خرطوم، 28 ستمبر 2026 — سعودی عرب کے شاہ سلمان امدادی و انسانی مرکز (کے ایس ریلیف) کی ٹیم نے ہفتے کے روز سوڈان کی ریاست خرطوم کے شہر ام درمان میں مرکز کے صحت اور پانی کے منصوبوں کا دورہ کیا۔ یہ دورہ اُس وقت ہوا جب خرطوم میں سیکورٹی کی بحالی کے بعد کے ایس ریلیف نے وہاں کے سب سے بڑے اسپتال، ام درمان ٹیچنگ ہسپتال، کو 730 کے وی اے کا جنریٹر فراہم کیا تھا، جبکہ اسپتال اُس وقت ٹارچوں کی روشنی میں کام کر رہا تھا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، کے ایس ریلیف کی ٹیم نے ام درمان ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں مرکز نے ایمرجنسی، انتہائی نگہداشت، ریڈیولوجی اور سرجری کے یونٹس کے لیے جدید طبی آلات فراہم کیے، جس سے اسپتال روزانہ تقریباً 60 سرجریاں کرنے کے قابل ہو گیا۔ مرکز نے اسپتال کا پہلا آکسیجن اسٹیشن بھی قائم کیا، جو روزانہ 80 سلنڈر پیدا کرتا ہے۔
کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ٹارچوں کی روشنی میں چلنے والا اسپتال 60 سرجریوں تک کیسے پہنچا؟
ٹیم نے سعودی میٹرنٹی ہسپتال اور البلوک اسپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور وہاں کے ایس ریلیف کی فراہم کردہ جنریٹروں کے مثبت اثرات کا جائزہ لیا، جو بجلی کی بندش کے دوران دونوں سہولیات کو فعال رکھنے کے لیے دیے گئے تھے۔ کے ایس ریلیف نے دونوں اسپتالوں کے لیے آکسیجن اسٹیشنوں کی مالی معاونت بھی کی ہے، جو جلد نصب کیے جانے ہیں۔
کیا بجلی کی بندش کے دوران جنریٹر صرف روشنی ہی نہیں، بلکہ زندگیوں کو بچانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں؟
پانی کے شعبے میں، ٹیم نے ایک واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن کی بحالی کے منصوبے کا دورہ کیا، جو 1.5 ملین سے زیادہ مستفیدین کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ کے ایس ریلیف کی معاونت — دو 1,000 کے وی اے جنریٹر ٹرانسفر سوئچز کے ساتھ — نے اسٹیشن کی پیداواری صلاحیت کو 25 فیصد سے 70 فیصد تک بڑھا دیا، جس سے ام درمان کو پانی کی فراہمی مستحکم ہوئی، محفوظ پینے کا پانی میسر آیا اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خطرات میں کمی آئی۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک اسٹیشن کی پیداواری صلاحیت 25 فیصد سے 70 فیصد تک پہنچنے کا مطلب کتنے گھروں کے لیے صاف پانی ہے؟
یہ معاونت سعودی عرب کی جانب سے کے ایس ریلیف کے ذریعے سوڈان بھر میں صحت اور پانی کے شعبوں کی حمایت کے جاری انسانی اقدامات کا حصہ ہے۔
ام درمان ٹیچنگ ہسپتال سوڈان کا سب سے بڑا اسپتال ہے، اور کے ایس ریلیف کی فراہم کردہ 730 کے وی اے جنریٹر نے سیکورٹی کی بحالی کے بعد اسپتال کو بجلی فراہم کی، جبکہ اسپتال ٹارچوں کی روشنی میں کام کر رہا تھا۔ اس کے بعد مرکز نے جدید طبی آلات فراہم کیے، جن میں ایمرجنسی، انتہائی نگہداشت، ریڈیولوجی اور سرجری کے یونٹس شامل ہیں۔ ان آلات کی بدولت اسپتال روزانہ تقریباً 60 سرجریاں کرنے کے قابل ہوا۔ مرکز نے اسپتال کا پہلا آکسیجن اسٹیشن بھی قائم کیا، جو روزانہ 80 سلنڈر پیدا کرتا ہے۔
کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ روزانہ 80 آکسیجن سلنڈر کتنے مریضوں کی سانسوں کو سہارا دیتے ہیں؟
ٹیم نے سعودی میٹرنٹی ہسپتال اور البلوک اسپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں کے ایس ریلیف کی فراہم کردہ جنریٹروں کے مثبت اثرات کا جائزہ لیا، جو بجلی کی بندش کے دوران دونوں سہولیات کو فعال رکھنے کے لیے دیے گئے تھے۔ کے ایس ریلیف نے دونوں اسپتالوں کے لیے آکسیجن اسٹیشنوں کی مالی معاونت بھی کی ہے، جو جلد نصب کیے جانے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ بجلی کی بندش کے دوران جنریٹر صرف روشنی ہی نہیں، بلکہ زندگیوں کو بچانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں؟
