سعودی ریڈ سی اتھارٹی نے مملکت میں پہلی بار تفریحی کشتی چارٹرنگ کے تقاضے اور شرائط جاری کیے ہیں، جو ساحلی سیاحت کی سرگرمیوں کے ضابطے، خدمات کے معیار، حفاظتی معیارات اور سمندری ماحول کے تحفظ سے متعلق ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ اقدام ساحلی سیاحت کے شعبے کی ترقی اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں معاون ہے۔
ضوابط میں بحیرہ احمر کے سعودی علاقائی پانیوں میں زائرین اور سیاحوں کو تفریحی کشتیاں چارٹر کرنے کی واضح شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ کوئی بھی آپریٹر یہ سروس اسی وقت پیش کر سکتا ہے جب اسے اتھارٹی سے سرکاری لائسنس مل جائے اور وہ معیار، حفاظت اور سمندری ماحولیاتی تحفظ کے مقرر کردہ معیارات پورے کرے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ضوابط کس طرح ساحلی سیاحت کے شعبے کو منظم کرنے میں مدد دیں گے؟
ضوابط ایک مضبوط لائسنسنگ فریم ورک قائم کرتے ہیں۔ کشتیوں کے انتظام اور آپریشن کی ذمہ دار کمپنی یا ادارے کے لیے میرین ایکٹیویٹیز آپریٹر لائسنس درکار ہے۔ اس کے علاوہ، ہر کشتی کے لیے الگ سے ٹورازم چارٹر لائسنس حاصل کرنا ہوگا، جو کشتی کے کسی تسلیم شدہ کمپنی کی جانب سے موقع پر تکنیکی معائنہ پاس کرنے اور تمام تقاضے پورے کرنے کے بعد دیا جائے گا۔
لائسنس اجرا کی تاریخ سے 12 ماہ کے لیے کارآمد ہوتے ہیں اور درخواست پر تجدید کی جا سکتی ہے، جس کے لیے آپریٹر کے تعمیل ریکارڈ اور فراہم کردہ خدمات کے معیار کا مکمل جائزہ لیا جاتا ہے۔
کیا آپ سوچتے ہیں کہ لائسنس کی تجدید کے لیے تعمیل ریکارڈ کا جائزہ کس حد تک سخت ہونا چاہیے؟
زائرین کے تجربے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ آپریٹرز کو ہر سفر سے قبل زائرین کو جامع حفاظتی ہدایات فراہم کرنا لازمی ہے اور عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تحریری ہنگامی منصوبہ برقرار رکھنا ہوگا، جس میں آگ، تصادم اور دیگر سمندری واقعات شامل ہوں۔
آپریٹرز کو سمندری اور موسمی حالات، کشتی کی رفتار اور مسافروں کی گنجائش کا خیال رکھنا ہوگا؛ ناموافق حالات میں سفر سے گریز کرنا ہوگا؛ اور سوار ہونے، اترنے اور پورے سفر کے دوران زائرین کی حفاظت کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔ اس کے علاوہ، آپریٹرز کو زائرین کے تحفظ کے لیے انشورنس کوریج برقرار رکھنی ہوگی۔
کیا آپ کے خیال میں ہنگامی منصوبے کا عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہونا کتنا ضروری ہے؟
یہ ضوابط اتھارٹی کے اس مینڈیٹ کے مطابق ہیں جس کے تحت ساحلی سیاحت کی سرگرمیوں کو منظم کیا جاتا ہے، فراہم کردہ خدمات کا معیار بہتر بنایا جاتا ہے، حفاظتی معیارات مضبوط کیے جاتے ہیں اور سمندری ماحول کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے۔
سعودی ریڈ سی اتھارٹی کی جانب سے یہ پہلا موقع ہے کہ تفریحی کشتی چارٹرنگ کے تقاضے اور شرائط جاری کیے گئے ہیں، جو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے دائرے کو باقاعدہ فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ سرکاری لائسنس کے بغیر تفریحی کشتی چارٹرنگ کی سروس پیش کرنا ممکن نہیں ہوگا؟
