ریاض میں شاہ عبدالعزیز کمپلیکس برائے اوقاف لائبریریز نے سائنسی تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کے استعمال پر اپنے پروگرام کا دوسرا سیشن منعقد کیا، جس میں سائنسی ماخذ پڑھنے کے لیے اے آئی ایجنٹس کے استعمال پر توجہ دی گئی۔ یہ پروگرام اے آئی ہفتہ کے تحت آن لائن جاری ہے، اور یہ 2026 کو مصنوعی ذہانت کے سال قرار دیے جانے کے موقع پر ہو رہا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 20 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، افتتاحی سیشن کے بعد اس پروگرام میں 100 ممالک سے 12,343 محققین نے رجسٹریشن کرائی۔ رجسٹرڈ افراد میں دو تہائی سے زیادہ ماسٹرز یا ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں اور وہ یونیورسٹیوں، سرکاری اداروں، تحقیقی مراکز اور مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جو مملکت کے اندر اور باہر دونوں جگہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
پروگرام کا مقصد سائنسی تحقیق میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینا اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق علمی وسائل کی معاونت کرنا ہے۔ یہ پروگرام جمعرات، 22 اکتوبر تک جاری رہے گا اور اس میں تین سائنسی سیشن شامل ہیں جو سائنسی تحقیق میں مصنوعی ذہانت، مخطوطات کی خدمت میں اس کے استعمال، اور مصنوعی ذہانت کے دور میں لائبریریوں کے مستقبل کا احاطہ کرتے ہیں۔ پروگرام کا اختتام ایک کھلے سیشن پر ہوگا جس میں اس شعبے میں متوقع تبدیلیوں پر بحث کی جائے گی۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اے آئی ایجنٹس سائنسی ماخذ پڑھنے کے عمل کو کیسے بدل سکتے ہیں؟ یہ سوال اس وقت خاصا اہم ہو جاتا ہے جب دنیا بھر سے ہزاروں محققین ایک ہی پروگرام میں شریک ہو رہے ہیں۔ شاہ عبدالعزیز کمپلیکس برائے اوقاف لائبریریز کا یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ علمی ادارے روایتی طریقوں سے آگے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے پر غور کر رہے ہیں۔
دوسرے سیشن کی توجہ سائنسی ماخذ پڑھنے کے لیے اے آئی ایجنٹس کے استعمال پر مرکوز تھی۔ یہ ایجنٹس کیا ہیں اور یہ محققین کے لیے کیسے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں؟ عام طور پر یہ خودکار نظام ہوتے ہیں جو بڑی مقدار میں متن کو پڑھ کر خلاصہ، تجزیہ یا متعلقہ معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ سائنسی تحقیق میں اس کا مطلب یہ ہے کہ محققین کو ہزاروں صفحات خود پڑھنے کے بجائے اے آئی کی مدد سے اہم نکات تک تیزی سے پہنچنے کا موقع مل سکتا ہے۔
پروگرام میں رجسٹریشن کرانے والوں کی تعداد 12,343 ہے، جو ایک قابل ذکر شرکت ہے۔ کیا یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا بھر کے محققین مصنوعی ذہانت کو اپنے کام کا حصہ بنانے کے لیے کتنے متجسس ہیں؟ ان میں سے دو تہائی سے زیادہ ماسٹرز یا ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی اس ٹیکنالوجی کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
شرکاء کا تعلق 100 ممالک سے ہے اور وہ یونیورسٹیوں، سرکاری اداروں، تحقیقی مراکز اور مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کیا یہ تنوع اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت کا موضوع کسی ایک خطے یا شعبے تک محدود نہیں؟ یہ شرکاء مملکت کے اندر اور باہر دونوں جگہوں سے ہیں، جس سے یہ پروگرام ایک بین الاقوامی علمی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
یہ پروگرام اے آئی ہفتہ کے تحت آن لائن جاری ہے، اور 2026 کو مصنوعی ذہانت کے سال کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس قسم کی نامزدگی کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ عام طور پر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی خاص موضوع پر توجہ مرکوز کر کے آگاہی بڑھائی جائے اور متعلقہ سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ اس تناظر میں یہ پروگرام مصنوعی ذہانت کے بارے میں علمی گفتگو کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
