مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے زائرین کے لیے قائم گیسٹ کیئر سینٹرز چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کر رہے ہیں، جن میں رہنمائی، سامان کی حفاظت اور گمشدہ اشیاء کی تلاش شامل ہے۔ یہ مراکز زائرین کو مسجد الحرام کے اندر مختلف مقامات اور خدمات تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، جنرل اتھارٹی فار دی کیئر آف دی افیئرز آف دی گرینڈ مسجد اینڈ دی پروفیٹس مسجد اپنے گیسٹ کیئر سینٹرز کے ذریعے مسجد الحرام کے زائرین کو موقع پر خدمات فراہم کر رہی ہے تاکہ ان کا تجربہ آسان اور آرام دہ رہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ مراکز جامع خدمات پیش کرتے ہیں، جن میں رہنمائی، سامان کی حفاظت اور گمشدہ اشیاء کی مدد شامل ہے۔ مراکز میں بزرگ افراد اور معذور افراد کے لیے خصوصی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے، جبکہ بچوں، خواتین اور گمشدہ افراد کی دیکھ بھال کے لیے الگ توجہ دی جاتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اتنے بڑے اجتماع میں کوئی بزرگ زائر راستہ بھول جائے تو اسے کون سہارا دیتا ہے؟ یہی وہ خلا ہے جسے یہ مراکز بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بزرگ افراد اور معذور افراد کے لیے خصوصی معاونت کا مطلب یہ ہے کہ ہر زائر اپنی عبادت پر توجہ دے سکے، بجائے اس کے کہ وہ راستے یا سہولیات کی تلاش میں الجھا رہے۔
اسی طرح بچوں کی دیکھ بھال اور خواتین کے لیے مخصوص توجہ بھی ان خدمات کا حصہ ہے۔ کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ خاندان کے ساتھ آنے والے زائرین کے لیے یہ سہولت کتنی اہم ہو سکتی ہے؟ جب ایک ماں اپنے بچے کے ساتھ مسجد الحرام میں ہو، تو ایسا مرکز اس کے لیے سہارا بنتا ہے۔ اسی طرح گمشدہ افراد کی دیکھ بھال بھی ان مراکز کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، تاکہ کسی زائر کو تنہا یا بے یار و مددگار محسوس نہ ہونا پڑے۔
ایس پی اے نے بتایا کہ مراکز زائرین کو ایک انٹرایکٹو نقشے تک رسائی بھی فراہم کرتے ہیں، جسے کیو آر کوڈ کے ذریعے کھولا جا سکتا ہے۔ اس نقشے کی مدد سے زائرین مسجد الحرام کے اندر مختلف مقامات اور خدمات کو آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔ کیا یہ نہیں سوچا جا سکتا کہ ایک سادہ کیو آر کوڈ کتنی بڑی الجھن دور کر سکتا ہے؟ جب انسان پہلی بار اتنی بڑی مسجد میں آئے، تو راستہ تلاش کرنا آسان نہیں ہوتا۔ انٹرایکٹو نقشہ اس مشکل کو کم کرتا ہے اور زائر کو اپنی منزل تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ خدمات اس اتھارٹی کی کوششوں کا حصہ ہیں کہ فراہم کردہ خدمات کا معیار بلند کیا جائے، تاکہ زائرین اپنے مناسک اور عبادات آسانی اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سکون کا تعلق صرف جگہ کی وسعت سے ہے یا ان سہولیات سے بھی جنہیں زائر کے گرد و نواح میں فراہم کیا جاتا ہے؟ جب رہنمائی، سامان کی حفاظت اور گمشدہ اشیاء کی مدد جیسی بنیادی سہولیات دستیاب ہوں، تو زائر کا ذہن عبادت پر مرکوز ہو سکتا ہے۔
رہنمائی کی خدمت کا مطلب یہ ہے کہ زائر کو معلوم ہو کہ کہاں جانا ہے اور کیا کرنا ہے۔ سامان کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنا سامان محفوظ رکھ کر فارغ ہو کر عبادت کر سکے۔ گمشدہ اشیاء کی مدد کا مطلب یہ ہے کہ کھوئی ہوئی چیز کی تلاش میں کوئی راستہ موجود ہو۔ کیا یہ تینوں سہولیات الگ الگ نظر آتی ہیں یا ایک ہی مقصد کی طرف لے جاتی ہیں؟ یہ سب ایک ہی مقصد کی طرف لے جاتی ہیں: زائر کا تجربہ آسان اور آرام دہ بنانا۔
