا مقصد نقل و حرکت کو بہتر بنانا اور مدینہ کے عوامی نقل و حمل کے نظام کو مزید مربوط کرنا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ روٹ رہائشیوں اور زائرین کی مسجد نبوی تک رسائی میں مدد کرتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں زائرین کی آمد و رفت کے لیے کتنے ذرائع موجود ہیں؟ ایکسپریس روٹ 300 ان ذرائع میں ایک اضافہ ہے، جو حرمانہ ہائی اسپیڈ ریلوے اسٹیشن سے آنے والوں کو مسجد نبوی کے قریب پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ روٹ 300 پر سفر کے دوران کون سی سہولیات فراہم کی جائیں گی، بسوں کی قسم کیا ہو گی، یا مسافروں کے لیے کوئی خاص انتظامات کیے گئے ہیں یا نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس روٹ کے بارے میں معلومات کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، یہ روٹ یکم اکتوبر 2026 کو شروع کیا گیا اور اس کا اعلان مدینہ سے کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس روٹ کے آغاز سے پہلے کون سے مراحل طے کیے گئے یا اس پر کتنا وقت لگا۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عوامی نقل و حمل کے منصوبوں کی کامیابی کا انحصار مسافروں کی سہولت پر ہوتا ہے؟ ایکسپریس روٹ 300 کا مقصد مسافروں کو براہ راست سفر فراہم کرنا ہے، جس سے ان کی مسجد نبوی تک رسائی آسان ہوتی ہے۔
مدینہ بس نیٹ ورک کا دائرہ کار شہر کے مختلف حصوں تک پھیلا ہوا ہے، اور ایکسپریس روٹ 300 اس نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ روٹ ایچ ایچ آر اسٹیشن اور ناردرن سینٹر اسٹیشن کے درمیان براہ راست سفر کرتا ہے، جس سے مسافروں کو درمیانی تبدیلیوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اس روٹ سے رہائشیوں اور زائرین دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ روٹ مدینہ کے عوامی نقل و حمل کے نظام کو مزید مربوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ایک براہ راست بس روٹ کسی شہر کے نقل و حمل کے نظام میں کیا فرق لا سکتا ہے؟ ایکسپریس روٹ 300 کا آغاز اسی سوال کا جواب ہے، جو مسافروں کو براہ راست سفر کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ روٹ 300 کے آغاز کے بعد مدینہ بس نیٹ ورک میں مزید کون سے روٹس شامل کیے جائیں گے یا اس نیٹ ورک کو کس طرح وسعت دی جائے گی۔ رپورٹ میں صرف موجودہ روٹ کے آغاز اور اس کے مقصد کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق، مدینہ بس کو المدینہ ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی چلاتی ہے، اور ایکسپریس روٹ 300 اس نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ یہ روٹ حرمانہ ہائی اسپیڈ ریلوے اسٹیشن کو ناردرن سینٹر اسٹیشن سے جوڑتا ہے اور مسجد نبوی تک رسائی آسان بناتا ہے۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسے روٹس زائرین کے تجربے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، یہ روٹ رہائشیوں اور زائرین کی مسجد نبوی تک رسائی میں مدد کرتا ہے اور شہر کے نقل و حمل کے نظام کو مزید مربوط بناتا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ روٹ 300 پر کتنے عملے کی تعیناتی کی گئی ہے، بسوں کی دیکھ بھال کا انتظام کیا ہے، یا مسافروں کی شکایات کے ازالے کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس روٹ کے بارے میں عوام کو کس طرح آگاہ کیا جائے گا۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، یہ روٹ یکم اکتوبر 2026 کو شروع کیا گیا اور اس کا اعلان مدینہ سے کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس روٹ کے آغاز سے پہلے کوئی آزمائشی سفر کیا گیا یا نہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ مدینہ بس نیٹ ورک کا مقصد شہر کے اندر نقل و حرکت کو بہتر بنانا ہے؟ ایکسپریس روٹ 300 اس مقصد کے تحت ایک براہ راست رابطہ فراہم کرتا ہے جو ایچ ایچ آر اسٹیشن اور مسجد نبوی کے گرد و نواح کے درمیان سفر کو آسان بناتا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اس روٹ سے رہائشیوں اور زائرین دونوں کو فائدہ پہنچے گا، کیونکہ یہ انہیں مسجد نبوی تک پہنچنے کے لیے ایک براہ راست ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ یہ اقدام مدینہ کے عوامی نقل و حمل کے نظام کو مزید مربوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ روٹ 300 کے آغاز کے بعد مسافروں کی تعداد میں کتنا اضافہ متوقع ہے، یا اس روٹ کے سفر کا دورانیہ کتنا ہو گا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس روٹ پر کس قسم کی بسیں استعمال کی جائیں گی۔
