ریاض میں نیشنل سینٹر فار پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پلانٹ پسٹس اینڈ اینیمل ڈیزیز (وقاء)، کنگ سلمان ریلیف سینٹر اور FAO کے سینٹر ریجن ڈیزرٹ لوکسٹ لائسنس کنٹرول اتھارٹی نے ایمرجنسی فنڈ کو لاجسٹک مدد کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کیے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 10 اگست 2026 کو بیان کیا، اس تعاون کا مقصد علاقائی سطح پر صحرائی ٹڈیوں کے خاتمے کی کوششوں میں مدد کرنا ہے تاکہ نباتاتی دولت اور غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پر مرکز وقاء کے سی ای او انجینئر ایمن بن سعد الغامدی موجود تھے۔
اس امداد میں 40 جدید آلات اور مشینری، 8250 حفاظتی سامان کے ٹکڑے اور 100 ٹن ضروری کنٹرول مواد شامل ہے۔ یہ سامان ممبر ممالک میں کنٹرول آپریشنز کے دوران عملے کے لیے اعلیٰ ترین حفاظتی معیار فراہم کرنے اور فوری ردعمل کی صلاحیت بڑھانے میں مدد دے گا۔
معاہدے پر وقاء کی جانب سے ڈاکٹر محمد بن عبداللہ الخریجی، کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی جانب سے ڈاکٹر جواہر بنت عبداللہ آل مہنا اور FAO کے ایمرجنسی فنڈ کے ایگزیکٹو سیکرٹری ڈاکٹر مامون بن خمیس العلوی نے دستخط کیے۔
سعودی عرب نے کیا امداد فراہم کی ہے؟ سعودی عرب نے 40 جدید آلات اور مشینری، 8250 حفاظتی سامان کے ٹکڑے اور 100 ٹن کنٹرول مواد فراہم کیا ہے۔ اس امداد کا مقصد صحرائی ٹڈیوں کے خلاف آپریشنز میں عملے کی حفاظت اور ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
اس معاہدے میں کون سے ادارے شامل ہیں؟ اس معاہدے میں نیشنل سینٹر فار پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پلانٹ پسٹس اینڈ اینیمل ڈیزیز (وقاء)، کنگ سلمان ریلیف سینٹر اور FAO کے سینٹر ریجن ڈیزرٹ لوکسٹ کنٹرول اتھارٹی شامل ہیں۔ ان اداروں نے ایمرجنسی فنڈ کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے پر دستخط کیے۔
اس امداد کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ اس امداد کا مقصد علاقائی سطح پر صحرائی ٹڈیوں کے خاتمے کی کوششوں کو سپورٹ کرنا ہے۔ اس سے نباتاتی دولت کے تحفظ اور غذائی تحفظ کو فروغ ملے گا اور سرحد پار آفات کے اثرات کو کم کیا جائے گا۔