Tuesday, October 27, 2026
سعودی خبریں

مکہ ریجن میں سبزے کے پھیلاؤ کے لیے 145 متروک فارمز کی بحالی

مکہ ریجن میں سبزے کے پھیلاؤ کے لیے 145 متروک فارمز کی بحالی

مکہ ریجن میں وزارتِ ماحول، پانی اور زراعت کی شاخ نے سال 2026 کے دوران تقریباً 14,300 ہیکٹیر رقبے پر پھیلے ہوئے 145 متروک فارمز کی بحالی کا کام مکمل کیا ہے، جس کے تحت زرعی زمینوں کو دوبارہ فعال کرنے اور پائیداری کو فروغ دینے کے لیے 29,000 سے زائد درخت لگائے گئے اور ان کی دیکھ بھال کی گئی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس اقدام کا بنیادی مقصد غیر استعمال شدہ زمینوں کو دوبارہ فعال پیداوار میں لانا ہے۔ کیا یہ کوششیں مقامی زراعت کے مستقبل کو بدل سکتی ہیں؟ وزارت نے واضح کیا کہ یہ اقدام سعودی گرین انیشیٹو اور سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے عین مطابق ہے تاکہ ماحول دوست ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزارت کے مطابق، اس منصوبے کے ذریعے زمین کی تنزلی (land degradation) کو روکنے کے ساتھ ساتھ پانی کے استعمال اور کاشتکاری کے طریقوں میں بہتری لائی گئی ہے۔ کیا جدید کاشتکاری کے طریقے پانی کی بچت میں مددگار ثابت ہوں گے؟ ان اقدامات سے ان پلاٹوں کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے جو طویل عرصے سے غیر استعمال شدہ تھے، تاکہ انہیں دوبارہ پیداواری صلاحیت سے ہمکنار کیا جا سکے۔

کیا سبزے کے اس پھیلاؤ سے مقامی آب و ہوا پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے؟ وزارتِ ماحول، پانی اور زراعت کا یہ منصوبہ نہ صرف زمین کی زرخیزی کو بحال کرتا ہے بلکہ پائیدار زراعت کے نمونے بھی پیش کرتا ہے۔ کیا اس طرح کی بحالی سے دیگر ریجنز میں بھی زراعت کو فروغ ملے گا؟

اس منصوبے کے تحت لگائے گئے 29,000 درختوں کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ وہ طویل مدت تک ماحول کو فائدہ پہنچا سکیں۔ کیا یہ درخت شہری علاقوں کے گرد درجہ حرارت کم کرنے میں معاون ہوں گے؟ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ زمین کی بحالی سے نہ صرف ماحول بہتر ہوتا ہے بلکہ یہ معاشی طور پر بھی فائدہ مند ہے۔ کیا مستقبل میں مزید متروک زمینوں کو اس فہرست میں شامل کیا جائے گا؟

رپورٹ میں ان فارمز کی مخصوص لوکیشنز، استعمال ہونے والی درختوں کی اقسام یا اس منصوبے پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

مکہ ریجن میں کتنے فارمز کی بحالی کی گئی؟ وزارتِ ماحول، پانی اور زراعت کی مکہ ریجن شاخ نے سال 2026 کے دوران 145 متروک فارمز کی بحالی کی ہے، جن کا کل رقبہ تقریباً 14,300 ہیکٹیر ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اس عمل میں 29,000 سے زائد درخت لگائے گئے۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ اس اقدام کا مقصد زمین کی تنزلی کو روکنا، پانی اور کاشتکاری کے طریقوں کو بہتر بنانا اور غیر استعمال شدہ پلاٹوں کو دوبارہ فعال پیداوار میں لانا ہے۔ یہ منصوبہ سعودی گرین انیشیٹو اور سعودی ویژن 2030 کے مطابق ہے۔

شجرکاری کے حوالے سے کیا تفصیلات فراہم کی گئی ہیں؟ منصوبے کے تحت زرعی زمینوں کو فعال کرنے اور پائیداری بڑھانے کے لیے 29,000 سے زائد درخت لگائے گئے اور ان کی دیکھ بھال کی گئی۔ یہ کام 14,300 ہیکٹیر رقبے پر پھیلے 145 فارمز میں کیا گیا ہے۔