پانی کے شعبے میں، ٹیم نے ایک واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن کی بحالی کے منصوبے کا دورہ کیا، جو 1.5 ملین سے زیادہ مستفیدین کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ کے ایس ریلیف کی معاونت — دو 1,000 کے وی اے جنریٹر ٹرانسفر سوئچز کے ساتھ — نے اسٹیشن کی پیداواری صلاحیت کو 25 فیصد سے 70 فیصد تک بڑھا دیا، جس سے ام درمان کو پانی کی فراہمی مستحکم ہوئی، محفوظ پینے کا پانی میسر آیا اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خطرات میں کمی آئی۔
کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ 1.5 ملین سے زیادہ لوگوں کے لیے صاف پانی کا مطلب کیا ہے؟
یہ معاونت سعودی عرب کی جانب سے کے ایس ریلیف کے ذریعے سوڈان بھر میں صحت اور پانی کے شعبوں کی حمایت کے جاری انسانی اقدامات کا حصہ ہے۔
رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ جنریٹروں کی فراہمی کی تاریخ کیا تھی، آکسیجن اسٹیشنوں کی نصب کی متوقع تاریخ کیا ہے، یا واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن کی بحالی کا منصوبہ کب مکمل ہوگا۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ان منصوبوں پر کتنی رقم خرچ ہوئی یا مستفیدین کی تعداد کا تخمینہ کیسے لگایا گیا۔
کے ایس ریلیف نے ام درمان ٹیچنگ ہسپتال کو کیا فراہم کیا؟ کے ایس ریلیف نے ام درمان ٹیچنگ ہسپتال کو 730 کے وی اے کا جنریٹر فراہم کیا، جب اسپتال ٹارچوں کی روشنی میں کام کر رہا تھا۔ اس کے بعد مرکز نے ایمرجنسی، انتہائی نگہداشت، ریڈیولوجی اور سرجری کے یونٹس کے لیے جدید طبی آلات فراہم کیے، جس سے اسپتال روزانہ تقریباً 60 سرجریاں کرنے کے قابل ہوا۔ مرکز نے اسپتال کا پہلا آکسیجن اسٹیشن بھی قائم کیا، جو روزانہ 80 سلنڈر پیدا کرتا ہے۔
سعودی میٹرنٹی ہسپتال اور البلوک اسپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں کے ایس ریلیف کی معاونت کیا ہے؟ کے ایس ریلیف نے سعودی میٹرنٹی ہسپتال اور البلوک اسپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال کو جنریٹر فراہم کیے، جو بجلی کی بندش کے دوران دونوں سہولیات کو فعال رکھنے کے لیے دیے گئے تھے۔ ٹیم نے ان جنریٹروں کے مثبت اثرات کا جائزہ لیا۔ کے ایس ریلیف نے دونوں اسپتالوں کے لیے آکسیجن اسٹیشنوں کی مالی معاونت بھی کی ہے، جو جلد نصب کیے جانے ہیں۔
واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن کی بحالی سے کیا فرق پڑا؟ کے ایس ریلیف کی معاونت — دو 1,000 کے وی اے جنریٹر ٹرانسفر سوئچز کے ساتھ — نے واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن کی پیداواری صلاحیت کو 25 فیصد سے 70 فیصد تک بڑھا دیا۔ اس سے ام درمان کو پانی کی فراہمی مستحکم ہوئی، محفوظ پینے کا پانی میسر آیا اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خطرات میں کمی آئی۔ یہ اسٹیشن 1.5 ملین سے زیادہ مستفیدین کو خدمات فراہم کرتا ہے۔
کے ایس ریلیف کا یہ دورہ کب اور کہاں ہوا؟ کے ایس ریلیف کی ٹیم نے ہفتے کے روز سوڈان کی ریاست خرطوم کے شہر ام درمان میں مرکز کے صحت اور پانی کے منصوبوں کا دورہ کیا۔ یہ دورہ 28 ستمبر 2026 کو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق رپورٹ ہوا۔ ٹیم نے ام درمان ٹیچنگ ہسپتال، سعودی میٹرنٹی ہسپتال، البلوک اسپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال اور واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن کا دورہ کیا۔
یہ معاونت کس انسانی اقدامات کا حصہ ہے؟ یہ معاونت سعودی عرب کی جانب سے کے ایس ریلیف کے ذریعے سوڈان بھر میں صحت اور پانی کے شعبوں کی حمایت کے جاری انسانی اقدامات کا حصہ ہے۔ کے ایس ریلیف نے ام درمان ٹیچنگ ہسپتال کو جنریٹر اور طبی آلات فراہم کیے، دونوں اسپتالوں کے لیے آکسیجن اسٹیشنوں کی مالی معاونت کی، اور واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن کی بحالی میں مدد دی۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ رپورٹ میں جنریٹروں کی فراہمی کی تاریخ، آکسیجن اسٹیشنوں کی نصب کی متوقع تاریخ، یا واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن کی بحالی کے منصوبے کی تکمیل کی تاریخ نہیں دی گئی۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ان منصوبوں پر کتنی رقم خرچ ہوئی یا مستفیدین کی تعداد کا تخمینہ کیسے لگایا گیا۔





