ریاض میں ایسپورٹس ورلڈ کپ فاؤنڈیشن نے پیر کے روز «2027 ای ڈبلیو سی کوالیفائر پروگرام» کے آغاز کا اعلان کیا، جو «روڈ ٹو ای ڈبلیو سی» کے تحت ایک شراکتی اقدام ہے اور دنیا بھر کے ٹورنامنٹ منتظمین اور مقامی ایسپورٹس کمیونٹیز کو سرکاری کوالیفائنگ مقابلوں کی میزبانی کی اجازت دیتا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 19 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ نیا پروگرام روڈ ٹو ای ڈبلیو سی کی نمایاں توسیع ہے، جس کا مقصد 2027 میں 400 سے زائد ٹورنامنٹس کے ذریعے 1.8 ملین کھلاڑیوں تک پہنچنا ہے۔
گیم پبلشرز کی جانب سے منعقد کی جانے والی لیگز، بین الاقوامی ٹورنامنٹس اور علاقائی کوالیفائرز کو آپس میں جوڑ کر روڈ ٹو ای ڈبلیو سی موجودہ مسابقتی ماحولیاتی نظاموں کو ایک واحد عالمی چیمپئن شپ چھتری کے نیچے متحد کرتا ہے۔ کیا یہ اتحاد ایسپورٹس کی عالمی مسابقت کی تصویر بدل دے گا؟
نیا کوالیفائر پروگرام ان روابط کو مزید مضبوط کرے گا اور کھلاڑیوں کو اپنی کمیونٹیز میں مسابقتی سفر شروع کرنے کے مزید مقامی مواقع فراہم کرے گا۔ کیا مقامی سطح پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کے لیے یہ راستہ آسان ہو جائے گا؟
ای ڈبلیو سی ایف کے چیف پروڈکٹ آفیسر فیصل بن ہمران نے کہا: «روڈ ٹو ای ڈبلیو سی نے دکھایا ہے کہ مسابقتی ایسپورٹس کے مختلف راستے جب ایک عالمی منزل سے جڑتے ہیں تو کیا ممکن ہو سکتا ہے۔»
انہوں نے کہا: «دنیا کے ہر حصے میں زبردست ٹورنامنٹس اور مضبوط ایسپورٹس کمیونٹیز موجود ہیں۔ ان میں سے زیادہ کو روڈ ٹو ای ڈبلیو سی میں شامل کر کے ہم کھلاڑیوں کو ان کی اپنی کمیونٹیز میں مقابلہ کرنے کے مزید مواقع فراہم کر سکتے ہیں اور مقامی ایسپورٹس ماحولیاتی نظاموں کو ایسپورٹس ورلڈ کپ تک پہنچنے کے راستے کی تعمیر میں سرکاری کردار دے سکتے ہیں۔» کیا یہ مقامی کمیونٹیز کی طویل مدتی ترقی میں مدد دے گا؟
ای ڈبلیو سی کوالیفائر پروگرام دو شراکت داروں کے زیر انتظام راستے پیش کرتا ہے، جو قائم شدہ مقابلوں اور نچلی سطح کے ٹورنامنٹس کو روڈ ٹو ای ڈبلیو سی میں شامل کرتے ہیں۔
پہلا راستہ، ای ڈبلیو سی ڈائریکٹ کوالیفائرز، قائم شدہ ایسپورٹس ٹورنامنٹس اور روڈ ٹو ای ڈبلیو سی کے درمیان موجودہ تعلق کو وسعت دینے کا مقصد رکھتا ہے۔ منتظمین اپنے مقابلوں کو اپنی شناخت کے تحت چلانا اور فنڈ کرنا جاری رکھیں گے، مقامی تجارتی مواقع برقرار رکھیں گے، ای ڈبلیو سی اور پبلشر کے معیارات پر پورا اتریں گے، اور کھلاڑیوں کو ایسپورٹس ورلڈ کپ تک سرکاری راستہ فراہم کریں گے۔ کیا یہ ماڈل چھوٹے منتظمین کے لیے بھی قابل عمل ہوگا؟
دوسرا راستہ، ای ڈبلیو سی سیٹلائٹ لاسٹ چانس کوالیفائرز، دنیا بھر کی مقامی کمیونٹیز کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کا مقصد رکھتا ہے تاکہ وہ ایسپورٹس ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر سکیں۔ کیا آخری موقع کے یہ مقابلوں میں حصہ لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا؟
ای ڈبلیو سی ایف کے مطابق، یہ پروگرام روڈ ٹو ای ڈبلیو سی کے تحت آنے والے تمام راستوں کو ایک ہی عالمی چیمپئن شپ کے ڈھانچے میں جوڑتا ہے، جس سے کھلاڑیوں کو اپنے علاقوں میں ہی اعلیٰ سطحی مقابلے کا تجربہ ملتا ہے۔ کیا اس سے ایسپورٹس کی صلاحیتوں کی نشاندہی نئے علاقوں میں ہو سکے گی؟
روڈ ٹو ای ڈبلیو سی کا ہدف 2027 میں 400 سے زائد ٹورنامنٹس کے ذریعے 1.8 ملین کھلاڑیوں تک پہنچنا ہے، جو ایسپورٹس کی تاریخ میں شرکت کے لحاظ سے ایک بڑے پیمانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ کیا یہ ہدف مقامی کمیونٹیز کے لیے کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافے کا سبب بنے گا؟
