Tuesday, October 27, 2026
سعودی خبریں

IMCTC نے ساحل ممالک میں دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے ماہرین کی تربیت کی

IMCTC نے ساحل ممالک میں دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے ماہرین کی تربیت کی

نائیمی میں نائجر کی دارالحکومت میں اسلامی فوجی دہشت گردی کے خلاف اتحاد (IMCTC) نے ساحل ممالک میں دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کے خاتمے کے ذرائع پر مبنی ایک ورکشاپ کا اختتام جمعرات کو کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس تربیتی پروگرام میں نائجر کے سیکیورٹی، عدالتی اور نگرانی کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ مالیاتی اداروں کے ماہرین نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ مالیاتی تجزیہ، تعمیل اور پالیسی سازی کے شعبوں سے وابستہ پیشہ ور افراد بھی اس ورکشاپ کا حصہ رہے۔ کیا مالیاتی نظام کی سخت نگرانی دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کا واحد راستہ ہے؟

اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد متعلقہ حکام کی ان صلاحیتوں کو مضبوط بنانا تھا کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے ذرائع کی نگرانی کر سکیں اور ان کے بہاؤ کا تجزیہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایک ایسی خصوصی پروگرامنگ کے ذریعے مالیاتی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے عملی حکمت عملی تیار کی گئی جو خاص طور پر ساحل ممالک کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقابلے میں درپیش چیلنجز کی نوعیت کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی تھی۔ کیا ان صلاحیتوں کی بہتری سے خطے میں سیکیورٹی کے نئے معیار قائم ہوں گے؟

ورکشاپ کے دوران تین اہم موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی: خطے میں دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کے ذرائع، ان کے مقابلے کی کوششوں میں پیش آنے والے چیلنجز، اور مالیاتی نیٹ ورکس کو ختم کرنے کی حکمت عملی۔ کیا ان تینوں پہلوؤں کا جامع مطالعہ دہشت گردی کے مالی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے کافی ہے؟

شرکاء نے غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ، تاوان کی رقم اور قدرتی وسائل کے غلط استعمال کے طریقوں پر تفصیلی بحث کی۔ اس کے علاوہ سرحد پار مالیاتی بہاؤ اور غیر رسمی مالیاتی نظاموں کے ذریعے ہونے والی نقل و حرکت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کیا غیر رسمی مالیاتی نظاموں کی نگرانی کرنا روایتی بینکنگ نظام کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے؟

یہ ورکشاپ ساحل ممالک میں IMCTC کے اس وسیع پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد صلاحیتوں کی تعمیر، مہارتوں کا تبادلہ اور متعلقہ حکام کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ کیا بین الاقوامی تعاون کے بغیر دہشت گردی کے مالی ذرائع کو خشک کرنا ممکن ہے؟

ان تمام کوششوں کا مقصد دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنا اور اس کے ذرائع کو ختم کرنا ہے، تاکہ خطے میں سیکورٹی اور استحکام کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ کیا مالیاتی ذرائع کی بندش سے دہشت گرد تنظیموں کی آپریشنل صلاحیت میں نمایاں کمی آئے گی؟

رپورٹ میں ورکشاپ کے دورانیے، شرکاء کی کل تعداد یا کسی مخصوص مالیاتی رقم کا ذکر نہیں کیا گیا۔

IMCTC کی ورکشاپ کا مقصد کیا تھا؟ اس ورکشاپ کا مقصد ساحل ممالک کے متعلقہ حکام کی صلاحیتوں کو بڑھانا تھا تاکہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے ذرائع کی نگرانی اور ان کے بہاؤ کا تجزیہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ، ساحل ممالک کے مخصوص چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے مالیاتی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے عملی حکمت عملی تیار کرنا بھی اس کا مقصد تھا۔

ورکشاپ میں کن شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی؟ ورکشاپ میں نائجر کے سیکیورٹی، عدالتی اور نگرانی کرنے والے اداروں کے ماہرین کے ساتھ ساتھ مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ مالیاتی تجزیہ، تعمیل (compliance) اور پالیسی سازی کے شعبوں سے وابستہ پیشہ ور افراد بھی اس تربیتی پروگرام کا حصہ تھے۔

ورکشاپ کے دوران کن اہم موضوعات پر بحث کی گئی؟ ورکشاپ میں تین اہم موضوعات: مالی معاونت کے ذرائع، مقابلے میں درپیش چیلنجز اور نیٹ ورکس کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر بات ہوئی۔ شرکاء نے غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ، تاوان کی رقم، قدرتی وسائل کے استعمال اور سرحد پار غیر رسمی مالیاتی نظاموں پر تبادلہ خیال کیا۔