ایس پی اے کے مطابق، مدینہ بس نیٹ ورک المدینہ ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام چلتا ہے، اور ایکسپریس روٹ 300 اس نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ یہ روٹ حرمانہ ہائی اسپیڈ ریلوے اسٹیشن کو ناردرن سینٹر اسٹیشن سے جوڑتا ہے اور مسجد نبوی تک رسائی آسان بناتا ہے۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عوامی نقل و حمل کے منصوبے شہر کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، ایکسپریس روٹ 300 کا مقصد نقل و حرکت کو بہتر بنانا اور مدینہ کے عوامی نقل و حمل کے نظام کو مزید مربوط کرنا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ روٹ 300 کے لیے کوئی مخصوص ٹکٹنگ نظام متعارف کرایا گیا ہے یا نہیں، یا مسافروں کے لیے کوئی رعایتی پیکج موجود ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس روٹ کے بارے میں مزید معلومات کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، یہ روٹ یکم اکتوبر 2026 کو شروع کیا گیا اور اس کا اعلان مدینہ سے کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس روٹ کے آغاز سے پہلے کون سے مراحل طے کیے گئے یا اس پر کتنا وقت لگا۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک بس روٹ کسی شہر کے نقل و حمل کے نظام کو کس حد تک بدل سکتا ہے؟ ایکسپریس روٹ 300 کا آغاز اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ براہ راست رابطے مسافروں کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ روٹ 300 کے آغاز کے بعد مدینہ بس نیٹ ورک میں مزید کون سے روٹس شامل کیے جائیں گے یا اس نیٹ ورک کو کس طرح وسعت دی جائے گی۔ رپورٹ میں صرف موجودہ روٹ کے آغاز اور اس کے مقصد کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق، مدینہ بس کو المدینہ ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی چلاتی ہے، اور ایکسپریس روٹ 300 اس نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ یہ روٹ حرمانہ ہائی اسپیڈ ریلوے اسٹیشن کو ناردرن سینٹر اسٹیشن سے جوڑتا ہے اور مسجد نبوی تک رسائی آسان بناتا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ روٹ 300 پر کتنے عملے کی تعیناتی کی گئی ہے، بسوں کی دیکھ بھال کا انتظام کیا ہے، یا مسافروں کی شکایات کے ازالے کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس روٹ کے بارے میں عوام کو کس طرح آگاہ کیا جائے گا۔
ایکسپریس روٹ 300 کیا ہے اور یہ کس نے شروع کیا؟ ایکسپریس روٹ 300 مدینہ بس نیٹ ورک کا ایک نیا روٹ ہے جو حرمانہ ہائی اسپیڈ ریلوے اسٹیشن کو ناردرن سینٹر اسٹیشن سے براہ راست سفر کے ذریعے جوڑتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق، یہ روٹ یکم اکتوبر 2026 کو شروع کیا گیا۔ مدینہ بس کو المدینہ ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی چلاتی ہے۔ رپورٹ میں روٹ کی تفصیلات جیسے بسوں کی تعداد یا اوقات کار نہیں بتائے گئے۔
یہ روٹ کس طرح مسجد نبوی تک رسائی آسان بناتا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق، روٹ 300 ایچ ایچ آر اسٹیشن اور مسجد نبوی کے گرد و نواح کے درمیان براہ راست نقل و حمل کا متبادل فراہم کرتا ہے۔ ناردرن سینٹر اسٹیشن مسجد نبوی کے قریب واقع ہے، اس لیے یہ روٹ زائرین کو براہ راست سفر کی سہولت دیتا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سفر کا دورانیہ کتنا ہے یا کرایہ کیا ہو گا۔
اس روٹ سے کس کو فائدہ پہنچے گا؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اس روٹ سے رہائشیوں اور زائرین دونوں کو فائدہ پہنچے گا، کیونکہ یہ انہیں مسجد نبوی تک پہنچنے کے لیے براہ راست ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ روٹ مدینہ کے عوامی نقل و حمل کے نظام کو مزید مربوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔ رپورٹ میں مسافروں کی متوقع تعداد نہیں بتائی گئی۔
مدینہ بس نیٹ ورک کیا ہے اور اسے کون چلاتا ہے؟ مدینہ بس نیٹ ورک ایک عوامی نقل و حمل کا نظام ہے جسے المدینہ ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی چلاتی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق، ایکسپریس روٹ 300 اس نیٹ ورک کا حصہ ہے اور یہ شہر کے اندر نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔ رپورٹ میں نیٹ ورک کے دیگر روٹس کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
کیا رپورٹ میں روٹ 300 کے اوقات یا کرایہ کا ذکر ہے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں روٹ 300 کے اوقات کار، کرایہ، سفر کے دورانیے یا بسوں کی تعداد کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ یہ روٹ یکم اکتوبر 2026 کو شروع کیا گیا اور یہ ایچ ایچ آر اسٹیشن کو ناردرن سینٹر اسٹیشن سے جوڑتا ہے۔ رپورٹ میں اس روٹ کی لاگت کا بھی ذکر نہیں ہے۔
اس روٹ کے آغاز کا اعلان کب اور کہاں سے کیا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق، یہ روٹ یکم اکتوبر 2026 کو شروع کیا گیا اور اس کا اعلان مدینہ سے کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس روٹ کے آغاز سے پہلے کوئی آزمائشی سفر کیا گیا یا نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس منصوبے پر کتنی لاگت آئی۔





