Thursday, October 29, 2026
سائنس

شہزادہ محمد بن سلمان رائل ریزرو نے شمسی توانائی پارک میں سینڈ گزیل کی افزائش کا عالمی پہلا تجربہ کیا

شہزادہ محمد بن سلمان رائل ریزرو نے شمسی توانائی پارک میں سینڈ گزیل کی افزائش کا عالمی پہلا تجربہ کیا

شہزادہ محمد بن سلمان رائل ریزرو نے 250 میگاواٹ کے شمسی توانائی کی سہولت کے اندر خطرے سے دوچار سینڈ گزیل کی افزائش کے پروگرام کے کامیاب آغاز کے ساتھ تحفظ اور جنگلی حیات کے تحفظ میں ایک نیا عالمی پہلا تجربہ حاصل کیا ہے۔ یہ اقدام قابل تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے ساتھ جوڑنے والا ایک اختراعی ماڈل ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 اکتوبر 2026 کو تبوک سے بیان کیا، اس اقدام کا نام ”ReWildingVoltaics“ رکھا گیا ہے اور یہ AMAALA Sustainable Company for Energy (ASCE) کے تعاون سے عمل میں آ رہا ہے۔ ASCE ایک کنسورشیم ہے جس میں EDF گروپ اور مصدر کے ساتھ SUEZ اور Korea East-West Power (EWP) شامل ہیں۔ شمسی سہولت 505 ہیکٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور ریڈ سی گلوبل کے AMAALA مقام کو 100 فیصد صاف توانائی فراہم کرتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا تھا کہ بجلی پیدا کرنے والا کوئی شمسی پارک جنگلی حیات کی افزائش کا گھر بھی بن سکتا ہے؟ یہ منصوبہ اکتوبر 2025 میں سینڈ گزیل، ماؤنٹین گزیل اور عربی خرگوش کے ساتھ شروع ہونے والی سات ماہ کی proof-of-concept مشق کے بعد مئی 2026 میں اپنے افزائش کے مرحلے میں داخل ہوا۔ اس مرحلے میں 33 مادہ اور پانچ نر خطرے سے دوچار سینڈ گزیل شمسی پلانٹ میں متعارف کرائے گئے۔

پہلی اولاد کے اس دسمبر میں آنے کی توقع ہے۔ ریزرو کے سائنسی خدمات کے شعبے کی آبادی کی ماڈلنگ کے مطابق ریوڑ 2031 تک تقریباً 600 تک بڑھ جائے گا۔ 24,500 مربع کلومیٹر پر پھیلے ریزرو میں کامیاب دوبارہ تعارف کے لیے کم از کم 500 کی بنیادی آبادی درکار ہے۔

کیا یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شمسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے اندر افزائش کا یہ ماڈل طویل مدتی میں خود کفیل ہو سکتا ہے؟ ریزرو کے سی ای او اینڈریو زالومس نے کہا: ”ہمارا ری وائلڈنگ ہدف ایسی خود کفیل جنگلی حیات کی آبادیاں بنانا ہے جو مسلسل انسانی مداخلت کے بغیر جنگل میں زندہ رہ سکیں۔ یہ باہمی تعاون صرف اس کام کو تیز نہیں کرتا بلکہ ایک نیا ’ڈبل گرین‘ فریم ورک بھی متعارف کراتا ہے جسے عالمی سطح پر پھیلایا جا سکتا ہے۔“

EDF گروپ میں سعودی عرب اور بحرین کے سی ای او عمر الدویش نے کہا: ”یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ قابل تجدید توانائی کا بنیادی ڈھانچہ صاف بجلی پیدا کرنے سے آگے بھی قدر پیدا کر سکتا ہے۔ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو ایک فعال شمسی سہولت میں لا کر ہم دکھا رہے ہیں کہ توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور فطرت ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ASCE کے ذریعے EDF اس میں تعاون کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔“

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ شمسی سہولت کس مقام کو توانائی فراہم کرتی ہے؟ یہ 505 ہیکٹر پر پھیلی ہوئی سہولت ریڈ سی گلوبل کے AMAALA مقام کو 100 فیصد صاف توانائی فراہم کرتی ہے، جبکہ اسی احاطے کے اندر سینڈ گزیل کی افزائش کا پروگرام بھی چل رہا ہے۔ یوں ایک ہی جگہ پر توانائی کی پیداوار اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ساتھ ساتھ جاری ہے۔

