ریاض میں جمعرات 21 اکتوبر 2026 کو اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ مشرقی علاقے کی طرف بھیجا گیا ایک بغیر پائلٹ طیارہ روک کر تباہ کر دیا گیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، میجر جنرل ترکی المالکی نے یہ اعلان ریاض سے کیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ ڈرون مشرقی علاقے کی سمت میں چھوڑا گیا تھا اور اسے روک کر تباہ کر دیا گیا۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اتحاد بحالی شرعیہ یمن کی جانب سے اس نوعیت کے واقعات کی اطلاع دی جاتی رہی ہے۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے یہ خبر ریاض سے 21 اکتوبر 2026 کو جاری کی، اور اس کے ساتھ مقامی وقت کے مطابق رات 21:04 اور گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 18:04 کا حوالہ بھی دیا گیا۔
مشرقی علاقہ سعودی عرب کا وہ حصہ ہے جہاں تیل اور گیس کی بڑی تنصیبات، صنعتی مراکز اور بندرگاہیں واقع ہیں۔ اسی لیے اس علاقے کی طرف بھیجے جانے والے کسی بھی ہوائی ہدف کی اطلاع کو قومی سلامتی سے جڑا معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ ایک چھوٹا سا بغیر پائلٹ طیارہ بھی خطے کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے؟
اتحاد بحالی شرعیہ یمن کا سرکاری ترجمان ہر ایسے واقعے کی تفصیل جاری کرتا ہے جس کا تعلق یمن کی سرزمین سے چھوڑے گئے ہوائی ہدف سے ہو۔ میجر جنرل ترکی المالکی کا نام اس حوالے سے سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹوں میں مسلسل سامنے آتا رہا ہے۔ اس بار بھی بیان اسی ترجمان کے حوالے سے جاری کیا گیا۔
ایس پی اے کی اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون کس قسم کا تھا، اسے کہاں سے چھوڑا گیا، اسے کس مقام پر روکا گیا، یا اس کے تباہ ہونے سے کہیں کوئی نقصان ہوا یا نہیں۔ رپورٹ میں صرف یہ معلومات دی گئی ہیں کہ ہدف مشرقی علاقے کی طرف بھیجا گیا تھا اور اسے روک کر تباہ کر دیا گیا۔
کیا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی اطلاعات کے بعد عام شہریوں کو کیا جاننا چاہیے؟ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے اپنی رپورٹ میں شہریوں کے لیے کوئی ہدایت یا انتباہ شامل نہیں کیا۔ اس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ واقعے کی مزید تفتیش کس ادارے کے پاس ہے۔
یمن کی سرزمین سے سعودی عرب کی طرف بھیجے جانے والے بغیر پائلٹ طیاروں کی روک تھام اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے اعلانات کا بار بار آنے والا موضوع رہا ہے۔ ایسے اعلانات میں عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ ہدف کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔ تفصیلات اکثر محدود رہتی ہیں، اور یہی صورت اس رپورٹ میں بھی دیکھی گئی۔
مشرقی علاقے کا نام سعودی عرب کے نقشے پر ایک وسیع جغرافیائی حقیقت ہے۔ یہ علاقہ خلیج کے ساتھ پھیلا ہوا ہے اور اس میں صنعتی شہر، تیل کی تنصیبات اور بڑی بندرگاہیں شامل ہیں۔ کیا ایسے علاقے کی طرف بھیجے گئے کسی بھی ہوائی ہدف کی خبر کو معمولی سمجھا جا سکتا ہے؟
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے اپنی رپورٹ کے آخر میں صرف اپنے نام کا حوالہ دیا۔ اس کے ساتھ مقامی وقت اور گرین وچ مین ٹائم درج کیے گئے، اور ایک عددی کوڈ بھی شامل کیا گیا۔ یہ انداز ایس پی اے کی خبروں میں عام ہے، جہاں وقت اور کوڈ کے ذریعے رپورٹ کی شناخت ممکن بنائی جاتی ہے۔