پروگرام کا مقصد سائنسی تحقیق میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینا اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق علمی وسائل کی معاونت کرنا ہے۔ کیا یہ مقصد صرف ٹیکنالوجی تک محدود ہے یا اس کے پیچھے علمی ترقی کا وسیع تر تصور ہے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ پروگرام علمی وسائل کی معاونت کے لیے ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو علم کے ساتھ جوڑنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
پروگرام جمعرات، 22 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس میں تین سائنسی سیشن شامل ہیں۔ پہلا سیشن سائنسی تحقیق میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ہے، دوسرا سیشن مخطوطات کی خدمت میں اس کے استعمال پر ہے، اور تیسرا سیشن مصنوعی ذہانت کے دور میں لائبریریوں کے مستقبل کا جائزہ لے گا۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مخطوطات کی خدمت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیسا ہو سکتا ہے؟ اس سے مراد قدیم اور نایاب متون کی ڈیجیٹل شناخت، درجہ بندی یا ان تک رسائی میں مدد ہو سکتی ہے۔
پروگرام کا اختتام ایک کھلے سیشن پر ہوگا جس میں اس شعبے میں متوقع تبدیلیوں پر بحث کی جائے گی۔ کیا یہ کھلا سیشن شرکاء کو اپنے خیالات اور تجربات بانٹنے کا موقع فراہم کرے گا؟ ایس پی اے کے مطابق یہ سیشن متوقع تبدیلیوں پر بحث کرے گا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پروگرام کا اختتامہ حصہ مستقبل کی سمتوں پر غور و فکر کے لیے وقف ہوگا۔
افتتاحی سیشن کے بعد پروگرام میں 12,343 محققین کی رجسٹریشن کو ایس پی اے نے نمایاں کیا۔ کیا یہ تعداد اس بات کا اشارہ ہے کہ آن لائن علمی پروگراموں کی مانگ بڑھ رہی ہے؟ یہ اعداد و شمار اس بات کو بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ہی موضوع پر دنیا بھر سے اتنی بڑی تعداد میں ماہرین اکٹھے ہو سکتے ہیں، جب رسائی آن لائن ہو۔
شرکاء میں دو تہائی سے زیادہ ماسٹرز یا ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں۔ کیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ مصنوعی ذہانت کو اپنے تحقیقی کام کا لازمی حصہ سمجھنے لگا ہے؟ یہ امر قابل غور ہے کہ رجسٹرڈ افراد میں صرف طلباء نہیں بلکہ تجربہ کار محققین بھی شامل ہیں، جو یونیورسٹیوں، سرکاری اداروں اور تحقیقی مراکز سے وابستہ ہیں۔
شرکاء کا تعلق 100 ممالک سے ہونا اس پروگرام کی بین الاقوامی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس طرح کے پروگرام مختلف ممالک کے محققین کے درمیان تعاون کے نئے راستے کھولیں؟ اگرچہ ایس پی اے نے تعاون کے کسی مخصوص معاہدے کا ذکر نہیں کیا، لیکن ایک ہی پلیٹ فارم پر اتنی متنوع شرکت خود ایک اہم علمی رابطہ ہے۔
پروگرام کا انعقاد اے آئی ہفتہ کے دوران ہو رہا ہے، جبکہ 2026 کو مصنوعی ذہانت کا سال قرار دیا گیا ہے۔ کیا یہ وقت بندی اتفاقی ہے یا اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی ہے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ پروگرام اے آئی ہفتہ کے حصے کے طور پر آن لائن جاری ہے، اور یہ سال کی نامزدگی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
سعودی وژن 2030 کے اہداف کا ذکر اس پروگرام کے مقاصد میں شامل ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وژن 2030 میں علمی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو کس طرح دیکھا جاتا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق پروگرام کا مقصد جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینا اور علمی وسائل کی معاونت کرنا ہے، جو وژن کے اہداف کے مطابق ہے۔
پروگرام کے تین سائنسی سیشنوں میں سے پہلا سائنسی تحقیق میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ہے۔ دوسرا مخطوطات کی خدمت میں اس کے استعمال پر ہے، اور تیسرا مصنوعی ذہانت کے دور میں لائبریریوں کے مستقبل پر۔ کیا یہ ترتیب کسی منطقی سفر کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عمومی استعمال سے لے کر مخصوص اطلاق اور پھر مستقبل کی طرف بڑھا جائے؟ ایس پی اے نے سیشنوں کی تفصیلات میں یہی موضوعات بیان کیے ہیں۔