سات ماہ کی ابتدائی مشق میں سینڈ گزیل کے ساتھ ماؤنٹین گزیل اور عربی خرگوش بھی شامل تھے۔ اس مشق کے بعد مئی 2026 میں افزائش کا مرحلہ شروع ہوا، جس میں 33 مادہ اور پانچ نر سینڈ گزیل شمسی پلانٹ کے اندر متعارف کرائے گئے۔ یہ تعداد بتاتی ہے کہ پروگرام نے ابتدائی جانچ کے مرحلے سے آگے بڑھ کر حقیقی افزائش کی طرف قدم رکھا ہے۔

کیا خطرے سے دوچار نوع کی افزائش کے لیے شمسی پارک جیسی جگہ کا انتخاب حیران کن نہیں؟ ریزرو کے سائنسی خدمات کے شعبے کی ماڈلنگ کے مطابق ریوڑ 2031 تک تقریباً 600 تک پہنچ جائے گا، جبکہ کامیاب دوبارہ تعارف کے لیے کم از کم 500 کی بنیادی آبادی درکار ہے۔ یہ ہدف بتاتا ہے کہ منصوبہ صرف چند جانوروں کی افزائش تک محدود نہیں بلکہ ایک پائیدار آبادی کی تشکیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

پہلی اولاد کے اس دسمبر میں آنے کی توقع ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوگا جب اس پروگرام کی کامیابی کا عملی ثبوت سامنے آئے گا۔ کیا آپ اس بات کا تصور کر سکتے ہیں کہ شمسی پینلز کے درمیان چرنے والا گزیل کا ریوڑ کیسا نظر آئے گا؟ یہ منظر قابل تجدید توانائی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے باہمی تعاون کی ایک زندہ تصویر ہوگا۔

ریزرو کا رقبہ 24,500 مربع کلومیٹر ہے، اور اسی وسعت کی وجہ سے یہاں کامیاب دوبارہ تعارف کے لیے کم از کم 500 جانوروں کی بنیادی آبادی ضروری قرار دی گئی ہے۔ یہ پیمانہ ظاہر کرتا ہے کہ تحفظ کے منصوبے کس پیمانے پر سوچے جا رہے ہیں۔ کیا اتنی بڑی آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید ایسی سہولتوں کی ضرورت پڑے گی؟

اینڈریو زالومس کے مطابق ری وائلڈنگ کا مقصد ایسی خود کفیل جنگلی حیات کی آبادیاں بنانا ہے جو مسلسل انسانی مداخلت کے بغیر جنگل میں زندہ رہ سکیں۔ انہوں نے اس تعاون کو ’ڈبل گرین‘ فریم ورک قرار دیا جسے عالمی سطح پر پھیلایا جا سکتا ہے۔ یہ فریم ورک توانائی کی صفائی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو ایک ہی ڈھانچے میں سموتا ہے۔

عمر الدویش نے کہا کہ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ قابل تجدید توانائی کا بنیادی ڈھانچہ صاف بجلی پیدا کرنے سے آگے بھی قدر پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو ایک فعال شمسی سہولت میں لا کر یہ دکھایا جا رہا ہے کہ توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور فطرت ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں۔

ASCE کنسورشیم میں EDF گروپ اور مصدر کے ساتھ SUEZ اور Korea East-West Power شامل ہیں۔ یہ شراکت داری بتاتی ہے کہ یہ منصوبہ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ کئی بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون کا نتیجہ ہے۔ کیا بین الاقوامی شراکت داری اس ماڈل کی کامیابی کی کلید ہے؟

یہ پروگرام اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والی سات ماہ کی proof-of-concept مشق کے بعد مئی 2026 میں افزائش کے مرحلے میں داخل ہوا۔ اس عرصے میں سینڈ گزیل، ماؤنٹین گزیل اور عربی خرگوش کو شامل کیا گیا تھا۔ اس ابتدائی مشق نے یہ ثابت کیا کہ شمسی سہولت کے اندر یہ جانور زندہ رہ سکتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس پروگرام کا نام ”ReWildingVoltaics“ کیوں رکھا گیا؟ یہ نام ری وائلڈنگ اور وولٹائیکس کے امتزاج سے بنایا گیا ہے، جو جنگلی حیات کی بحالی اور شمسی توانائی کی پیداوار کے باہمی امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ نام ہی اس ماڈل کی پوری کہانی سنا دیتا ہے۔

ریزرو کے سائنسی خدمات کے شعبے کی آبادی کی ماڈلنگ کے مطابق ریوڑ 2031 تک تقریباً 600 تک بڑھ جائے گا۔ یہ پیش گوئی اس بات پر مبنی ہے کہ مئی 2026 میں متعارف کرائے گئے 33 مادہ اور پانچ نر جانوروں کی افزائش کس رفتار سے ہوگی۔ پہلی اولاد اس دسمبر میں متوقع ہے۔