ضوابط کے تحت ہر کشتی کو الگ لائسنس درکار ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ ایک آپریٹر کی متعدد کشتیوں کے لیے الگ الگ ٹورازم چارٹر لائسنس حاصل کرنے ہوں گے۔ ہر لائسنس کے لیے کشتی کا موقع پر تکنیکی معائنہ کسی تسلیم شدہ کمپنی سے کروانا ہوگا۔
معائنے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ کشتی مقررہ معیارات پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔ لائسنس کی کارآمدگی 12 ماہ پر مشتمل ہے، جس کے بعد تجدید کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ تجدید کے عمل میں آپریٹر کے تعمیل ریکارڈ اور خدمات کے معیار کا مکمل جائزہ شامل ہے۔
کیا آپ کے خیال میں 12 ماہ کی لائسنس کی مدت کافی ہے یا اسے مزید بڑھایا جانا چاہیے؟
زائرین کی حفاظت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ ہر سفر سے قبل جامع حفاظتی ہدایات دینا لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ زائرین کو ممکنہ خطرات اور احتیاطی تدابیر کا علم ہو۔ تحریری ہنگامی منصوبہ آگ، تصادم اور دیگر سمندری واقعات کا احاطہ کرتا ہے اور اسے عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تیار رکھنا ہوگا۔
موسمی اور سمندری حالات کا جائزہ لینا آپریٹر کی ذمہ داری ہے۔ ناموافق حالات میں سفر نہ کرنا، کشتی کی رفتار اور مسافروں کی گنجائش کا خیال رکھنا، اور سوار ہونے اور اترنے کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازمی ہے۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موسمی حالات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری آپریٹر پر ہونی چاہیے؟
انشورنس کوریج برقرار رکھنا بھی آپریٹرز کے لیے لازمی شرط ہے، جو زائرین کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضوابط میں زائرین کی جسمانی حفاظت کے ساتھ ساتھ مالی تحفظ کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔
یہ ضوابط سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں معاون قرار دیے گئے ہیں، خاص طور پر ساحلی سیاحت کے شعبے کی ترقی کے حوالے سے۔ بحیرہ احمر کا ساحلی علاقہ سیاحت کے لیے اہمیت کا حامل ہے اور ان ضوابط کا مقصد اس شعبے کو منظم اور محفوظ بنانا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ضوابط سمندری ماحول کے تحفظ کو بھی یقینی بناتے ہیں؟
اتھارٹی کا مینڈیٹ ساحلی سیاحت کی سرگرمیوں کو منظم کرنا، خدمات کا معیار بہتر بنانا، حفاظتی معیارات مضبوط کرنا اور سمندری ماحول کا تحفظ شامل ہے۔ ان ضوابط کے ذریعے آپریٹرز کے لیے واضح فریم ورک فراہم کیا گیا ہے، جس سے زائرین کو بہتر اور محفوظ تجربہ مل سکے گا۔
ضوابط میں آپریٹرز کے لیے لائسنسنگ کے علاوہ تعمیل کے پہلوؤں پر بھی زور دیا گیا ہے۔ لائسنس کی تجدید کے وقت آپریٹر کے ریکارڈ اور خدمات کے معیار کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس سے مسلسل بہتری کی ترغیب ملتی ہے۔
کیا آپ کے خیال میں اس طرح کے ضوابط سے سیاحوں کا اعتماد بڑھے گا؟
رپورٹ میں ضوابط کے نفاذ کی تاریخ، جرمانوں کی رقم یا لائسنس فیس کے بارے میں تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ تسلیم شدہ معائنہ کار کمپنیاں کون سی ہوں گی یا لائسنسنگ کے عمل میں کتنا وقت لگے گا۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، یہ ضوابط مملکت میں پہلی بار جاری کیے گئے ہیں اور ان کا تعلق بحیرہ احمر کے سعودی علاقائی پانیوں میں تفریحی کشتی چارٹرنگ سے ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان ضوابط کا اطلاق کب سے ہوگا یا ان کی خلاف ورزی پر کیا کارروائی ہوگی۔
تفریحی کشتی چارٹرنگ کے ضوابط کس نے جاری کیے ہیں؟ سعودی ریڈ سی اتھارٹی نے مملکت میں پہلی بار تفریحی کشتی چارٹرنگ کے تقاضے اور شرائط جاری کیے ہیں۔ جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ ضوابط اتھارٹی کے مینڈیٹ کے مطابق ہیں، جس میں ساحلی سیاحت کی سرگرمیوں کو منظم کرنا، خدمات کا معیار بہتر بنانا، حفاظتی معیارات مضبوط کرنا اور سمندری ماحول کا تحفظ شامل ہے۔
کشتی چارٹر کرنے کے لیے کون سے لائسنس درکار ہیں؟ ضوابط کے مطابق کشتیوں کے انتظام اور آپریشن کی ذمہ دار کمپنی یا ادارے کے لیے میرین ایکٹیویٹیز آپریٹر لائسنس درکار ہے۔ اس کے علاوہ ہر کشتی کے لیے الگ سے ٹورازم چارٹر لائسنس حاصل کرنا ہوگا، جو کشتی کے کسی تسلیم شدہ کمپنی کی جانب سے موقع پر تکنیکی معائنہ پاس کرنے اور تمام تقاضے پورے کرنے کے بعد دیا جائے گا۔
لائسنس کتنے عرصے کے لیے کارآمد ہوتے ہیں؟ لائسنس اجرا کی تاریخ سے 12 ماہ کے لیے کارآمد ہوتے ہیں اور درخواست پر تجدید کی جا سکتی ہے۔ تجدید کے لیے آپریٹر کے تعمیل ریکارڈ اور فراہم کردہ خدمات کے معیار کا مکمل جائزہ لیا جاتا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں لائسنس فیس یا تجدید کے عمل میں لگنے والے وقت کے بارے میں تفصیل نہیں دی گئی۔
زائرین کی حفاظت کے لیے کیا شرائط رکھی گئی ہیں؟ آپریٹرز کو ہر سفر سے قبل زائرین کو جامع حفاظتی ہدایات فراہم کرنا لازمی ہے اور عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تحریری ہنگامی منصوبہ برقرار رکھنا ہوگا، جس میں آگ، تصادم اور دیگر سمندری واقعات شامل ہوں۔ آپریٹرز کو سمندری اور موسمی حالات، کشتی کی رفتار اور مسافروں کی گنجائش کا خیال رکھنا ہوگا اور ناموافق حالات میں سفر سے گریز کرنا ہوگا۔
کیا آپریٹرز کے لیے انشورنس لازمی ہے؟ جی ہاں، ضوابط کے مطابق آپریٹرز کو زائرین کے تحفظ کے لیے انشورنس کوریج برقرار رکھنی ہوگی۔ یہ شرط زائرین کی جسمانی حفاظت کے ساتھ ساتھ مالی تحفظ کو بھی یقینی بناتی ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں انشورنس کوریج کی رقم یا اس کی تفصیلات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ ضوابط کس مقصد کے تحت جاری کیے گئے ہیں؟ یہ ضوابط ساحلی سیاحت کے شعبے کی ترقی اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں معاون ہیں۔ اتھارٹی کا مینڈیٹ ساحلی سیاحت کی سرگرمیوں کو منظم کرنا، خدمات کا معیار بہتر بنانا، حفاظتی معیارات مضبوط کرنا اور سمندری ماحول کا تحفظ شامل ہے۔ ضوابط کا اطلاق بحیرہ احمر کے سعودی علاقائی پانیوں میں تفریحی کشتی چارٹرنگ پر ہوتا ہے۔