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب ایسپورٹس کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے، اور ایسپورٹس ورلڈ کپ ریاض میں منعقد ہوتا ہے۔ کیا یہ پروگرام سعودی عرب کے ایسپورٹس ماحولیاتی نظام کو بھی فائدہ پہنچائے گا؟
ای ڈبلیو سی ایف نے بتایا کہ نیا کوالیفائر پروگرام روڈ ٹو ای ڈبلیو سی کے تحت آنے والے مقابلوں کی تعداد اور رسائی میں اضافہ کرے گا، جس سے مقامی ایسپورٹس کمیونٹیز کو عالمی چیمپئن شپ کی تعمیر میں سرکاری کردار ملے گا۔ کیا اس سے مقامی ٹورنامنٹس کی شناخت اور ان کی تجارتی حیثیت برقرار رہے گی؟
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کوالیفائر پروگرام کے تحت کتنے ممالک یا کتنے مقامی ٹورنامنٹس شامل ہوں گے، نہ ہی شراکت داروں کے نام یا ان کے مالی پیکجز کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں ای ڈبلیو سی 2027 کے انعقاد کی تاریخ یا مقام کے بارے میں بھی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
ای ڈبلیو سی کوالیفائر پروگرام کیا ہے؟ یہ ایسپورٹس ورلڈ کپ فاؤنڈیشن کا نیا شراکتی اقدام ہے جو روڈ ٹو ای ڈبلیو سی کے تحت ٹورنامنٹ منتظمین اور مقامی ایسپورٹس کمیونٹیز کو سرکاری کوالیفائنگ مقابلوں کی میزبانی کی اجازت دیتا ہے۔ یہ پروگرام روڈ ٹو ای ڈبلیو سی کی نمایاں توسیع ہے، جس کا مقصد 2027 میں 400 سے زائد ٹورنامنٹس کے ذریعے 1.8 ملین کھلاڑیوں تک پہنچنا ہے۔
کوالیفائر پروگرام کے کون سے دو راستے ہیں؟ پہلا راستہ ای ڈبلیو سی ڈائریکٹ کوالیفائرز ہے، جو قائم شدہ ٹورنامنٹس اور روڈ ٹو ای ڈبلیو سی کے درمیان تعلق کو وسعت دیتا ہے۔ دوسرا راستہ ای ڈبلیو سی سیٹلائٹ لاسٹ چانس کوالیفائرز ہے، جو دنیا بھر کی مقامی کمیونٹیز کے لیے ایسپورٹس ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔
روڈ ٹو ای ڈبلیو سی کا کیا مقصد ہے؟ روڈ ٹو ای ڈبلیو سی گیم پبلشرز کی لیگز، بین الاقوامی ٹورنامنٹس اور علاقائی کوالیفائرز کو جوڑ کر موجودہ مسابقتی ماحولیاتی نظاموں کو ایک واحد عالمی چیمپئن شپ چھتری کے نیچے متحد کرتا ہے۔ اس کا ہدف 2027 میں 400 سے زائد ٹورنامنٹس کے ذریعے 1.8 ملین کھلاڑیوں تک پہنچنا ہے۔
ای ڈبلیو سی ایف کے چیف پروڈکٹ آفیسر نے کیا کہا؟ فیصل بن ہمران نے کہا کہ روڈ ٹو ای ڈبلیو سی نے دکھایا ہے کہ مسابقتی ایسپورٹس کے مختلف راستے جب ایک عالمی منزل سے جڑتے ہیں تو کیا ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر حصے میں زبردست ٹورنامنٹس اور مضبوط ایسپورٹس کمیونٹیز موجود ہیں، اور انہیں شامل کر کے کھلاڑیوں کو اپنی کمیونٹیز میں مقابلہ کرنے کے مزید مواقع مل سکتے ہیں۔
ڈائریکٹ کوالیفائرز میں منتظمین کے لیے کیا شرائط ہیں؟ منتظمین اپنے مقابلوں کو اپنی شناخت کے تحت چلانا اور فنڈ کرنا جاری رکھیں گے، مقامی تجارتی مواقع برقرار رکھیں گے، ای ڈبلیو سی اور پبلشر کے معیارات پر پورا اتریں گے، اور کھلاڑیوں کو ایسپورٹس ورلڈ کپ تک سرکاری راستہ فراہم کریں گے۔
رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کوالیفائر پروگرام کے تحت کتنے ممالک یا کتنے مقامی ٹورنامنٹس شامل ہوں گے، نہ ہی شراکت داروں کے نام یا ان کے مالی پیکجز کا ذکر کیا گیا ہے۔ ای ڈبلیو سی 2027 کے انعقاد کی تاریخ یا مقام کے بارے میں بھی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