ریاض میں 3 سے 8 اکتوبر 2026 تک پودوں کی صحت کے دو اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوں گے، جن کی میزبانی نیشنل سینٹر فار دی پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پلانٹس پیسٹس اینڈ اینیمل ڈیزیز (ویقاء) نیئر ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن (نیپو) کے تعاون سے کرے گا۔ ان اجلاسوں میں اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور بین الاقوامی ماہرین شرکت کریں گے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 2 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ سلسلہ نیپو کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے شروع ہوگا جو 3 اور 4 اکتوبر کو ہوگا۔ اس اجلاس کی صدارت ویقاء کے پلانٹ ہیلتھ سیکٹر کے سربراہ ڈاکٹر محمد الخریجی کریں گے۔ اجلاس کا مقصد علاقائی بائیو سیکیورٹی آپریشنز کا جائزہ لینا اور 2025 سے 2035 تک کے اسٹریٹجک روڈ میپ پر عمل درآمد کو آگے بڑھانا ہے۔
اس کے بعد 5 سے 8 اکتوبر تک ریاض میں علاقائی پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشنز کے درمیان 38ویں تکنیکی مشاورت کا انعقاد ہوگا۔ اس مشاورت میں عالمی پلانٹ پروٹیکشن ادارے اور انٹرنیشنل پلانٹ پروٹیکشن کنونشن شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد فائٹو سینیٹری معیارات کو ہم آہنگ بنانا اور سرحدوں کے پار پھیلنے والے پودوں کے کیڑوں کے خلاف رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پودوں کی صحت کے یہ اجلاس کس طرح خطے کی خوراک کی حفاظت سے جڑے ہوئے ہیں؟ جب پودوں کے کیڑے ایک ملک سے دوسرے ملک میں پھیلتے ہیں تو اس کا اثر فصلوں، باغات اور برآمدات پر پڑتا ہے۔ اسی لیے علاقائی اور عالمی سطح پر ایک مشترکہ نظام کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے جو سرحدوں کے پار پھیلنے والے خطرات کا مقابلہ کر سکے۔
ویقاء کا پلانٹ ہیلتھ سیکٹر اس اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، اور ڈاکٹر محمد الخریجی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ یہ کمیٹی نیپو کے رکن ممالک کے درمیان بائیو سیکیورٹی کے کاموں کا جائزہ لے گی۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ بائیو سیکیورٹی صرف سرکاری اداروں کا کام ہے؟ درحقیقت پودوں کی صحت کا تحفظ کسانوں، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور عام صارفین سب سے جڑا ہوا ہے۔
نیپو کا 2025 سے 2035 تک کا اسٹریٹجک روڈ میپ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ آئندہ دس سالوں میں خطے میں پودوں کے تحفظ کے لیے کون سے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس روڈ میپ پر عمل درآمد کا جائزہ لینا اس لیے ضروری ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رکن ممالک نے اب تک کون سی پیش رفت کی ہے اور کون سے شعبے مزید توجہ کے محتاج ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسے روڈ میپ کیوں اہمیت رکھتے ہیں؟ کیونکہ یہ طویل المدتی منصوبہ بندی کو ممکن بناتے ہیں اور وسائل کو درست سمت میں استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
5 سے 8 اکتوبر تک ہونے والی 38ویں تکنیکی مشاورت میں عالمی پلانٹ پروٹیکشن ادارے اور انٹرنیشنل پلانٹ پروٹیکشن کنونشن کے نمائندے شریک ہوں گے۔ اس مشاورت کا بنیادی مقصد فائٹو سینیٹری معیارات کو ہم آہنگ بنانا ہے۔ فائٹو سینیٹری معیارات وہ اصول ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ پودوں اور پودوں کی مصنوعات کی تجارت کے دوران کیڑوں اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک ملک میں پودوں کا کوئی کیڑا دوسرے ملک کی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟ جب کوئی مضر کیڑا کسی نئی جگہ پہنچتا ہے تو وہاں کی فصلوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس سے پیداوار کم ہوتی ہے اور برآمدات متاثر ہوتی ہیں۔ اسی لیے عالمی سطح پر معیارات کو یکساں بنانا ضروری ہے تاکہ تجارت محفوظ رہے اور خطرات کم سے کم ہوں۔
اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پودوں کی صحت کا معاملہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تنظیم خوراک کی حفاظت اور زرعی پائیداری کے لیے کام کرتی ہے، اور پودوں کے کیڑوں سے نمٹنے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتی ہے۔
اجلاس میں بین الاقوامی ماہرین بھی شرکت کریں گے، جو اپنے تجربات اور مہارت کا تبادلہ کریں گے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ماہرین کا یہ تبادلہ کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ ہر خطے کے مسائل اور حل مختلف ہو سکتے ہیں، اور ایک جگہ کا کامیاب تجربہ دوسری جگہ بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ریاض میں ان اجلاسوں کی میزبانی سعودی عرب کے پودوں کے تحفظ کے شعبے میں کردار کو ظاہر کرتی ہے۔ ویقاء نیشنل سینٹر فار دی پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پلانٹس پیسٹس اینڈ اینیمل ڈیزیز کے طور پر پودوں اور جانوروں کی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کرتا ہے تاکہ زرعی وسائل کو محفوظ رکھا جا سکے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پودوں کے کیڑوں کا پھیلاؤ موسموں اور تجارتی راستوں سے کیسے جڑا ہوتا ہے؟ جب تجارت بڑھتی ہے تو سامان کے ساتھ کیڑے بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور سرحدی گزرگاہوں پر پودوں کی جانچ اور نگرانی کی جاتی ہے۔
نیپو کے ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں علاقائی بائیو سیکیورٹی آپریشنز کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رکن ممالک کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات، ان کی کارکردگی اور درپیش چیلنجز پر بات ہوگی۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ بائیو سیکیورٹی کے کاموں کا جائزہ لینا کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کہاں بہتری کی ضرورت ہے اور کون سے وسائل مزید درکار ہیں۔