مسجد الحرام میں زائرین کی تعداد ہر وقت بڑی رہتی ہے، اور ایسے میں موقع پر خدمات فراہم کرنا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ مراکز زائرین کو موقع پر خدمات فراہم کرتے ہیں، یعنی زائر کو مدد کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیا یہ نہیں سوچا جا سکتا کہ مدد کا قریب ہونا ہی سب سے بڑا سہارا ہے؟ جب انسان مشکل میں ہو، تو قریب موجود مدد اس کے لیے سب سے قیمتی چیز بنتی ہے۔
ایس پی اے نے یہ نہیں بتایا کہ یہ مراکز مسجد الحرام میں کہاں کہاں واقع ہیں، ان کی تعداد کتنی ہے، یا ان میں کتنے عملے کی تعیناتی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ خدمات کب سے فراہم کی جا رہی ہیں یا ان کا دورانیہ کیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ انٹرایکٹو نقشے میں کون کون سی خدمات اور مقامات شامل ہیں۔ یہ تفصیلات رپورٹ کا حصہ نہیں ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق یہ خدمات اتھارٹی کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد خدمات کا معیار بلند کرنا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس معیار کو کس پیمانے پر ماپا جاتا ہے یا اس کے لیے کوئی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کیا معیار کا سوال صرف اعداد و شمار سے جڑا ہے یا زائر کے تجربے سے بھی؟ یہ سوال رپورٹ میں اٹھایا نہیں گیا۔
بزرگ افراد اور معذور افراد کے لیے خصوصی معاونت کا ذکر رپورٹ میں آیا ہے، مگر اس معاونت کی نوعیت کے بارے میں تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح بچوں، خواتین اور گمشدہ افراد کی دیکھ بھال کا ذکر ہے، لیکن اس دیکھ بھال کے طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی گئی۔ کیا یہ دیکھ بھال رضاکاروں کے ذریعے ہوتی ہے یا مستقل عملے کے ذریعے؟ رپورٹ اس کا جواب نہیں دیتی۔
گمشدہ اشیاء کی مدد کے حوالے سے بھی رپورٹ مختصر ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ گمشدہ اشیاء کو کہاں جمع کیا جاتا ہے یا انہیں واپس لینے کا طریقہ کار کیا ہے۔ کیا زائر کو کسی خاص جگہ جانا پڑتا ہے یا مرکز خود رابطہ کرتا ہے؟ یہ تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
انٹرایکٹو نقشے کے بارے میں رپورٹ صرف یہ بتاتی ہے کہ اسے کیو آر کوڈ کے ذریعے کھولا جا سکتا ہے اور اس سے مختلف مقامات اور خدمات تلاش کی جا سکتی ہیں۔ نقشے کی زبانوں، اس کی تازہ کاری یا اس کے استعمال کے طریقے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ کیا یہ نقشہ ہر زائر کے لیے آسان ہے یا صرف ان کے لیے جو ٹیکنالوجی سے واقف ہوں؟ یہ سوال بھی کھلا رہ جاتا ہے۔
رپورٹ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ مسجد الحرام کے زائرین کو موقع پر جامع خدمات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے مناسک آسانی اور سکون سے ادا کر سکیں۔ یہ خدمات رہنمائی، سامان کی حفاظت، گمشدہ اشیاء کی مدد، بزرگ اور معذور افراد کے لیے خصوصی معاونت، بچوں، خواتین اور گمشدہ افراد کی دیکھ بھال، اور انٹرایکٹو نقشے تک رسائی پر مشتمل ہیں۔
