ریڈ سی گلوبل (RSG) نے تبوک کے علاقے میں کمیونٹی ترقیاتی اقدامات کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جس میں ریڈ سی فارمز کوآپریٹو ‘تمالا’ کے ذریعے 300 کسانوں کو فائدہ پہنچانے اور تقریباً 44,000 کلوگرام زرعی فصلوں کی پیداوار کا امکان شامل ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 23 مارچ 2025 کو بیان کیا، یہ اقدامات کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے دن کے موقع پر سامنے آئے ہیں، جو ریڈ سی کے رہائشیوں کو بااختیار بنانے کی کمپنی کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کرتے ہیں۔
RSG نے ریڈ سی کے علاقے میں چار اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کی ہیں، نیز کئی ترقیاتی اقدامات کا آغاز کیا ہے جن کا مقصد ریڈ سی کے رہائشیوں کو RSG کے پائیدار ترقیاتی وژن میں شامل کرنا ہے۔ ان کوششوں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ خطے کے افراد اور خاندانوں پر دیرپا مثبت اثرات مرتب ہوں۔ کیا کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ کامیاب ہو سکتا ہے؟
ایک پریس ریلیز کے مطابق، سب سے اہم اقدامات میں سے ایک ریڈ سی فارمز کوآپریٹو ہے، جسے ‘تمالا’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا مقصد تبوک کے علاقے میں زرعی شعبے کو ترقی دینا ہے، جس میں زرعی مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانا اور کسانوں کو رہنمائی اور آگاہی کی خدمات فراہم کرنا شامل ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں، 300 تک کسانوں کو بہتر پیداوار سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے، جس سے تقریباً 44,000 کلوگرام زرعی فصلیں حاصل ہوتی ہیں۔
RSG نے ‘جوار’ بھی شروع کیا ہے، جو ایک ڈیجیٹل ایپ ہے جو کمیونٹی کی شمولیت کو بڑھاتی ہے۔ خاص طور پر ریڈ سی کمیونٹی کے لیے ڈیزائن کی گئی یہ ایپ افراد کے درمیان براہ راست رابطے کی سہولت فراہم کرتی ہے، ساتھ ہی ملازمت کے مواقع اور تعلیمی پروگرام بھی پیش کرتی ہے۔ جوار کو 2024 کے TDM ٹریول ٹریڈ ایکسیلنس ایوارڈز میں ‘بہترین کمیونٹی انگیجمنٹ پروگرام’ کے طور پر تسلیم کیا گیا اور اس نے 30,000 سے زیادہ صارفین کے ساتھ نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جس سے مقامی رہائشیوں کے لیے 180 ملازمت کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ کیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز روایتی روزگار کے راستوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں؟
مقامی رہائشیوں کی مہارتوں کو بڑھانے اور انہیں ملازمت کی منڈی کے لیے تیار کرنے کی اپنی کوششوں کے حصے کے طور پر، RSG نے ‘انگلش فار ٹورازم پروگرام’ شروع کیا ہے، جو چھ ماہ تک آن لائن زبان کی کلاسیں فراہم کرتا ہے۔ یہ اقدام مقامی کمیونٹی کی مہارتوں کو فروغ دینے اور ان کی پرورش کرنے کے RSG کے وژن کے مطابق ہے۔ اس پروگرام سے کل 2,000 نوجوان گریجویٹ ہوئے۔
یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے تیز رفتار ترقی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں، جہاں بڑے سیاحتی منصوبے مقامی آبادی کی روزگار، مہارت اور معاش پر براہ راست اثر ڈال رہے ہیں۔ RSG کی جانب سے چار اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمپنی صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تک محدود نہیں رہنا چاہتی، بلکہ مقامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ کیا بڑے ترقیاتی منصوبوں کو مقامی شراکت داریوں کے بغیر پائیدار بنایا جا سکتا ہے؟
تمالا کوآپریٹو کی صورت میں، تبوک کے علاقے کے کسانوں کو نہ صرف پیداوار بڑھانے میں مدد مل رہی ہے بلکہ انہیں رہنمائی اور آگاہی خدمات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ 300 کسانوں تک رسائی اور 44,000 کلوگرام زرعی فصلوں کی متوقع پیداوار اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ اقدام کس طرح زرعی شعبے میں معیار اور مقدار دونوں کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ زرعی شعبے میں اس قسم کی مدد طویل مدت میں خوراک کی حفاظت اور مقامی معیشت کے استحکام میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟
