اسلام آباد میں پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے بار بار کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا شامل ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد سے بیان کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی مسلح افواج کی چوکسی اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا، جنہوں نے کئی بیلسٹک میزائلوں کو روکا، اور عام شہریوں کے تحفظ اور مملکت کی سلامتی کے لیے ان کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے مملکت کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی شقوں اور اس معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں سے وابستگی کا بھی اعادہ کیا۔
پاکستانی وزیراعظم نے مملکت کے اپنے عوام کے دفاع اور اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے جائز حق کے لیے اپنے ملک کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور دہشت گرد حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنے حملے بند کرے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اور ان حملوں میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں عام شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔ سعودی مسلح افواج نے کئی بیلسٹک میزائلوں کو روکا اور عام شہریوں کے تحفظ اور مملکت کی سلامتی کے لیے کوششیں کیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی بنیاد مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر رکھی گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایک اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس کے حالیہ فیصلوں کا پاکستانی وزیراعظم نے ذکر کیا۔
پاکستانی وزیراعظم کا یہ بیان سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہوئے، جس پر پاکستانی وزیراعظم نے شدید مذمت کا اظہار کیا۔
سعودی مسلح افواج کی چوکسی اور پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کرتے ہوئے، پاکستانی وزیراعظم نے کئی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے اور عام شہریوں کے تحفظ اور مملکت کی سلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی عرب اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کس طرح کوشاں ہے۔
پاکستانی وزیراعظم نے مملکت کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی شقوں اور اس معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں سے وابستگی کا بھی اعادہ کیا۔ یہ اعادہ اس بات کا مظاہرہ کرتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔
پاکستانی وزیراعظم نے مملکت کے اپنے عوام کے دفاع اور اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے جائز حق کے لیے اپنے ملک کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور دہشت گرد حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنے حملے بند کرے۔ یہ مطالبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور دہشت گردی کی کسی بھی شکل کی حمایت نہیں کرتا۔
یہ بیان سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہوئے، جس پر پاکستانی وزیراعظم نے شدید مذمت کا اظہار کیا۔
سعودی مسلح افواج کی چوکسی اور پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کرتے ہوئے، پاکستانی وزیراعظم نے کئی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے اور عام شہریوں کے تحفظ اور مملکت کی سلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی عرب اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کس طرح کوشاں ہے۔
پاکستانی وزیراعظم نے مملکت کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی شقوں اور اس معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں سے وابستگی کا بھی اعادہ کیا۔ یہ اعادہ اس بات کا مظاہرہ کرتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔
پاکستانی وزیراعظم نے مملکت کے اپنے عوام کے دفاع اور اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے جائز حق کے لیے اپنے ملک کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور دہشت گرد حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنے حملے بند کرے۔ یہ مطالبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور دہشت گردی کی کسی بھی شکل کی حمایت نہیں کرتا۔
یہ بیان سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہوئے، جس پر پاکستانی وزیراعظم نے شدید مذمت کا اظہار کیا۔
سعودی مسلح افواج کی چوکسی اور پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کرتے ہوئے، پاکستانی وزیراعظم نے کئی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے اور عام شہریوں کے تحفظ اور مملکت کی سلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی عرب اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کس طرح کوشاں ہے۔
پاکستانی وزیراعظم نے مملکت کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی شقوں اور اس معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں سے وابستگی کا بھی اعادہ کیا۔ یہ اعادہ اس بات کا مظاہرہ کرتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔
پاکستانی وزیراعظم نے مملکت کے اپنے عوام کے دفاع اور اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے جائز حق کے لیے اپنے ملک کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور دہشت گرد حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنے حملے بند کرے۔ یہ مطالبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور دہشت گردی کی کسی بھی شکل کی حمایت نہیں کرتا۔
پاکستانی وزیراعظم نے کن حملوں کی مذمت کی؟ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے بار بار کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی، جن میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ ایس پی اے کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔
پاکستانی وزیراعظم نے سعودی مسلح افواج کی کس بات پر تعریف کی؟ پاکستانی وزیراعظم نے سعودی مسلح افواج کی چوکسی اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا، جنہوں نے کئی بیلسٹک میزائلوں کو روکا۔ انہوں نے عام شہریوں کے تحفظ اور مملکت کی سلامتی کے لیے ان کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
پاکستان نے کس معاہدے سے وابستگی کا اعادہ کیا؟ پاکستانی وزیراعظم نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی شقوں اور اس معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں سے وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مملکت کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا بھی اعادہ کیا۔
پاکستانی وزیراعظم نے حوثی ملیشیا سے کیا مطالبہ کیا؟ پاکستانی وزیراعظم نے دہشت گرد حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنے حملے بند کرے۔ انہوں نے مملکت کے اپنے عوام کے دفاع اور اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے جائز حق کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