ایس پی اے نے یہ نہیں بتایا کہ ان مراکز تک زائرین کیسے پہنچتے ہیں، ان کی نشاندہی کیسے ہوتی ہے، یا ان سے رابطہ کرنے کا کوئی مخصوص ذریعہ ہے یا نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان خدمات کا زائرین کی طرف سے کیا ردعمل رہا ہے یا ان کے استعمال کا کوئی تخمینہ موجود ہے۔ یہ سب رپورٹ سے غائب ہے۔
اس رپورٹ کی اہمیت یہ ہے کہ یہ مسجد الحرام میں زائرین کی سہولت کے لیے جاری کوششوں کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کوششیں اتھارٹی کی طرف سے کی جا رہی ہیں اور ان کا مقصد زائرین کو آسانی اور سکون فراہم کرنا ہے۔ باقی تفصیلات، جیسے مراکز کی تعداد، عملے کی تعداد، یا خدمات کے اوقات، رپورٹ میں موجود نہیں ہیں۔
مسجد الحرام کے گیسٹ کیئر سینٹرز کون سی خدمات فراہم کرتے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق یہ مراکز رہنمائی، سامان کی حفاظت اور گمشدہ اشیاء کی مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ بزرگ افراد اور معذور افراد کے لیے خصوصی معاونت بھی دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں بچوں، خواتین اور گمشدہ افراد کی دیکھ بھال کا بھی ذکر ہے۔ یہ خدمات موقع پر فراہم کی جاتی ہیں تاکہ زائرین کا تجربہ آسان اور آرام دہ رہے۔ رپورٹ میں ہر خدمت کی تفصیل یا عملے کی تعداد نہیں بتائی گئی۔
انٹرایکٹو نقشہ کیسے استعمال ہوتا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق مراکز زائرین کو ایک انٹرایکٹو نقشے تک رسائی فراہم کرتے ہیں، جسے کیو آر کوڈ کے ذریعے کھولا جا سکتا ہے۔ اس نقشے کی مدد سے زائرین مسجد الحرام کے اندر مختلف مقامات اور خدمات آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نقشہ کتنی زبانوں میں دستیاب ہے یا اس میں کون کون سی خدمات شامل ہیں۔ نقشے کی تازہ کاری کے بارے میں بھی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔
یہ خدمات کس مقصد کے تحت فراہم کی جا رہی ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق یہ خدمات جنرل اتھارٹی فار دی کیئر آف دی افیئرز آف دی گرینڈ مسجد اینڈ دی پروفیٹس مسجد کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد فراہم کردہ خدمات کا معیار بلند کرنا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ زائرین اپنے مناسک اور عبادات آسانی اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ معیار کو کس پیمانے پر ماپا جاتا ہے یا کوئی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
کیا بزرگ اور معذور افراد کے لیے کوئی خاص انتظام ہے؟ جی ہاں، ایس پی اے کے مطابق مراکز بزرگ افراد اور معذور افراد کے لیے خصوصی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں، خواتین اور گمشدہ افراد کی دیکھ بھال کے لیے بھی الگ توجہ دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں اس معاونت کی نوعیت یا طریقہ کار کی تفصیل نہیں دی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ یہ خدمات رضاکاروں کے ذریعے ہوتی ہیں یا مستقل عملے کے ذریعے۔
کیا رپورٹ میں مراکز کی تعداد یا مقام بتایا گیا ہے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مسجد الحرام میں یہ گیسٹ کیئر سینٹرز کہاں کہاں واقع ہیں یا ان کی تعداد کتنی ہے۔ رپورٹ میں عملے کی تعداد، خدمات کے اوقات یا ان کے دورانیے کا بھی ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ زائرین ان مراکز تک کیسے پہنچتے ہیں یا ان کی نشاندہی کیسے ہوتی ہے۔ یہ تفصیلات رپورٹ کا حصہ نہیں ہیں۔