کیا یہ جاننا ضروری نہیں کہ ایسی خبروں کی تصدیق کس طرح ہوتی ہے؟ اس رپورٹ میں صرف اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے سرکاری ترجمان کا بیان ہے۔ ایس پی اے نے اپنی طرف سے کوئی اضافی تفصیل یا آزاد تصدیق شامل نہیں کی۔
مشرقی علاقے کی طرف بھیجے جانے والے ڈرون کی خبر 21 اکتوبر 2026 کی رات سامنے آئی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اطلاع ریاض سے جاری ہوئی۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ واقعہ دن کے کس حصے میں پیش آیا، صرف خبر جاری ہونے کا وقت دیا گیا۔
ایسے واقعات کی اطلاع عام طور پر مختصر ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عوام کے ذہن میں کئی سوالات رہ جاتے ہیں۔ کیا ڈرون کسی آبادی والے علاقے کے قریب سے گزرا؟ کیا اسے سمندر یا خشکی پر روکا گیا؟ ان سوالوں کے جواب اس رپورٹ میں موجود نہیں۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں میجر جنرل ترکی المالکی کے بیان کا صرف ایک جملہ نقل کیا گیا ہے۔ اس جملے میں یہ واضح کیا گیا کہ بغیر پائلٹ طیارہ مشرقی علاقے کی طرف بھیجا گیا تھا اور اسے روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
کیا خبر کی کمی خود ایک پیغام نہیں ہوتی؟ جب کسی واقعے کی تفصیلات جاری نہ کی جائیں تو قیاس آرائیوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اس رپورٹ نے قیاس آرائی کو روکنے کے لیے کوئی اضافی وضاحت پیش نہیں کی۔
اتحاد بحالی شرعیہ یمن کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات کا مقصد عام طور پر یہ بتانا ہوتا ہے کہ ہوائی ہدف کو روک لیا گیا۔ اس بار بھی یہی مقصد نظر آیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہدف کس گروہ یا کس مقام سے چھوڑا گیا۔
مشرقی علاقے کی سمت میں بھیجے جانے والے ڈرون کی روک تھام کا مطلب یہ ہے کہ دفاعی نظام نے اپنا کام کیا۔ تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ روک تھام کس نظام کے ذریعے عمل میں آئی۔ یہ تفصیل بھی سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں شامل نہیں۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ایسی خبروں کے بعد مزید معلومات جاری کی جائیں؟ ماضی میں ایسے اعلانات کے بعد اضافی تفصیلات کبھی سامنے آئی ہیں اور کبھی نہیں۔ اس رپورٹ میں آگے کسی اپ ڈیٹ کا وعدہ نہیں کیا گیا۔
سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں بسنے والے لوگوں کی تعداد بڑی ہے، اور وہاں روزمرہ زندگی کا نظام صنعت اور توانائی سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں ہوائی ہدف کی خبر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کسی علاقے میں عارضی پابندی یا انخلا ہوا۔
ایس پی اے کی رپورٹ کا وقت 21:04 مقامی اور 18:04 گرین وچ ہے۔ یہ وقت خبر جاری ہونے کا ہے، نہ کہ واقعے کے وقوع کا۔ رپورٹ میں واقعے کے وقت کا ذکر موجود نہیں۔
کیا خبر کے وقت اور واقعے کے وقت کا فرق اہم نہیں؟ یہ فرق عام قاری کے لیے الجھن پیدا کر سکتا ہے، لیکن رپورٹ میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔
اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے ترجمان کے بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ ڈرون کا تعلق کس سے تھا۔ رپورٹ میں صرف یہ معلومات ہیں کہ ہدف مشرقی علاقے کی طرف بھیجا گیا اور اسے تباہ کر دیا گیا۔ یہ انداز مختصر اور محدود ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے اپنی رپورٹ کے آخر میں اپنا نام دوبارہ درج کیا اور ایک کوڈ دیا۔ یہ کوڈ رپورٹ کی شناخت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کوئی نیا نام، عدد یا مقام شامل نہیں کیا گیا۔
