King Faisal Specialist Hospital and Research Center (KFSH) نے اس سالانہ قومی خون کے عطیہ کی مہم میں شرکت کی ہے جس کا آغاز ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خون کے عطیات کی حوصلہ افزائی کرنا اور مریضوں کے لیے خون کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، KFSH کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ماجد بن ابراہیم الفیاض نے ہسپتال کی قیادت کی ٹیم کے ساتھ مل کر خون کا عطیہ دیا تاکہ اس مہم کی حمایت کی جا سکے۔ کیا انسانی جان بچانے کے لیے خون کا عطیہ دینا ایک عظیم خدمت نہیں ہے؟
اپنی شرکت کے حصے کے طور پر، KFSH نے کئی تنظیموں کے ساتھ مل کر اپنی کمیونٹی آؤٹ ریچ کو وسعت دی ہے تاکہ موبائل بلڈ ڈونیشن یونٹس کو براہ راست کام کی جگہوں پر لایا جا سکے۔ عطیہ دہندگان KFSH کے بلڈ بینکوں اور King Fahad National Center for Children’s Cancer میں بھی خون دے سکتے ہیں، جس سے شرکت کے آسان طریقے فراہم کیے گئے ہیں تاکہ مریضوں کے لیے خون اور اس کے اجزاء کی قابل اعتماد سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔ کیا سہولیات کی دستیابی عطیہ دہندگان کی تعداد میں اضافے کا سبب نہیں بنتی؟
طبی اور جراحی کے بہت سے طریقہ کار کے لیے خون کی مستقل سپلائی انتہائی ضروری ہے۔ KFSH میں یہ ضرورت خاص طور پر زیادہ ہے کیونکہ یہاں کینسر کے علاج، اعضاء کی پیوند کاری اور بڑی سرجری سے گزرنے والے مریضوں کو انتہائی پیچیدہ دیکھ بھال فراہم کی جاتی ہے۔ ان میں سے بہت سے مریضوں کو علاج کے مختلف مراحل پر خون یا مخصوص اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بروقت اور بلا تعطل دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ عطیات ضروری ہیں۔ کیا پیچیدہ علاج کے دوران خون کی بروقت دستیابی مریض کی زندگی کے لیے فیصلہ کن نہیں ہوتی؟
KFSH کمیونٹی کے ارکان کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ اس مہم میں حصہ لیں اور اتوار سے جمعرات تک بلڈ بینکوں میں عطیہ دیں۔ ریاض میں اوقات صبح 7:30 سے رات 10:00 بجے تک، جدہ میں صبح 8:00 سے شام 5:00 بجے تک، اور مدینہ میں صبح 8:30 سے شام 7:00 بجے تک ہیں۔ کیا شہریوں کی یہ فعال شرکت صحت کے نظام کو مزید مضبوط نہیں کرے گی؟
KFSH کو 2026 کے لیے دنیا کے ٹاپ 250 اکیڈمک میڈیکل سینٹرز میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پہلے اور عالمی سطح پر 12 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ Brand Finance کے مطابق، اسے 2026 کے لیے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ میں سب سے قیمتی ہیلتھ کیئر برانڈ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ Newsweek نے اسے World’s Best Hospitals اور World’s Best Smart Hospitals کی فہرستوں میں شامل کیا ہے۔ کیا عالمی معیار کی یہ پہچان ادارے کی خدمات کی عکاسی نہیں کرتی؟
رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اب تک کتنے یونٹس خون جمع ہو چکے ہیں یا مہم کی کل مدت کیا ہے۔
KFSH نے قومی خون کے عطیہ کی مہم میں کیسے شرکت کی؟ KFSH نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی شروع کردہ مہم میں شرکت کی ہے، جس میں ادارے کے سی ای او ڈاکٹر ماجد بن ابراہیم الفیاض اور قیادت کی ٹیم نے خون عطیہ کیا۔ اس کے علاوہ ادارے نے موبائل بلڈ ڈونیشن یونٹس کے ذریعے کام کی جگہوں تک رسائی بڑھائی ہے۔
عطیہ دہندگان کن مقامات پر خون دے سکتے ہیں؟ عطیہ دہندگان KFSH کے بلڈ بینکوں اور King Fahad National Center for Children’s Cancer میں خون دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مختلف تنظیموں کے تعاون سے موبائل یونٹس کو براہ راست کام کی جگہوں پر بھی لایا گیا ہے۔
خون کے عطیات KFSH کے مریضوں کے لیے کیوں ضروری ہیں؟ KFSH میں کینسر کے علاج، اعضاء کی پیوند کاری اور بڑی سرجری جیسے پیچیدہ کیسز کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ ان مریضوں کو علاج کے مختلف مراحل پر خون یا مخصوص اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لیے مستقل سپلائی ضروری ہے۔