جوار ایپ کی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل ٹولز کمیونٹی کی شمولیت میں کس طرح تبدیلی لا سکتے ہیں۔ 30,000 سے زیادہ صارفین اور 180 ملازمت کے مواقع اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایپ نہ صرف رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ روزگار کا پلیٹ فارم بھی بن چکی ہے۔ 2024 کے TDM ٹریول ٹریڈ ایکسیلنس ایوارڈز میں ‘بہترین کمیونٹی انگیجمنٹ پروگرام’ کا اعزاز اس کی افادیت کو مزید تقویت دیتا ہے۔ کیا ایسی ایپس روایتی کمیونٹی رابطوں کی جگہ لے سکتی ہیں یا وہ ان کا متبادل نہیں بن سکتیں؟
انگلش فار ٹورازم پروگرام کے تحت چھ ماہ تک آن لائن زبان کی کلاسیں فراہم کی گئیں، جن سے 2,000 نوجوان گریجویٹ ہوئے۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مقامی نوجوانوں میں سیاحت کے شعبے کے لیے مہارت حاصل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ آن لائن کلاسوں کا انتخاب اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ دور دراز علاقوں میں تعلیم کی رسائی کو آسان بنانا RSG کی ترجیحات میں شامل ہے۔ کیا آن لائن تعلیم روایتی کلاس روم کی تعلیم کا مؤثر متبادل ثابت ہو رہی ہے؟
RSG کے ان اقدامات کا مجموعی مقصد ریڈ سی کے رہائشیوں کو کمپنی کے پائیدار ترقیاتی وژن میں ضم کرنا ہے۔ یہ وژن صرف ماحولیاتی پہلوؤں تک محدود نہیں بلکہ سماجی اور معاشی پہلوؤں کو بھی محیط ہے۔ چار اسٹریٹجک شراکت داریاں، زرعی کوآپریٹو، ڈیجیٹل ایپ اور زبان کا پروگرام، یہ سب ایک ہی سمت میں کام کرتے نظر آتے ہیں۔ کیا یہ کثیر الجہتی نقطہ نظر طویل مدتی سماجی تبدیلی لا سکتا ہے؟
یہ بات قابل غور ہے کہ یہ اقدامات کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے دن کے موقع پر سامنے آئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ کمپنی اس دن کو صرف رسمی طور پر نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے منا رہی ہے۔ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ان کوششوں کا مقصد خطے کے افراد اور خاندانوں پر دیرپا مثبت اثرات مرتب کرنا ہے۔ کیا کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے پروگراموں کو سالانہ دنوں تک محدود رکھنا چاہیے یا انہیں مسلسل جاری رہنا چاہیے؟
تبوک کا علاقہ، جہاں یہ اقدامات شروع کیے گئے ہیں، سعودی عرب کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں کی مقامی آبادی کی ایک بڑی تعداد زراعت، ماہی گیری اور سیاحت سے وابستہ ہے۔ RSG کی جانب سے زرعی کوآپریٹو اور سیاحتی زبان کے پروگرام جیسے اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ترقی کے ثمرات مقامی معیشت کے مختلف شعبوں تک پہنچیں۔ کیا سیاحت اور زراعت جیسے مختلف شعبوں کو ایک ساتھ ترقی دینا ممکن ہے؟
جوار ایپ کے ذریعے 180 ملازمت کے مواقع پیدا کرنا اس بات کا مظاہرہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو براہ راست روزگار سے جوڑا جا سکتا ہے۔ ایپ کے 30,000 صارفین کی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مقامی کمیونٹی ڈیجیٹل حل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایوارڈ کی صورت میں ملنے والی پہچان اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ماڈل دوسرے علاقوں کے لیے بھی قابل تقلید ہو سکتا ہے۔ کیا دوسرے علاقے بھی اس ماڈل کو اپنا سکتے ہیں؟
انگلش فار ٹورازم پروگرام کے تحت 2,000 نوجوانوں کا گریجویشن اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مقامی افرادی قوت کو سیاحت کے شعبے کے لیے تیار کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ چھ ماہ کی آن لائن کلاسیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ شرکاء اپنی روزمرہ مصروفیات کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں۔ یہ لچکدار ماڈل خاص طور پر ان علاقوں میں اہم ہے جہاں تعلیمی اداروں تک رسائی محدود ہو۔ کیا لچکدار تعلیمی ماڈل زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں؟
RSG کی جانب سے چار اسٹریٹجک شراکت داریوں کا قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کمپنی مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو اہمیت دیتی ہے۔ اس قسم کی شراکت داریاں نہ صرف وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ مقامی سطح پر اعتماد اور ملکیت کا احساس بھی پیدا کرتی ہیں۔ کیا مقامی شراکت داریاں ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کی کلید ہیں؟
