Sunday, November 8, 2026
کھیل

جدة کارنیش سرکٹ دنیا کا تیز ترین فارمولا 1 اسٹریٹ ٹریک کیوں ہے؟

جدة کارنیش سرکٹ دنیا کا تیز ترین فارمولا 1 اسٹریٹ ٹریک کیوں ہے؟

جدة کارنیش سرکٹ دنیا کا تیز ترین فارمولا 1 اسٹریٹ ٹریک ہے، جہاں اوسط رفتار تقریباً 252.8 کلومیٹر فی گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 322 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچتی ہے۔ یہ ٹریک بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ 6.174 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اسے جرمن انجینئر ہرمن ٹلکے اور ان کی ٹیم نے فارمولا 1 موٹر اسپورٹ ڈویژن کے تعاون سے ڈیزائن کیا، جیسا کہ سعودی موٹر اسپورٹ کمپنی کے حوالے سے بتایا گیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 نومبر 2026 کو بیان کیا، اس ٹریک میں 27 کونر ہیں — جن میں 16 بائیں طرف اور 11 دائیں طرف ہیں — اور اس کے پاس ایف آئی اے کا آفیشل گریڈ 1 لائسنس موجود ہے۔

یہ سرکٹ تقریباً سات ماہ میں تعمیر اور تیار کیا گیا، اور اسی مقام پر 2021 میں ایف آئی اے فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ کے تحت پہلا فارمولا 1 ایس ٹی سی سعودی عربین گراں پری منعقد ہوا۔ رات کی دوڑ کے معیارات کو پورا کرنے کے لیے اس مقام پر 2,000 سے زیادہ لائٹنگ یونٹ نصب کیے گئے ہیں۔

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک اسٹریٹ ٹریک پر گاڑیاں 322 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی ہیں؟ یہ رفتار عام شہری سڑکوں کے تصور سے کہیں آگے کی بات ہے، اور یہی وجہ ہے کہ جدة کارنیش سرکٹ کو دنیا کے تیز ترین فارمولا 1 اسٹریٹ ٹریک کا درجہ حاصل ہے۔

اس ٹریک کی خاص بات اس کا ہائی اسپیڈ لے آؤٹ ہے، جس میں لمبی سیدھی سڑکیں اور بہاؤ والے موڑ شامل ہیں۔ یہی امتزاج ہے جو اوسط رفتار کو تقریباً 252.8 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچاتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اوسط رفتار کا یہ عدد کسی بھی اسٹریٹ سرکٹ کے لیے کتنا غیر معمولی ہے؟

سرکٹ بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ پھیلا ہوا ہے، جس کی لمبائی 6.174 کلومیٹر ہے۔ اسے جرمن انجینئر ہرمن ٹلکے اور ان کی ٹیم نے فارمولا 1 موٹر اسپورٹ ڈویژن کے ساتھ مل کر ڈیزائن کیا۔ سعودی موٹر اسپورٹ کمپنی کے مطابق یہ ڈیزائن اس طرح تیار کیا گیا کہ رفتار اور مقابلے دونوں برقرار رہیں۔

ٹریک پر کل 27 کونر ہیں، جن میں 16 بائیں طرف اور 11 دائیں طرف ہیں۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اتنے موڑوں کے باوجود رفتار اتنی بلند کیسے رہتی ہے؟ اس کا راز لمبی سیدھی سڑکوں اور بہاؤ والے موڑوں کے امتزاج میں ہے، جو ڈرائیوروں کو رفتار برقرار رکھنے کا موقع دیتا ہے۔

اس ٹریک کے پاس ایف آئی اے کا آفیشل گریڈ 1 لائسنس موجود ہے، جو بین الاقوامی سطح پر اس کی اہلیت اور معیار کی علامت ہے۔ کیا یہ حقیقت اس بات کی گواہی نہیں کہ جدة کارنیش سرکٹ عالمی معیار پر پورا اترتا ہے؟

سرکٹ کو تقریباً سات ماہ میں تعمیر اور تیار کیا گیا۔ اتنی کم مدت میں ایک بین الاقوامی معیار کا ریسنگ ٹریک تیار کرنا اپنے آپ میں ایک قابل ذکر کوشش ہے۔ اسی مقام پر 2021 میں ایف آئی اے فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ کے تحت پہلا فارمولا 1 ایس ٹی سی سعودی عربین گراں پری منعقد ہوا۔

رات کی دوڑ کے معیارات کو پورا کرنے کے لیے اس مقام پر 2,000 سے زیادہ لائٹنگ یونٹ نصب کیے گئے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ رات کے وقت اتنی تیز رفتار دوڑ کے لیے روشنی کا انتظام کتنا اہم ہوتا ہے؟ یہ لائٹنگ یونٹس ڈرائیوروں اور ناظرین دونوں کے لیے واضح ماحول فراہم کرتے ہیں۔

