Sunday, October 18, 2026
سائنس

طویق اکیڈمی اور مسک اسکلز کا ایکسپو 2030 ریاض چیلنج اختتام پذیر، 80 سے زائد ٹیمیں شامل

طویق اکیڈمی اور مسک اسکلز کا ایکسپو 2030 ریاض چیلنج اختتام پذیر، 80 سے زائد ٹیمیں شامل

ریاض میں طویق اکیڈمی نے ایکسپو 2030 ریاض چیلنج کا اختتام کیا، یہ تین روزہ ایونٹ 15 سے 17 اکتوبر تک اکیڈمی کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوا، جس میں 80 سے زائد ٹیموں نے شرکت کی اور 100 سے زائد ججز اور مینٹرز نے ان کی معاونت کی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ چیلنج مسک اسکلز کے ساتھ شراکت داری میں منعقد ہوا، جو محمد بن سلمان فاؤنڈیشن (مسک) کا ایک پروگرام ہے، اور اس میں ایکسپو 2030 ریاض بھی شریک تھا۔

ایونٹ میں شریک ٹیموں نے ایکسپو 2030 ریاض سے متعلق حقیقی دنیا کے چیلنجز کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی حل تیار کیے۔ یہ چیلنج نہ صرف ایک مقابلہ تھا بلکہ اس کا مقصد شرکاء کو عملی مسائل سے جوڑنا اور ان کی صلاحیتوں کو حقیقی منصوبوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا تھا۔ کیا یہ حقیقت ہے کہ سعودی نوجوانوں کی ٹیکنالوجی صلاحیتوں کو اس طرح کے پلیٹ فارمز پر آزمانا انہیں عالمی معیار کے لیے تیار کرتا ہے؟

طویق اکیڈمی کے سی ای او عبدالعزیز الحمادی نے کہا کہ یہ شراکت داری تعلیم کو حقیقی دنیا کے چیلنجز سے جوڑنے اور سعودی ٹیلنٹ کو لیبر مارکیٹ کے لیے تیار کرنے میں مدد کرتی ہے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایونٹ کا مقصد صرف مقابلہ جیتنا نہیں بلکہ شرکاء کی مہارتوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نکھارنا تھا۔ کیا اس طرح کی شراکت داریاں سعودی عرب میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہنر کی کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں؟

یہ چیلنج “Immersive” پروگرام کے اختتام کی علامت تھا، جو نمایاں شرکاء کو روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کا ہدف یونیورسٹی گریجویٹس تھے اور اس میں ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت، ڈرونز، سائبر سیکیورٹی، ورچوئل ورلڈز اور گیم ڈیولپمنٹ، میکیٹرونکس انجینئرنگ، اور یوزر ایکسپیرینس جیسے مخصوص شعبے شامل تھے۔

یہ چھ مخصوص ٹریکس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سعودی عرب کس طرح ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والے نوجوانوں کی تربیت پر توجہ دے رہا ہے۔ ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت آج کے دور کی سب سے زیادہ مانگ والی مہارتوں میں شمار ہوتی ہیں، جبکہ ڈرونز اور سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں بھی عالمی سطح پر ماہرین کی کمی ہے۔ کیا یہ ٹریکس سعودی نوجوانوں کو عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں مسابقتی بنانے کے لیے کافی ہیں؟

ورچوئل ورلڈز اور گیم ڈیولپمنٹ کا شعبہ سعودی عرب میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اور اس میں مقامی ٹیلنٹ کی تربیت سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ تفریحی صنعت میں بھی خود کفالت بڑھے گی۔ میکیٹرونکس انجینئرنگ اور یوزر ایکسپیرینس جیسے شعبے صنعتی اور ڈیجیٹل شعبوں کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں۔ کیا ان شعبوں میں تربیت یافتہ نوجوان سعودی عرب کی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد بن سکتے ہیں؟

ایونٹ میں 100 سے زائد ججز اور مینٹرز کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس چیلنج کو پیشہ ورانہ انداز میں منظم کیا گیا۔ مینٹرز کی رہنمائی سے شرکاء کو نہ صرف تکنیکی مدد ملی بلکہ انہیں حقیقی دنیا کے منصوبوں کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا موقع بھی ملا۔ کیا یہ ماڈل مستقبل میں دیگر سعودی ٹیکنالوجی مقابلوں کے لیے نمونہ بن سکتا ہے؟

