مدینہ منورہ میں انٹرنیشنل کانفرنس آن ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ انوویشن فار سسٹین ایبلٹی (SusTAIN 2026) کا آغاز ہو گیا ہے، جس کی سرپرستی مدینہ کے گورنر شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز نے کی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس کانفرنس کا اہتمام یونیورسٹی آف پرنس مگရင် نے کیا ہے۔ کیا جدید ٹیکنالوجی پائیداری کے عالمی اہداف کو حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے؟
یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر بندر ہجار نے اپنے کلیدی خطاب میں واضح کیا کہ تین روزہ کانفرنس کی توجہ پائیداری پر مرکوز ہے کیونکہ یہ یونیورسٹی کی تعلیمی ترجیحات بشمول مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر سیکیورٹی اور انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ سعودی ویژن 2030 کے مقاصد اور فوری عالمی چیلنجز سے ہم آہنگ ہے۔ کیا ہم عالمی سطح پر درپیش پیچیدہ مسائل کا حل نکالنے کے لیے تیار ہیں؟ ڈاکٹر ہجار نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی حفاظت اور شہری انتظام جیسے باہم جڑے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے کثیر الشعبہ سائنسی تعاون اور سرحدوں سے بالاتر شراکت داری کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر ہجار نے پائیداری میں جدت کے لیے ایک عالمی شہروں کے نیٹ ورک کے قیام کے اقدام کا اعلان کیا، جسے بین الاقوامی سائنسدانوں، موجدین اور فیصلہ سازوں کو جوڑنے والے ایک اشتراکی پلیٹ فارم کے طور پر تصور کیا گیا ہے۔ کیا ایسا نیٹ ورک عالمی تعاون کے نئے دروازے کھولے گا؟ انہوں نے مدینہ منورہ کو ایک بین الاقوامی علمی اور سائنسی مرکز کے طور پر پیش کرنے کے مشن پر روشنی ڈالی، جسے عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری اور 39 قومیتوں پر مشتمل طلباء کے گروپ سے تقویت مل رہی ہے۔
تقریب میں ریاض میں واقع یونیسکو سے وابستہ انٹرنیشنل سینٹر فار AI ریسرچ اینڈ ایتھکس کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ماجد الشهری نے بھی خطاب کیا۔ کیا مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال معاشرتی اثرات کو بہتر بنا سکتا ہے؟ انہوں نے قابل پیمائش معاشرتی اثرات پیدا کرنے کے لیے ذمہ دارانہ AI کے نفاذ کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
رپورٹ میں کانفرنس کے مخصوص سیشنز، شرکاء کی کل تعداد یا کسی مالیاتی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا۔
SusTAIN 2026 کانفرنس کا مقصد کیا ہے؟ اس کانفرنس کا مقصد پائیداری کے لیے ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ میں جدت پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ یہ یونیورسٹی آف پرنس مگရင် کی تعلیمی ترجیحات جیسے مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ سعودی ویژن 2030 کے مقاصد اور عالمی چیلنجز سے ہم آہنگ ہے۔
ڈاکٹر بندر ہجار نے کس نئے اقدام کا اعلان کیا؟ ڈاکٹر بندر ہجار نے پائیداری میں جدت کے لیے ایک عالمی شہروں کے نیٹ ورک کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم بین الاقوامی سائنسدانوں، موجدین اور فیصلہ سازوں کو آپس میں جوڑے گا تاکہ مشترکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
مدینہ منورہ کو کس حیثیت میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ یونیورسٹی کا مشن مدینہ منورہ کو ایک بین الاقوامی علمی اور سائنسی مرکز بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی جا رہی ہے اور یہاں 39 مختلف قومیتوں کے طلباء موجود ہیں۔