ٹریک کے لے آؤٹ میں ڈریگ ریڈکشن سسٹم کے مخصوص زونز شامل ہیں، جو اوور ٹیکنگ اور مسابقتی دوڑ کو زیادہ سے زیادہ بناتے ہیں۔ کیا یہی وہ عنصر نہیں جو ریس کو ناظرین کے لیے دلچسپ بناتا ہے؟ ان زونز کی بدولت ڈرائیوروں کو رفتار بڑھانے اور آگے نکلنے کے مواقع ملتے ہیں۔

اس تمام ترتیب نے اس ٹریک کو دنیا کے ممتاز سرکٹس میں شامل کر دیا ہے اور جدة کے عالمی موٹر اسپورٹ پروفائل کو بلند کیا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ سرکٹ سعودی عرب میں موٹر اسپورٹ کے فروغ میں کیا کردار ادا کر رہا ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں ٹریک کی تعمیر کی لاگت، ریس کے دوران حاضری کی تعداد، یا آئندہ ایونٹس کے شیڈول کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ 2,000 لائٹنگ یونٹس کی تقسیم کیسے کی گئی یا ان کی توانائی کی کھپت کتنی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سرکٹ کے ڈیزائن میں ہرمن ٹلکے اور فارمولا 1 موٹر اسپورٹ ڈویژن کے درمیان تعاون کی تفصیلات کیا تھیں، یا 27 کونروں میں سے کون سے موڑ سب سے زیادہ چیلنجنگ سمجھے جاتے ہیں۔ ان پہلوؤں پر مزید معلومات کے لیے سعودی موٹر اسپورٹ کمپنی یا ایف آئی اے کے سرکاری بیانات کا انتظار کرنا ہوگا۔

مجموعی طور پر، جدة کارنیش سرکٹ اپنی 6.174 کلومیٹر لمبائی، 27 کونروں، 252.8 کلومیٹر فی گھنٹہ اوسط رفتار اور 322 کلومیٹر فی گھنٹہ زیادہ سے زیادہ رفتار کے ساتھ دنیا کا تیز ترین فارمولا 1 اسٹریٹ ٹریک ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار اسے مستقبل میں بھی عالمی موٹر اسپورٹ کا مرکز بنائے رکھیں گے؟ یہ سوال شائقین کے ذہن میں رہے گا جب تک اگلی دوڑ کا آغاز نہیں ہوتا۔

جدة کارنیش سرکٹ کو دنیا کا تیز ترین فارمولا 1 اسٹریٹ ٹریک کیوں کہا جاتا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق اس ٹریک کی اوسط رفتار تقریباً 252.8 کلومیٹر فی گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 322 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ یہ ہائی اسپیڈ لے آؤٹ، لمبی سیدھی سڑکوں اور بہاؤ والے موڑوں کے امتزاج سے ممکن ہوتا ہے۔ ٹریک کی لمبائی 6.174 کلومیٹر ہے اور یہ بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ پھیلا ہوا ہے۔

اس ٹریک کو کس نے ڈیزائن کیا اور اس میں کتنے کونر ہیں؟ سعودی موٹر اسپورٹ کمپنی کے مطابق اسے جرمن انجینئر ہرمن ٹلکے اور ان کی ٹیم نے فارمولا 1 موٹر اسپورٹ ڈویژن کے تعاون سے ڈیزائن کیا۔ ٹریک میں کل 27 کونر ہیں، جن میں 16 بائیں طرف اور 11 دائیں طرف ہیں۔ اس کے پاس ایف آئی اے کا آفیشل گریڈ 1 لائسنس بھی موجود ہے۔

سرکٹ کی تعمیر اور پہلی دوڑ کے بارے میں کیا معلوم ہے؟ ایس پی اے کے مطابق سرکٹ تقریباً سات ماہ میں تعمیر اور تیار کیا گیا۔ اسی مقام پر 2021 میں ایف آئی اے فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ کے تحت پہلا فارمولا 1 ایس ٹی سی سعودی عربین گراں پری منعقد ہوا۔ رات کی دوڑ کے معیارات کے لیے 2,000 سے زیادہ لائٹنگ یونٹ نصب کیے گئے۔

ڈریگ ریڈکشن سسٹم زونز کا کیا کردار ہے؟ ایس پی اے کے مطابق ٹریک کے لے آؤٹ میں ڈریگ ریڈکشن سسٹم کے مخصوص زونز شامل ہیں جو اوور ٹیکنگ اور مسابقتی دوڑ کو زیادہ سے زیادہ بناتے ہیں۔ یہی ترتیب ٹریک کو دنیا کے ممتاز سرکٹس میں شامل کرتی ہے اور جدة کے عالمی موٹر اسپورٹ پروفائل کو بلند کرتی ہے۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں تعمیر کی لاگت، ریس کے دوران حاضری کی تعداد، آئندہ ایونٹس کا شیڈول، لائٹنگ یونٹس کی تقسیم یا توانائی کی کھپت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح 27 کونروں میں سے سب سے چیلنجنگ موڑ کی نشاندہی بھی نہیں کی گئی۔