ایکسپو 2030 ریاض کے ساتھ اس چیلنج کی وابستگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ عالمی ایونٹ کس طرح مقامی ٹیلنٹ کی ترقی کا پلیٹ فارم بن رہا ہے۔ ایکسپو 2030 ریاض 1 اکتوبر 2030 سے 31 مارچ 2031 تک 6 ملین مربع میٹر پر “Foresight for Tomorrow” کے تھیم کے ساتھ منعقد ہوگا، اور اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی حل تیار کرنا ایک اہم ضرورت ہے۔ کیا اس طرح کے چیلنجز ایکسپو کے دوران پیش کی جانے والی اختراعات کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں؟

مسک اسکلز کے ساتھ شراکت داری اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ تربیتی پروگراموں کا معیار بلند رہے اور شرکاء کو عملی تجربہ ملے۔ مسک، محمد بن سلمان فاؤنڈیشن کا پروگرام، نوجوانوں کی مہارتوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دیتا ہے، اور اس کا طویق اکیڈمی کے ساتھ تعاون تعلیم اور صنعت کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ کیا یہ تعاون سعودی عرب کے وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو رہا ہے؟

طویق اکیڈمی کا یہ چیلنج تین روز تک جاری رہا، جس میں شرکاء نے اپنے آئیڈیاز کو عملی شکل دینے پر کام کیا۔ اس دوران ٹیموں نے نہ صرف تکنیکی مہارتیں سیکھیں بلکہ ٹیم ورک، وقت کے انتظام اور دباؤ میں کام کرنے جیسی صلاحیتیں بھی نکھاریں۔ کیا یہ نرم مہارتیں بھی سعودی لیبر مارکیٹ میں اتنی ہی اہم ہیں جتنی تکنیکی مہارتیں؟

“Immersive” پروگرام کا اختتام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ایک طویل المدتی تربیتی سلسلہ تھا جس کا مقصد شرکاء کو روزگار کے قابل بنانا تھا۔ نمایاں شرکاء کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ تربیت کا ثمرہ عملی شکل میں سامنے آئے۔ کیا اس طرح کے پروگرام سعودی عرب میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانے میں مددگار ہیں؟

ایونٹ کے اختتام پر کسی مخصوص ٹیم کے جیتنے کا ذکر ایس پی اے کی رپورٹ میں نہیں ہے، نہ ہی انعامات کی رقم یا دیگر تفصیلات دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں شرکاء کی کل تعداد، ججز اور مینٹرز کی تعداد، اور پروگرام کے ٹریکس کا ذکر ہے، لیکن اس کے علاوہ کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ کیا اس طرح کی تفصیلات کی عدم موجودگی مستقبل میں اس ایونٹ کی کامیابی کا جائزہ لینے میں رکاوٹ بن سکتی ہے؟

سعودی عرب میں ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبے میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور اس طرح کے چیلنجز اس رجحان کا حصہ ہیں۔ طویق اکیڈمی اور مسک اسکلز کا یہ تعاون اس بات کا مظاہرہ ہے کہ ملک میں تعلیمی ادارے اور فاؤنڈیشنز مل کر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ کیا یہ ماڈل دیگر عرب ممالک کے لیے بھی قابل تقلید ہے؟

ایکسپو 2030 ریاض کے چیلنجز سے متعلق ٹیکنالوجی حل تیار کرنا شرکاء کے لیے ایک منفرد موقع تھا، کیونکہ انہیں ایسے مسائل پر کام کرنا تھا جو مستقبل قریب میں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنیں گے۔ اس سے ان کی سوچ میں وسعت آئی اور انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کرنے کا تجربہ ملا۔ کیا اس طرح کے تجربات سعودی نوجوانوں کو عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں ملازمت کے لیے تیار کرتے ہیں؟

رپورٹ کے مطابق، ایونٹ کا انعقاد طویق اکیڈمی کے ہیڈ کوارٹر میں ہوا، جہاں شرکاء نے تین دن تک اپنے منصوبوں پر کام کیا۔ یہ مقام اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب میں ٹیکنالوجی کے لیے مخصوص سہولیات موجود ہیں اور انہیں اس طرح کے مقابلوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیا ان سہولیات کی دستیابی سعودی عرب کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں علاقائی مرکز بنانے میں مدد دے گی؟

مجموعی طور پر، یہ چیلنج سعودی عرب میں ٹیکنالوجی اور جدت کے فروغ کی ایک کڑی ہے، جس میں تعلیمی ادارے، فاؤنڈیشنز اور عالمی ایونٹس کے منتظمین مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف شرکاء کی مہارتیں بڑھیں بلکہ انہیں روزگار کے مواقع بھی ملے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ چیلنج کے دوران کون سے مخصوص مسائل حل کیے گئے یا کون سی ٹیکنالوجیز استعمال ہوئیں، جو اس خبر کی مزید تفصیل کے خواہاں قارئین کے لیے ایک خلا ہے۔