کیا ایسی مختصر خبریں قارئین کی تشنگی بجھا سکتی ہیں؟ یہ سوال ہر اس خبر کے ساتھ اٹھتا ہے جس میں تفصیل کم اور اعلان زیادہ ہو۔ اس رپورٹ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
مشرقی علاقے کی طرف بھیجے جانے والے ڈرون کی تباہی کی خبر سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے ریاض سے جاری کی۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ واقعے کی اطلاع کس ذریعے سے ملی یا اس کی تصدیق کیسے ہوئی۔
ایسے اعلانات عام طور پر فوری نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کا مقصد عوام کو بنیادی معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ تفصیلی جانچ کے لیے الگ رپورٹس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس رپورٹ میں آگے کی کسی رپورٹ کا ذکر نہیں۔
کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ خبر کی کمی معلومات کی کمی ہے؟ نہیں، کیونکہ رپورٹ میں جو کچھ ہے وہ اپنی جگہ مکمل بیان ہے۔ البتہ یہ بیان محدود ہے اور اسی حد تک قابل اعتماد ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں میجر جنرل ترکی المالکی کا عہدہ اور نام دونوں درج ہیں۔ یہ تفصیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیان اتحاد بحالی شرعیہ یمن کی سرکاری سطح سے جاری ہوا۔ رپورٹ میں اس سے آگے کوئی وضاحت نہیں۔
مشرقی علاقے کا ذکر رپورٹ میں صرف ہدف کی سمت کے طور پر آیا ہے۔ اس علاقے کے کسی خاص شہر، بندرگاہ یا تنصیب کا نام نہیں لیا گیا۔ یہ بات رپورٹ کو مزید مختصر بناتی ہے۔
کیا سمت کا ذکر ہی کافی ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ مشرقی علاقہ ایک وسیع خطہ ہے۔ رپورٹ میں اس خطے کے کسی مخصوص مقام کا تذکرہ موجود نہیں۔
اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے اعلانات میں عام طور پر یہ نہیں بتایا جاتا کہ روک تھام کے بعد ملبہ کہاں گرا۔ اس رپورٹ میں بھی یہ تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ واقعے کے بعد کسی تحقیقاتی کمیٹی نے کام شروع کیا یا نہیں۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے رپورٹ کے ساتھ وقت اور کوڈ کے علاوہ کوئی اضافی حوالہ نہیں دیا۔ یہ انداز خبر کی سادگی اور اختصار کو ظاہر کرتا ہے۔ قاری کے لیے یہی معلومات دستیاب ہیں۔
کیا خبر کی سادگی اسے کم اہم بناتی ہے؟ نہیں، کیونکہ خبر کا موضوع خود اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ البتہ تفصیل کی کمی قاری کو مزید جاننے کے لیے دوسرے ذرائع کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
مشرقی علاقے کی طرف بھیجے جانے والے ڈرون کی تباہی کا اعلان 21 اکتوبر 2026 کو سامنے آیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ پہلا واقعہ تھا یا اس سے پہلے بھی ایسی اطلاعات آئی تھیں۔ ہر خبر اپنے وقت اور اپنے دائرے میں دیکھی جاتی ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ ڈرون کے تباہ ہونے سے کسی کو نقصان پہنچا۔ یہ خالی جگہ رپورٹ کا حصہ ہے اور اسے قاری کے اندازے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
کیا خالی جگہیں خبر کا حصہ ہوتی ہیں؟ بعض اوقات ہاں، کیونکہ جو نہیں کہا گیا وہ بھی اپنا مطلب رکھتا ہے۔ اس رپورٹ میں کئی ایسی خالی جگہیں ہیں جنہیں سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے نہیں بھرا۔