اختتامی کھلے سیشن میں اس شعبے میں متوقع تبدیلیوں پر بحث ہوگی۔ کیا اس قسم کی بحث سے عملی سفارشات سامنے آ سکتی ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق یہ سیشن متوقع تبدیلیوں پر مرکوز ہوگا، تاہم رپورٹ میں اس کے نتائج یا سفارشات کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں پروگرام کے مقام، لاگت یا رجسٹریشن کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ سیشنز کے مقررین کون ہوں گے یا ان کی تعداد کتنی ہوگی۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ پروگرام آن لائن ہے اور 22 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق پروگرام میں 12,343 محققین نے رجسٹریشن کرائی، جن میں دو تہائی سے زیادہ ماسٹرز یا ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں۔ شرکاء 100 ممالک سے ہیں اور مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایس پی اے نے فراہم کیے، تاہم ان کی مزید تقسیم یا تفصیل دستیاب نہیں۔
پروگرام کا دوسرا سیشن سائنسی ماخذ پڑھنے کے لیے اے آئی ایجنٹس کے استعمال پر مرکوز تھا۔ ایس پی اے کے مطابق اس سیشن کا مقصد سائنسی تحقیق میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینا تھا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سیشن میں کون سے مخصوص اے آئی ایجنٹس یا اوزار زیر بحث آئے۔
مجموعی طور پر یہ پروگرام شاہ عبدالعزیز کمپلیکس برائے اوقاف لائبریریز کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے موضوع پر ایک آن لائن علمی کوشش ہے، جو اے آئی ہفتہ اور 2026 کے مصنوعی ذہانت کے سال کے ساتھ منسلک ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ پروگرام کے بعد کوئی تسلسل یا مزید سرگرمیاں متوقع ہیں یا نہیں۔
پروگرام میں کتنے محققین نے رجسٹریشن کرائی اور وہ کہاں سے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق افتتاحی سیشن کے بعد اس پروگرام میں 100 ممالک سے 12,343 محققین نے رجسٹریشن کرائی۔ ان میں دو تہائی سے زیادہ ماسٹرز یا ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں۔ شرکاء یونیورسٹیوں، سرکاری اداروں، تحقیقی مراکز اور مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جو مملکت کے اندر اور باہر دونوں جگہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
دوسرے سیشن کا موضوع کیا تھا؟ دوسرا سیشن سائنسی ماخذ پڑھنے کے لیے اے آئی ایجنٹس کے استعمال پر مرکوز تھا۔ ایس پی اے کے مطابق اس کا مقصد سائنسی تحقیق میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینا اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق علمی وسائل کی معاونت کرنا تھا۔ رپورٹ میں اس بات کی تفصیل نہیں دی گئی کہ سیشن میں کون سے مخصوص اے آئی ایجنٹس زیر بحث آئے۔
پروگرام کب تک جاری رہے گا اور اس میں کتنے سیشن ہیں؟ پروگرام جمعرات، 22 اکتوبر تک جاری رہے گا اور اس میں تین سائنسی سیشن شامل ہیں۔ یہ سیشن سائنسی تحقیق میں مصنوعی ذہانت، مخطوطات کی خدمت میں اس کے استعمال، اور مصنوعی ذہانت کے دور میں لائبریریوں کے مستقبل کا احاطہ کرتے ہیں۔ پروگرام کا اختتام ایک کھلے سیشن پر ہوگا جس میں اس شعبے میں متوقع تبدیلیوں پر بحث کی جائے گی۔
یہ پروگرام کس تناظر میں منعقد ہو رہا ہے؟ یہ پروگرام اے آئی ہفتہ کے تحت آن لائن جاری ہے، اور یہ 2026 کو مصنوعی ذہانت کے سال قرار دیے جانے کے موقع پر ہو رہا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ شاہ عبدالعزیز کمپلیکس برائے اوقاف لائبریریز کی جانب سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد سائنسی تحقیق میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینا اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق علمی وسائل کی معاونت کرنا ہے۔
کیا رپورٹ میں پروگرام کے مقررین یا مقام کا ذکر ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں پروگرام کے مقام، لاگت یا رجسٹریشن کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ سیشنز کے مقررین کون ہوں گے یا ان کی تعداد کتنی ہوگی۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ پروگرام آن لائن ہے، اے آئی ہفتہ کے حصے کے طور پر جاری ہے اور 22 اکتوبر تک جاری رہے گا۔