ایکسپو 2030 ریاض چیلنج کیا تھا اور اس کا انعقاد کب ہوا؟ یہ ایک تین روزہ ایونٹ تھا جس کا انعقاد طویق اکیڈمی نے اپنے ہیڈ کوارٹر میں 15 سے 17 اکتوبر تک کیا۔ اس کا اہتمام مسک اسکلز، جو محمد بن سلمان فاؤنڈیشن (مسک) کا پروگرام ہے، اور ایکسپو 2030 ریاض کے ساتھ شراکت داری میں ہوا۔ ایونٹ میں 80 سے زائد ٹیموں نے شرکت کی اور 100 سے زائد ججز اور مینٹرز نے ان کی رہنمائی کی۔ شرکاء نے ایکسپو 2030 ریاض سے متعلق حقیقی دنیا کے چیلنجز کے لیے جدید ٹیکنالوجی حل تیار کیے۔

طویق اکیڈمی کے سی ای او نے اس شراکت داری کے بارے میں کیا کہا؟ طویق اکیڈمی کے سی ای او عبدالعزیز الحمادی نے کہا کہ یہ شراکت داری تعلیم کو حقیقی دنیا کے چیلنجز سے جوڑنے اور سعودی ٹیلنٹ کو لیبر مارکیٹ کے لیے تیار کرنے میں مدد کرتی ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایونٹ کا مقصد شرکاء کی مہارتوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نکھارنا تھا۔ یہ چیلنج صرف مقابلہ نہیں بلکہ عملی تربیت کا ذریعہ تھا، جس میں شرکاء نے حقیقی مسائل پر کام کیا۔

“Immersive” پروگرام کیا تھا اور اس میں کون سے شعبے شامل تھے؟ “Immersive” ایک پروگرام تھا جس کا اختتام اس چیلنج کے ساتھ ہوا اور جو نمایاں شرکاء کو روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس کا ہدف یونیورسٹی گریجویٹس تھے اور اس میں چھ مخصوص ٹریکس شامل تھے: ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت، ڈرونز، سائبر سیکیورٹی، ورچوئل ورلڈز اور گیم ڈیولپمنٹ، میکیٹرونکس انجینئرنگ، اور یوزر ایکسپیرینس۔ یہ ٹریکس سعودی عرب میں ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں مہارت کی تربیت پر زور دیتے ہیں۔

اس چیلنج میں کتنی ٹیموں اور معاونین نے حصہ لیا؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، چیلنج میں 80 سے زائد ٹیموں نے شرکت کی، جبکہ 100 سے زائد ججز اور مینٹرز نے ان کی معاونت کی۔ ٹیموں نے ایکسپو 2030 ریاض سے متعلق حقیقی دنیا کے چیلنجز کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی حل تیار کیے۔ ججز اور مینٹرز کی بڑی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ ایونٹ کو پیشہ ورانہ انداز میں منظم کیا گیا اور شرکاء کو مناسب رہنمائی فراہم کی گئی۔

کیا اس چیلنج کے انعقاد کا مقام اور شراکت داروں کا کوئی ذکر ہے؟ جی ہاں، چیلنج کا انعقاد طویق اکیڈمی کے ہیڈ کوارٹر میں ہوا، جو ریاض میں واقع ہے۔ اس کا اہتمام طویق اکیڈمی نے مسک اسکلز اور ایکسپو 2030 ریاض کے ساتھ شراکت داری میں کیا۔ یہ شراکت داری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب میں تعلیمی ادارے، فاؤنڈیشنز اور عالمی ایونٹس کے منتظمین مل کر نوجوانوں کی ٹیکنالوجی مہارتوں کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

کیا رپورٹ میں جیتنے والی ٹیموں یا انعامات کا ذکر ہے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں جیتنے والی ٹیموں، انعامات کی رقم یا دیگر تفصیلات کا ذکر نہیں ہے۔ رپورٹ میں صرف شرکاء کی تعداد، ججز اور مینٹرز کی تعداد، پروگرام کے ٹریکس، اور سی ای او کے بیان کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ چیلنج کے دوران حل کیے گئے مخصوص مسائل یا استعمال شدہ ٹیکنالوجیز کے بارے میں بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