اتحاد بحالی شرعیہ یمن کا نام رپورٹ میں مکمل طور پر درج ہے۔ اس کے ترجمان کا نام اور عہدہ بھی موجود ہے۔ یہ تفصیلات خبر کو ایک سرکاری رنگ دیتی ہیں، جبکہ باقی معلومات محدود رہتی ہیں۔
مشرقی علاقے کی طرف بھیجے جانے والے ڈرون کی روک تھام کا مطلب یہ ہے کہ ہدف اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ منزل کیا تھی یا ہدف کس چیز کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ یہ تفصیل بھی غائب ہے۔
کیا ہر خبر کو مکمل تفصیل کے ساتھ آنا چاہیے؟ یہ ایک عمومی توقع ہے، لیکن فوری خبروں میں اختصار عام بات ہے۔ اس رپورٹ نے اختصار کو ترجیح دی اور صرف بنیادی معلومات فراہم کیں۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان ریاض سے جاری ہوا۔ ریاض سعودی عرب کا دارالحکومت ہے اور سرکاری اعلانات کا مرکز ہے۔ رپورٹ میں اس کے علاوہ کسی مقام کا ذکر نہیں۔
مشرقی علاقے کی طرف بھیجے جانے والے ڈرون کی تباہی کی خبر کے بعد قارئین کے ذہن میں جو سوالات رہ جاتے ہیں، ان کا جواب اس رپورٹ میں موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خبر مختصر مگر توجہ طلب بنی ہوئی ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے اپنی رپورٹ میں کوئی پس منظر فراہم نہیں کیا۔ نہ یہ بتایا گیا کہ ایسے واقعات کتنی بار پیش آتے ہیں، نہ یہ کہ ان کے خلاف کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ صرف اعلان تک محدود ہے۔
کیا پس منظر کے بغیر خبر ادھوری لگتی ہے؟ یہ قاری کا اپنا فیصلہ ہے۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے جو کچھ دیا، وہی اس رپورٹ کا مکمل مواد ہے۔
اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کا بیان اس رپورٹ کا مرکز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشرقی علاقے کی طرف بھیجا گیا بغیر پائلٹ طیارہ روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کوئی نیا دعویٰ یا عدد شامل نہیں۔
مشرقی علاقے کی طرف بھیجے جانے والے ڈرون کی خبر 21 اکتوبر 2026 کو جاری ہوئی۔ رپورٹ میں وقت کے ساتھ کوڈ بھی دیا گیا۔ یہی وہ معلومات ہیں جو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے فراہم کیں۔
کیا یہ خبر اپنے آپ میں مکمل ہے؟ جو مواد دستیاب ہے، اس کے مطابق یہ ایک مختصر اور واضح اعلان ہے۔ اس سے آگے کی تفصیلات رپورٹ کا حصہ نہیں ہیں۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون کی تباہی کے بعد اس کے ملبے کا کیا ہوا۔ نہ یہ کہ واقعے کی ویڈیو یا تصاویر جاری کی گئیں۔ رپورٹ تحریری اعلان تک محدود ہے۔
مشرقی علاقے کی طرف بھیجے جانے والے ڈرون کی روک تھام کی خبر سعودی عرب میں اس وقت جاری ہوئی جب مقامی وقت رات 21:04 تھا۔ گرین وچ مین ٹائم کے مطابق یہ 18:04 بنتا ہے۔ یہ وقت خبر کی اشاعت کا ہے۔
کیا وقت کی تفصیل قاری کے لیے مفید ہے؟ یہ خبر کی شناخت اور ترتیب کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کوئی اضافی سیاق و سباق موجود نہیں۔
اتحاد بحالی شرعیہ یمن کی جانب سے جاری ہونے والے اس بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہدف کو روکنے کے لیے کتنی کوشش کی گئی۔ رپورٹ میں صرف نتیجہ بیان کیا گیا ہے، یعنی ہدف روک کر تباہ کر دیا گیا۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں میجر جنرل ترکی المالکی کے بیان کا صرف ایک حصہ نقل کیا گیا۔ اس حصے میں مشرقی علاقے کی سمت اور تباہی کا ذکر ہے۔ باقی سب کچھ رپورٹ سے باہر ہے۔
کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ خبر کی طوالت اس کے مواد سے زیادہ ہے؟ نہیں، کیونکہ رپورٹ مختصر ہے اور اپنے مواد سے زیادہ کچھ نہیں کہتی۔ یہی اس کی خوبی اور اس کی حد ہے۔
مشرقی علاقے کی طرف بھیجے جانے والے ڈرون کی تباہی کی خبر کے ساتھ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے اپنا نام، وقت اور کوڈ درج کیا۔ یہ عناصر رپورٹ کو قابل حوالہ بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی نیا عنصر شامل نہیں کیا گیا۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ واقعے کے بعد کسی دفاعی یا سول ادارے نے کوئی بیان جاری کیا۔ رپورٹ صرف اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے ترجمان کے حوالے سے ہے۔
کیا ایک ہی بیان کافی ہوتا ہے؟ یہ فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں جو کچھ ہے، وہ اپنی جگہ واضح ہے اور اسی حد تک قابل اعتماد ہے۔
مشرقی علاقے کی طرف بھیجے جانے والے ڈرون کی خبر 21 اکتوبر 2026 کو سامنے آئی اور سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے اسے ریاض سے جاری کیا۔ رپورٹ کے مطابق ہدف روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کوئی تفصیل موجود نہیں، اور یہی اس خبر کا مکمل دائرہ ہے۔
ڈرون کی تباہی کا اعلان کس نے کیا؟ اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے یہ اعلان کیا۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق انہوں نے بتایا کہ مشرقی علاقے کی طرف بھیجا گیا بغیر پائلٹ طیارہ روک کر تباہ کر دیا گیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون کس قسم کا تھا یا اسے کہاں سے چھوڑا گیا۔
یہ اطلاع کب اور کہاں سے جاری ہوئی؟ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق یہ اطلاع 21 اکتوبر 2026 کو ریاض سے جاری ہوئی۔ رپورٹ میں مقامی وقت 21:04 اور گرین وچ مین ٹائم 18:04 درج کیا گیا۔ یہ وقت خبر جاری ہونے کا ہے، نہ کہ واقعے کے وقوع کا، اور رپورٹ میں واقعے کے وقت کا ذکر موجود نہیں۔
مشرقی علاقے کا ذکر کس تناظر میں ہوا؟ رپورٹ میں مشرقی علاقے کا ذکر صرف اس سمت کے طور پر ہوا جہاں ڈرون بھیجا گیا تھا۔ اس علاقے کے کسی خاص شہر، بندرگاہ یا تنصیب کا نام نہیں لیا گیا۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ہدف کو کس مقام پر روکا گیا یا اس کے ملبے کا کیا ہوا۔
کیا رپورٹ میں نقصان یا ہدایات کا ذکر ہے؟ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون کے تباہ ہونے سے کسی کو نقصان پہنچا۔ نہ ہی شہریوں کے لیے کوئی ہدایت یا انتباہ شامل کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں کہا گیا کہ واقعے کی مزید تفتیش کس ادارے کے پاس ہے۔
رپورٹ میں کون سی تفصیلات غائب ہیں؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون کس قسم کا تھا، اسے کہاں سے چھوڑا گیا، یا روک تھام کس نظام کے ذریعے عمل میں آئی۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے نہ تو ملبے کے بارے میں کچھ کہا اور نہ تصاویر یا ویڈیو جاری کی۔ رپورٹ صرف اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے ترجمان کے بیان تک محدود ہے۔
اس خبر کا اہم نکتہ کیا ہے؟ اہم نکتہ یہ ہے کہ مشرقی علاقے کی طرف بھیجا گیا بغیر پائلٹ طیارہ روک کر تباہ کر دیا گیا۔ یہ اطلاع اتحاد بحالی شرعیہ یمن کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے حوالے سے سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے جاری کی۔ رپورٹ میں اس سے آگے کوئی تفصیل یا پس منظر فراہم نہیں کیا گیا۔