جدہ میں King Abdullah University of Science and Technology (KAUST) کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق کے ذریعے اس لمحے کو محفوظ کیا ہے جب DNA کھلنا شروع ہوتا ہے، جو DNA ریپلیکیشن کے تمام بعد میں آنے والے واقعات کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔ یہ براہ راست مشاہدہ ان بنیادی میکانزموں پر روشنی ڈالتا ہے جو خلیات کو اپنے جینیاتی مواد کی نقل تیار کرنے کے قابل بناتے ہیں، جو کہ نشوونما اور افزائش کے لیے ضروری ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 25 مارچ 2025 کو بیان کیا، Nature میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی قیادت KAUST کے اسسٹنٹ پروفیسر Alfredo De Biasio اور پروفیسر Samir Hamdan نے کی۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایٹمی سطح پر زندگی کے بنیادی کوڈ کو کھلتے ہوئے دیکھنا کتنا پیچیدہ عمل ہوگا؟ ریسرچ ٹیم نے Simian Virus 40 Large Tumor Antigen نامی ہیلیکیس (helicase) اینزائم کے DNA کے ساتھ تعامل کا مشاہدہ کرنے کے لیے cryo-electron microscopy (cryo-EM) اور ڈیپ لرننگ تکنیکوں کا استعمال کیا۔
اس تحقیق نے DNA ریپلیکیشن کے بالکل ابتدائی مراحل کی سب سے مفصل تفصیل فراہم کی ہے، جس میں 15 ایٹمی حالتوں (atomic states) کی نشاندہی کی گئی ہے جو یہ واضح کرتی ہیں کہ ہیلیکیس کس طرح DNA کو کھلنے پر مجبور کرتا ہے۔ کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ ایک ننھا سا اینزائم اتنی درستگی سے کام کرتا ہے؟ پریس ریلیز کے مطابق، یہ کامیابی نہ صرف ہیلیکیس کی تحقیق میں ایک سنگ میل ہے، بلکہ ایٹمی ریزولوشن پر کسی بھی اینزائم کی حرکیات کے مشاہدے میں بھی ایک بڑی پیش رفت ہے۔
عمل کے دوران، جب ہیلیکیس DNA سے جڑتے ہیں، تو وہ اسے پگھلا دیتے ہیں، جس سے ڈبل ہیلکس کو ایک ساتھ رکھنے والے کیمیائی بانڈز ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ دونوں رشتوں (strands) کو الگ کرتے ہیں، جس سے دوسرے اینزائموں کے لیے ریپلیکیشن مکمل کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ کیا ہم اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ اس پہلے قدم کے بغیر DNA کی نقل تیار کرنا ناممکن ہے؟ اسی وجہ سے ہیلیکیس کو مشینیں یا ان کے چھوٹے سائز کی وجہ سے نینو مشینز کہا جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ دریافت ہوا کہ جیسے جیسے adenosine triphosphate (ATP) استعمال ہوتا ہے، یہ ان جسمانی رکاوٹوں کو کم کرتا ہے جو ہیلیکیس کو DNA کے ساتھ آگے بڑھنے کی اجازت دیتی ہیں، جس سے ڈبل اسٹرینڈ مزید کھلتا جاتا ہے۔ کیا ATP کا استعمال محض ایک کیمیائی عمل ہے یا ایک پیچیدہ سوئچ؟ ATP کا استعمال ایک سوئچ کے طور پر کام کرتا ہے جو سسٹم میں اینٹروپی یا بے ترتیبی کی مقدار کو بڑھاتا ہے، جس سے ہیلیکیس DNA کے ساتھ حرکت کرنے کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔
Alfredo De Biasio نے وضاحت کی کہ ہیلیکیس ATP کو ایک ہی حرکت میں DNA کو الگ کرنے کے لیے استعمال نہیں کرتا، بلکہ یہ ایسی ساختی تبدیلیوں (conformational changes) کے چکر سے گزرتا ہے جو بتدریج رشتوں کو غیر مستحکم اور الگ کر دیتے ہیں۔ کیا یہ میکانزم مستقبل کی جینیاتی علاج کی بنیاد بن سکتا ہے؟ اس مطالعے نے ان باریک تبدیلیوں کو ایٹمی سطح پر واضح کیا ہے جو زندگی کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔
KAUST کے سائنسدانوں کی اس دریافت نے جینیاتی مواد کی نقل کے عمل کو سمجھنے کے لیے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیپ لرننگ اور جدید مائکروسکوپی کے ملاپ نے ان حقائق کو سامنے لایا ہے جو پہلے پوشیدہ تھے۔ کیا سائنس اب زندگی کے ان گمنام رازوں کو مکمل طور پر بے نقاب کرنے کے قریب ہے؟
KAUST کے سائنسدانوں نے DNA کے بارے میں کیا دریافت کیا؟ سائنسدانوں نے اس لمحے کا مشاہدہ کیا جب DNA کھلنا شروع ہوتا ہے، جو ریپلیکیشن کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے 15 ایٹمی حالتوں کی تفصیل فراہم کی جو بتاتی ہیں کہ ہیلیکیس اینزائم کس طرح DNA کو کھولنے پر مجبور کرتا ہے۔
اس تحقیق میں کن تکنیکوں کا استعمال کیا گیا؟ تحقیق کی قیادت پروفیسر Alfredo De Biasio اور پروفیسر Samir Hamdan نے کی۔ انہوں نے Simian Virus 40 Large Tumor Antigen کے مشاہدے کے لیے cryo-electron microscopy (cryo-EM) اور ڈیپ لرننگ تکنیکوں کا استعمال کیا۔
ہیلیکیس (helicase) اینزائم کا کیا کام ہے؟ ہیلیکیس نینو مشینز کی طرح کام کرتے ہیں جو DNA کے ڈبل ہیلکس کو رکھنے والے کیمیائی بانڈز کو توڑ کر اسے پگھلا دیتے ہیں۔ یہ دونوں رشتوں کو الگ کرتے ہیں تاکہ دیگر اینزائم ریپلیکیشن مکمل کر سکیں۔