جدہ میں کونسل آف منسٹرز کے اجلاس کی صدارت خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے کی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 11 اگست 2026 کو بیان کیا، شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکی کے صدر رجب طیب ارطغرل اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی سربلاپ میں ان کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سہ فریقی سربلاپ کے نتائج کی تعریف کی جس نے طویل مدتی دفاعی شراکت داری کے فریم ورک کو مضبوط کیا تاکہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان تعاون، ہم آہنگی اور تکامل کو فروغ ملے اور علاقائی چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بین الاقوامی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
کونسل آف منسٹرز نے زیمبابوے کے صدر ایمرسن منانگاگوا کے خط، اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور یوکرائن کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ فون کالز کے مندرجات کا جائزہ لیا۔
وزیر تعلیم اور قائم مقام وزیر اطلاعات یوسف بن عبداللہ البنیان نے بتایا کہ کونسل نے علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کا جائزہ لیا۔ سعودی عرب خطے میں پرسکون حالات کے لیے سفارتی حل، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور عالمی معیشت کے استحکام کے لیے تنگہ ہرمز اور باب المندب میں آبی راستوں کی حفاظت کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی سربلاپ میں کن ممالک نے شرکت کی؟ اس سربلاپ میں سعودی عرب، جمہوریہ ترکی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے شرکت کی۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، صدر رجب طیب ارطغرل اور وزیر اعظم شہباز شریف کی کوششوں کی تعریف کی۔
سہ فریقی سربلاپ کا مقصد کیا تھا؟ سربلاپ کا مقصد دفاعی شراکت داری کے طویل مدتی فریم ورک کو مضبوط بنانا تھا تاکہ تعاون اور ہم آہنگی بڑھے۔ اس کا مقصد علاقائی چیلنجوں کا مقابلہ کرنا اور بین الاقوامی امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
کونسل آف منسٹرز نے کن بین الاقوامی رابطوں کا جائزہ لیا؟ کونسل نے زیمبابوے کے صدر ایمرسن منانگاگوا کے خط کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور یوکرائن کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ فون کالز کے مندرجات پر غور کیا گیا۔
سعودی عرب عالمی معیشت کے استحکام کے لیے کیا اقدامات کر رہا ہے؟ سعودی عرب خطے میں سفارتی حل اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ وہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے تنگہ ہرمز اور باب المندب میں آبی راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر کام کر رہا ہے۔