کیا آپ سوچتے ہیں کہ یہ ماڈل دوسرے صحرائی ممالک کے لیے بھی قابل نقل ہو سکتا ہے؟ زالومس نے اسے عالمی سطح پر پھیلانے کے قابل فریم ورک قرار دیا، جبکہ الدویش نے کہا کہ توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور فطرت ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں۔ یہ دونوں بیانات اس ماڈل کی عالمی صلاحیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

شمسی سہولت 505 ہیکٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور ریڈ سی گلوبل کے AMAALA مقام کو 100 فیصد صاف توانائی فراہم کرتی ہے۔ یہی سہولت اب سینڈ گزیل کی افزائش کا میدان بھی ہے۔ ایک ہی زمین دو مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ شمسی سہولت کے اندر افزائش کے لیے کس قسم کے تحفظاتی انتظامات کیے گئے ہیں، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ پہلی اولاد کی صحت یا بقا کی شرح کے بارے میں کوئی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریوڑ کی منتقلی یا ریزرو میں دوبارہ تعارف کے شیڈول کی تفصیل بھی نہیں دی گئی۔

یہ پروگرام کس سہولت کے اندر چل رہا ہے؟ یہ پروگرام 250 میگاواٹ کے شمسی توانائی کی سہولت کے اندر چل رہا ہے جو 505 ہیکٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور ریڈ سی گلوبل کے AMAALA مقام کو 100 فیصد صاف توانائی فراہم کرتی ہے۔ اس اقدام کا نام ”ReWildingVoltaics“ ہے اور یہ AMAALA Sustainable Company for Energy (ASCE) کے تعاون سے عمل میں آ رہا ہے، جس میں EDF گروپ، مصدر، SUEZ اور Korea East-West Power شامل ہیں۔

افزائش کے مرحلے میں کتنے جانور متعارف کرائے گئے؟ مئی 2026 میں افزائش کے مرحلے کے آغاز پر 33 مادہ اور پانچ نر خطرے سے دوچار سینڈ گزیل شمسی پلانٹ میں متعارف کرائے گئے۔ یہ مرحلہ اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والی سات ماہ کی proof-of-concept مشق کے بعد شروع ہوا، جس میں سینڈ گزیل، ماؤنٹین گزیل اور عربی خرگوش شامل تھے۔ پہلی اولاد کے اس دسمبر میں آنے کی توقع ہے۔

آبادی کے بارے میں کیا پیش گوئی کی گئی ہے؟ ریزرو کے سائنسی خدمات کے شعبے کی آبادی کی ماڈلنگ کے مطابق ریوڑ 2031 تک تقریباً 600 تک بڑھ جائے گا۔ 24,500 مربع کلومیٹر پر پھیلے ریزرو میں کامیاب دوبارہ تعارف کے لیے کم از کم 500 کی بنیادی آبادی درکار ہے۔ یہ ہدف بتاتا ہے کہ منصوبہ چند جانوروں کی افزائش سے آگے بڑھ کر ایک پائیدار آبادی کی تشکیل کی طرف گامزن ہے۔

ریزرو کے سی ای او نے کیا کہا؟ ریزرو کے سی ای او اینڈریو زالومس نے کہا کہ ہمارا ری وائلڈنگ ہدف ایسی خود کفیل جنگلی حیات کی آبادیاں بنانا ہے جو مسلسل انسانی مداخلت کے بغیر جنگل میں زندہ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ باہمی تعاون اس کام کو تیز کرتا ہے اور ایک نیا ’ڈبل گرین‘ فریم ورک متعارف کراتا ہے جسے عالمی سطح پر پھیلایا جا سکتا ہے۔

EDF گروپ کے اہلکار نے کیا بیان دیا؟ EDF گروپ میں سعودی عرب اور بحرین کے سی ای او عمر الدویش نے کہا کہ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ قابل تجدید توانائی کا بنیادی ڈھانچہ صاف بجلی پیدا کرنے سے آگے بھی قدر پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو ایک فعال شمسی سہولت میں لا کر دکھایا جا رہا ہے کہ توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور فطرت ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں۔

ابتدائی مشق میں کون سی انواع شامل تھیں؟ اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والی سات ماہ کی proof-of-concept مشق میں سینڈ گزیل، ماؤنٹین گزیل اور عربی خرگوش شامل تھے۔ اس مشق نے یہ ثابت کیا کہ یہ جانور شمسی سہولت کے اندر زندہ رہ سکتے ہیں، جس کے بعد مئی 2026 میں افزائش کا مرحلہ شروع ہوا۔ اس مرحلے میں 33 مادہ اور پانچ نر سینڈ گزیل متعارف کرائے گئے۔