مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام میں سعودی ریڈ کریسنٹ اتھارٹی کی ایمرجنسی اور رضاکار ٹیموں نے گزشتہ روز دو عمرہ زائرین کو ریسکیو کیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 12 اپریل 2025 کو بیان کیا، ان اقدامات کے ذریعے زائرین کی جانیں بچانے اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔
پہلے واقعے میں، پچاس سال کی عمر کے ایک انڈونیشیائی شہری کو مسعی کے علاقے میں دل اور سانس کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا ایسی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی مداخلت زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا نہیں کرتی؟ اس شخص کو سی پی آر (CPR) کے ذریعے دوبارہ زندہ کیا گیا، جس میں LUCAS اور AED جیسے جدید طبی آلات کا استعمال کیا گیا۔
دوسرے واقعے میں، اسی طرح کی طبی امداد ایک اسی سالہ بھارتی شہری کو فراہم کی گئی، جس میں اسٹروک کی علامات ظاہر ہوئیں۔ کیا عمر رسیدہ زائرین کے لیے ایسی فوری طبی سہولیات کی موجودگی ان کے سفر کو محفوظ نہیں بناتی؟ اس شخص کو فوری طور پر ضروری علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا۔
رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ متاثرہ افراد کی موجودہ طبی حالت کیا ہے یا انہیں کس ہسپتال منتقل کیا گیا۔
مسجد الحرام میں کن زائرین کو ریسکیو کیا گیا؟ سعودی ریڈ کریسنٹ اتھارٹی نے ایک پچاس سالہ انڈونیشیائی شہری اور ایک اسی سالہ بھارتی شہری کو ریسکیو کیا۔ انڈونیشیائی شہری کو دل اور سانس کی بندش کا سامنا تھا جبکہ بھارتی شہری میں اسٹروک کی علامات تھیں۔
انڈونیشیائی شہری کے لیے کون سی طبی سہولیات استعمال کی گئیں؟ انڈونیشیائی شہری کو سی پی آر (CPR) کے ذریعے دوبارہ زندہ کیا گیا، جس کے لیے LUCAS اور AED جیسے آلات استعمال کیے گئے۔ یہ واقعہ مسعی کے علاقے میں پیش آیا تھا۔
بھارتی شہری کی طبی حالت کیا تھی؟ اسی سالہ بھارتی شہری میں اسٹروک کی علامات ظاہر ہوئیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر ضروری طبی دیکھ بھال کے لیے منتقل کیا گیا۔
ریسکیو آپریشن کس نے انجام دیا؟ یہ ریسکیو آپریشن سعودی ریڈ کریسنٹ اتھارٹی کی ایمرجنسی اور رضاکار ٹیموں نے مسجد الحرام میں انجام دیا۔