38ویں تکنیکی مشاورت کا انعقاد ایک تسلسل کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی علاقائی پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشنز کے درمیان مشاورتیں ہوتی رہی ہیں، جن کا مقصد عالمی معیارات کو بہتر بنانا اور باہمی تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔ اس بار ریاض میں ہونے والی مشاورت میں عالمی اداروں کی شرکت اس کی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہے۔
پودوں کی صحت کا شعبہ خوراک کی حفاظت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ اگر پودوں کے کیڑے قابو سے باہر ہو جائیں تو فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے، جس سے خوراک کی قیمتوں اور دستیابی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششیں کی جاتی ہیں تاکہ خطرات کو وقت پر پہچانا اور روکا جا سکے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ فائٹو سینیٹری معیارات تجارت کو آسان بنانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں؟ جب تمام ممالک ایک جیسے اصولوں پر عمل کریں تو تجارت میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں اور اعتماد بڑھتا ہے۔ اس کے برعکس، مختلف معیارات کی صورت میں سامان کی جانچ اور منظوری میں دشواری پیش آتی ہے۔
ویقاء کی جانب سے اس اجلاس کی میزبانی یہ ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب خطے میں پودوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کے ساتھ فعال تعاون کرتا ہے۔ اس تعاون کا مقصد مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا اور بہترین طریقوں کو اپنانا ہے۔
اجلاس کے شرکاء میں اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے نمائندے اور بین الاقوامی ماہرین شامل ہیں۔ یہ تنوع اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مختلف نقطہ نظر اور تجربات سامنے آئیں، جن سے بہتر فیصلے ممکن ہوں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پودوں کے کیڑوں کی نگرانی میں ٹیکنالوجی کا کردار کیا ہے؟ جدید طریقوں سے کیڑوں کی موجودگی کا پتہ لگانا، ان کی نقل و حرکت کا تجزیہ کرنا اور بروقت انتباہ جاری کرنا ممکن ہوتا ہے۔ اس سے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے اور وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ریاض میں 3 سے 8 اکتوبر تک جاری رہنے والے ان اجلاسوں کا نتیجہ علاقائی اور عالمی سطح پر پودوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاسوں کے شرکاء کی تعداد، اٹھائے جانے والے مخصوص فیصلوں یا کسی مالی تفصیل کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ریاض میں پودوں کی صحت کے اجلاس کب اور کہاں ہوں گے؟ اجلاس 3 سے 8 اکتوبر 2026 تک ریاض میں منعقد ہوں گے۔ پہلا اجلاس نیپو کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہے جو 3 اور 4 اکتوبر کو ہوگا، جس کی صدارت ویقاء کے پلانٹ ہیلتھ سیکٹر کے سربراہ ڈاکٹر محمد الخریجی کریں گے۔ دوسرا اجلاس 5 سے 8 اکتوبر تک علاقائی پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشنز کے درمیان 38ویں تکنیکی مشاورت ہے۔ ایس پی اے کے مطابق ان اجلاسوں میں اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور بین الاقوامی ماہرین شرکت کریں گے۔
نیپو ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کا مقصد کیا ہے؟ نیپو ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 3 اور 4 اکتوبر کو ہوگا اور اس کی صدارت ویقاء کے پلانٹ ہیلتھ سیکٹر کے سربراہ ڈاکٹر محمد الخریجی کریں گے۔ اس اجلاس کا مقصد علاقائی بائیو سیکیورٹی آپریشنز کا جائزہ لینا اور 2025 سے 2035 تک کے اسٹریٹجک روڈ میپ پر عمل درآمد کو آگے بڑھانا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ اجلاس میں کون سے مخصوص فیصلے کیے جائیں گے۔
38ویں تکنیکی مشاورت میں کون شرکت کرے گا اور کیوں؟ 5 سے 8 اکتوبر تک ہونے والی 38ویں تکنیکی مشاورت میں عالمی پلانٹ پروٹیکشن ادارے اور انٹرنیشنل پلانٹ پروٹیکشن کنونشن کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس کا مقصد فائٹو سینیٹری معیارات کو ہم آہنگ بنانا اور سرحدوں کے پار پھیلنے والے پودوں کے کیڑوں کے خلاف رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اس مشاورت میں بین الاقوامی ماہرین بھی شامل ہوں گے۔
ان اجلاسوں کی میزبانی کون کر رہا ہے؟ ان اجلاسوں کی میزبانی نیشنل سینٹر فار دی پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پلانٹس پیسٹس اینڈ اینیمل ڈیزیز (ویقاء) نیئر ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن (نیپو) کے تعاون سے کر رہا ہے۔ ویقاء پودوں اور جانوروں کی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے کام کرتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اجلاسوں میں اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی شرکت بھی شامل ہے۔
پودوں کی صحت کے اجلاسوں کی اہمیت کیا ہے؟ یہ اجلاس پودوں کے کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف علاقائی اور عالمی تعاون کو مضبوط بناتے ہیں۔ نیپو کا 2025 سے 2035 تک کا اسٹریٹجک روڈ میپ طویل المدتی منصوبہ بندی فراہم کرتا ہے، جبکہ 38ویں تکنیکی مشاورت فائٹو سینیٹری معیارات کو ہم آہنگ بنانے پر توجہ دیتی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق ان اجلاسوں میں عالمی ادارے اور ماہرین شرکت کریں گے تاکہ سرحدوں کے پار پھیلنے والے کیڑوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔





