الباحہ کے علاقے میں 140,000 سے زائد کھجور کے درخت موجود ہیں جو سالانہ 2,000 ٹن سے زیادہ کھجوریں پیدا کرتے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 13 اگست 2026 کو بیان کیا، وزارت ماحول، پانی اور زراعت کی الباحہ برانچ میں نان پرافٹ سیکٹر اور زرعی حل کے شعبے کے ڈائریکٹر سعید الغامدی نے بتایا کہ یہ سرگرمی اقتصادی اور غذائی اہمیت رکھتی ہے۔ العقیق گورنریٹ کو اس خطے میں کھجور کی کاشت کے لیے موزوں ترین علاقوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
سعودی ریف (Saudi Reef) پروگرام کھجور کی کاشت کرنے والوں اور متعلقہ صنعتوں کے کارکنوں کو منظور شدہ قواعد کے مطابق ناقابل واپسی مالی امداد فراہم کر رہا ہے تاکہ دیہی زرعی سرگرمیوں کو ترقی دی جائے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جائے۔
ترسیلی صنعتیں کھجور کی مصنوعات میں تنوع لا کر ان کی مارکیٹنگ کے مواقع بڑھاتی ہیں اور کسانوں کے لیے اقتصادی فوائد میں اضافہ کرتی ہیں۔ رپورٹ میں مخصوص مالی امداد کی رقم یا مستقبل کے پیداواری اہداف کا ذکر نہیں کیا گیا۔
الباحہ میں کھجور کی پیداوار کے اعداد و شمار کیا ہیں؟ الباحہ کے علاقے میں 140,000 سے زائد کھجور کے درخت موجود ہیں، جن سے سالانہ 2,000 ٹن سے زیادہ کھجوریں پیدا ہوتی ہیں۔ العقیق گورنریٹ کو اس خطے میں کاشت کے لیے موزوں ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
سعودی ریف (Saudi Reef) پروگرام کا کیا کردار ہے؟ سعودی ریف پروگرام کھجور کی کاشت کرنے والوں اور صنعتوں کے کارکنوں کو ناقابل واپسی مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد دیہی زرعی سرگرمیوں کی ترقی اور پیداواری کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
کھجور کی صنعت سے کسانوں کو کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ ترسیلی صنعتیں کھجور کی مصنوعات میں تنوع لا کر ان کی مارکیٹنگ کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہیں۔ اس سے مصنوعات کی اضافی قدر میں اضافہ ہوتا ہے اور کسانوں کے لیے اقتصادی فوائد بڑھتے ہیں۔