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان اقدامات کے لیے کتنی رقم مختص کی گئی ہے، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ شراکت داریاں کس مدت کے لیے ہیں۔ اسی طرح، تمالا کوآپریٹو کے 44,000 کلوگرام زرعی پیداوار کے اعداد و شمار کے علاوہ اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ یہ پیداوار کس فصل پر مشتمل ہے یا اسے کہاں فروخت کیا جائے گا۔ جوار ایپ کے 180 ملازمت کے مواقع کی نوعیت اور شعبے بھی تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے۔ کیا شفافیت کے بغیر کمیونٹی کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکتا ہے؟
انگلش فار ٹورازم پروگرام کے 2,000 گریجویٹس کی مزید تفصیلات، جیسے ان کی عمر، تعلیمی پس منظر یا ملازمت کے نتائج، رپورٹ میں موجود نہیں ہیں۔ اسی طرح، یہ بھی واضح نہیں کہ ان پروگراموں کا دائرہ کار مستقبل میں بڑھایا جائے گا یا نہیں۔ تاہم، دستیاب معلومات کے مطابق، RSG کے یہ اقدامات ریڈ سی کے رہائشیوں کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک واضح قدم ہیں۔
مجموعی طور پر، RSG کے یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کو صرف اعلانات تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ اسے ٹھوس منصوبوں کی شکل دی جا رہی ہے۔ زراعت، ڈیجیٹل رابطے اور مہارت کی ترقی، یہ تینوں شعبے مقامی معیشت کی بنیاد ہیں۔ ان تینوں میں بیک وقت سرمایہ کاری کرنا ایک جامع نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ کیا یہ جامع نقطہ نظر ریڈ سی کے رہائشیوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکے گا؟
تمالا کوآپریٹو کیا ہے اور اس سے کتنے کسان مستفید ہوں گے؟ تمالا ریڈ سی فارمز کوآپریٹو ہے جس کا مقصد تبوک کے علاقے میں زرعی شعبے کو ترقی دینا ہے۔ یہ زرعی مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے اور کسانوں کو رہنمائی و آگاہی خدمات فراہم کرنے پر کام کرتا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں 300 تک کسانوں کو بہتر پیداوار سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے، جس سے تقریباً 44,000 کلوگرام زرعی فصلیں حاصل ہوتی ہیں۔
جوار ایپ کیا ہے اور اس کی کامیابی کے اعداد و شمار کیا ہیں؟ جوار ایک ڈیجیٹل ایپ ہے جو ریڈ سی کمیونٹی کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کی گئی ہے۔ یہ افراد کے درمیان براہ راست رابطے کی سہولت فراہم کرتی ہے اور ملازمت کے مواقع نیز تعلیمی پروگرام بھی پیش کرتی ہے۔ جوار کو 2024 کے TDM ٹریول ٹریڈ ایکسیلنس ایوارڈز میں ‘بہترین کمیونٹی انگیجمنٹ پروگرام’ کا اعزاز ملا۔ اس کے 30,000 سے زیادہ صارفین ہیں اور اس نے 180 ملازمت کے مواقع پیدا کیے ہیں۔
انگلش فار ٹورازم پروگرام کیا ہے اور کتنے نوجوانوں نے گریجویشن کیا؟ انگلش فار ٹورازم پروگرام RSG کا ایک اقدام ہے جس کا مقصد مقامی رہائشیوں کی مہارتوں کو بڑھانا اور انہیں ملازمت کی منڈی کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس پروگرام میں چھ ماہ تک آن لائن زبان کی کلاسیں فراہم کی گئیں۔ یہ اقدام مقامی کمیونٹی کی مہارتوں کو فروغ دینے کے RSG کے وژن کے مطابق ہے۔ اس پروگرام سے کل 2,000 نوجوان گریجویٹ ہوئے۔
RSG نے کتنی اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کی ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے؟ RSG نے ریڈ سی کے علاقے میں چار اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کی ہیں۔ ان شراکت داریوں کے ساتھ ساتھ کئی ترقیاتی اقدامات بھی شروع کیے گئے ہیں جن کا مقصد ریڈ سی کے رہائشیوں کو RSG کے پائیدار ترقیاتی وژن میں شامل کرنا ہے۔ ان کوششوں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ خطے کے افراد اور خاندانوں پر دیرپا مثبت اثرات مرتب ہوں۔
یہ اقدامات کس موقع پر سامنے آئے اور ان کا مجموعی مقصد کیا ہے؟ یہ اقدامات کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے دن کے موقع پر سامنے آئے، جو ریڈ سی کے رہائشیوں کو بااختیار بنانے کی RSG کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ مجموعی مقصد مقامی کمیونٹی کو سپورٹ کرنا اور بااختیار بنانا ہے، نیز ریڈ سی کے رہائشیوں کو کمپنی کے پائیدار ترقیاتی وژن میں ضم کرنا ہے۔
رپورٹ میں کن تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا؟ رپورٹ میں ان اقدامات کے لیے مختص رقم، شراکت داریوں کی مدت، تمالا کوآپریٹو کی 44,000 کلوگرام پیداوار کی فصل کی قسم یا فروخت کے مقام، اور جوار ایپ کے 180 ملازمت کے مواقع کی نوعیت یا شعبے تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے۔ اسی طرح انگلش فار ٹورازم پروگرام کے گریجویٹس کی عمر، تعلیمی پس منظر یا ملازمت کے نتائج بھی واضح نہیں کیے گئے۔