Monday, October 19, 2026
سائنس

تبوک یونیورسٹی کو قابل تجدید توانائی تحقیق کے لیے بین الاقوامی گرانٹ مل گئی

تبوک یونیورسٹی کو قابل تجدید توانائی تحقیق کے لیے بین الاقوامی گرانٹ مل گئی

تبوک یونیورسٹی کے کالج آف انجینئرنگ کو برمنگھم یونیورسٹی کے ساتھ شراکت میں برٹش کونسل کی جانب سے بین الاقوامی گرانٹ دی گئی ہے، جو “Going Global Partnerships – TNE Exploratory Grants 2026” پروگرام کے تحت دی گئی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو تبوک سے بیان کیا، یہ شراکت انجینئرنگ، قابل تجدید توانائی، پانی کے انتظام اور پائیداری پر مرکوز ہے۔

ایس پی اے کے مطابق اس شراکت کا مقصد تعلیمی اور تحقیقی تعاون کو مضبوط بنانا، مہارت اور سائنسی علم کے تبادلے کو آسان بنانا اور مشترکہ مواقع تیار کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پائیداری ان ترجیحی شعبوں میں سے ایک ہے جن کی برٹش کونسل نے سعودی یونیورسٹیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے لیے نشاندہی کی ہے۔ اس دائرے میں قابل تجدید توانائی اور آبی وسائل کا انتظام شامل ہے، نیز ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال اور دیگر امید افزا معاشی شعبے بھی شامل ہیں۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں گرانٹ کی رقم، مدت، منصوبے کے مخصوص اجزاء یا مجوزہ نتائج کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

گرانٹ کس نے اور کس پروگرام کے تحت دی؟ ایس پی اے کے مطابق تبوک یونیورسٹی کے کالج آف انجینئرنگ کو برمنگھم یونیورسٹی کے ساتھ شراکت میں برٹش کونسل کی جانب سے بین الاقوامی گرانٹ دی گئی۔ یہ گرانٹ “Going Global Partnerships – TNE Exploratory Grants 2026” پروگرام کے تحت ہے۔ رپورٹ میں گرانٹ کی رقم یا مدت نہیں بتائی گئی۔

اس شراکت کا دائرہ کار کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق شراکت انجینئرنگ، قابل تجدید توانائی، پانی کے انتظام اور پائیداری پر مرکوز ہے۔ اس کا مقصد تعلیمی اور تحقیقی تعاون مضبوط بنانا، مہارت اور سائنسی علم کا تبادلہ آسان بنانا اور مشترکہ مواقع تیار کرنا ہے۔ رپورٹ میں منصوبے کے مخصوص اجزاء نہیں دیے گئے۔

برٹش کونسل نے کون سے شعبے ترجیحی قرار دیے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق پائیداری ان ترجیحی شعبوں میں شامل ہے جن کی برٹش کونسل نے سعودی یونیورسٹیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے لیے نشاندہی کی۔ اس دائرے میں قابل تجدید توانائی اور آبی وسائل کا انتظام شامل ہے، نیز ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال اور دیگر امید افزا معاشی شعبے بھی۔